بریکنگ نیوز
Home / کالم / کو بنے گا کرکٹ چیمپئن؟

کو بنے گا کرکٹ چیمپئن؟

آج آئی سی سی چیمپینز ٹرافی کا فائنل ہے کیا پاکستان اسے جیت پائیگا ؟ کسی کو بھی یقین نہ تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک بھی پہنچ پائیگی اور بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد تو جیسے اس کا مورال کافی ڈاؤن ہو گیا تھا لیکن پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے بارے میں کرکٹ کے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ دنیا کی سب سے زیادہ Unpredictable ٹیم ہے کبھی تولہ تو کبھی ماشہ کبھی عرش پر ہوتی ہے تو کبھی فرش پر‘ جس طریقے سے اس نے اس ٹورنامنٹ میں کم بیک کرکے اپنے آپ کو فائنل تک پہنچایا وہ اس کا خاصا تھا خوشی کی بات یہ ہے کہ حسن علی کے روپ میں اسے ایک اچھا فاسٹ باؤلر مل گیا ہے اور فخر اور بابر اعظم کی شکل میں دو جواں سال نہایت ہی ٹیلنٹڈ بلے باز اظہر علی بھی کافی میچور ہو گیا ہے سرفراز ایک اچھا وکٹ کیپر بلے باز ثابت ہوا ہے فائنل کا رزلٹ جو بھی آئے اچھی بات یہ ہے کہ وہ آئی سی سی چیمپینزٹرافی کے فائنل تک تو پہنچ گئی کہ جس کا کوئی دور دور تک امکان ہی نہ تھا اب پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کی تمام تر توجہ آئندہ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ پر مرکوز ہونی چاہئے کہ جو 2019ء میں ہو گا اس ملک میں کرکٹ کا کافی ٹیلنٹ موجود ہے جب آئی سی سی چیمپینز ٹرافی کے میچوں کے سلسلے کا آغاز ہوا تو کئی کرکٹ کے مبصرین یہ کہہ رہے تھے کہ اب کی دفعہ یہ ٹرافی یا تو بھارت جیتے گا اور یا پھر انگلستان پاکستان تو کسی شمار میں تھا ہی نہیں یہ تجزیہ کافی حد تک درست تھا کیوں کہ خدا لگتی یہ ہے کہ آج دنیائے کرکٹ میں خصوصاً محدود دورانیے کے کرکٹ میچوں میں جنہیں عرف عام میں ففٹی ففٹی یا ٹوینٹی ٹوینٹی کہا جاتا ہے۔

ان دو ٹیموں سے بہتر کوئی ٹیم نظر نہیں آتی لیکن تجزیہ کار یہ بات بھول گئے کہ کرکٹ کو چانس کی گیم بھی تو کہا جاتا ہے اور پھر محدود اوورز کے میچوں میں تو جو ٹیم بھی پچاس اوورز میں اپنی مدمقابل ٹیم سے بہتر بیٹنگ اور باؤلنگ کرلے وہ ہی مقدر کا سکندر بن جاتی ہے ٹیسٹ کرکٹ اور محدود اوورز کے کھیل میں زمین آسمان کا فرق ہے موجودہ آئی سی سی ٹرافی کے اب تک ہونے والے میچوں کو دیکھ کر آپ کو یقیناًیہ اندازہ تو ہو گیا ہو گا کہ آسٹریلیا کی موجودہ ٹیم میں آج گلکرسٹ ‘ میتھیو ہیڈن‘ مارک وا‘ شین وارن‘ میگرا‘جانسن ‘ چیپلز‘ ایلن بارڈر اور رکی پونٹنگ جیسے کھلاڑی نظر نہیں آ رہے اسکی نئی پود میں جو کھلاڑی دکھائی دے رہے ہیں ان کو ابھی میچور ہونے میں کچھ وقت لگے گا یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا کی ٹیم موجودہ آئی سی سی کے ٹرافی ٹورنامنٹ میں اچھے کھیل کا مظاہرہ نہ کر سکی یہی حال جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیموں کا بھی ہوا جہاں تک سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کاتعلق ہے۔

ایک دور تھا کہ اس میں کمار سنگاکارا‘ جے سوریا‘جے وردھنے ‘مرلی دھرن‘ واس جیسے کھلاڑی موجود تھے وہ یکے بعد دیگرے جب ریٹائرہوئے تو انکی جگہ جن کھلاڑیوں نے لی وہ ان کے صحیح نعم البدل اب تک ثابت نہیں ہو سکے بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم نے گزشتہ چند سالوں میں کافی پھرتی کا مظاہرہ کیا ہے اس کے نوجوانوں میں کرکٹ کے ساتھ بلا کی محبت پائی جاتی ہے جہاں تک بھارتی ٹیم کا تعلق ہے تو اسکی موجودہ بیٹنگ لائن کافی مضبوط ہے اسکے پاس اچھے باؤلروں کی ایک کھیپ بھی موجود ہے خصوصاً سپنرز میں اشون اور جدیجہ کا جواب نہیں اگر ٹنڈولکر‘ ڈریوڈ‘ لکشمن ‘ سہواگ جیسے بلے باز ریٹائر ہوئے تو اسے روحیت شرما‘ شیکھردھون‘ کوہلی‘ رائنا‘ یوراج کی شکل میں اچھے نعم البدل بلے باز مل گئے ہیں ہمارے جواں سال بابراعظم کے بارے میں کرکٹ مبصرین کہتے ہیں کہ اگر اس کی مناسب گرومنگ ہوتی رہی تو وہ جاوید میاں داد ‘ گواسکر اور ٹنڈولکر کے پائے کا بلے باز بن سکتا ہے۔