بریکنگ نیوز
Home / کالم / دشنام طرازی زور پکڑ رہی ہے

دشنام طرازی زور پکڑ رہی ہے

زبانی جمع خرچ‘ دشنام طرازی اور ایک دوسرے پر لعن طعن کی حد تک ملک کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان گھمسان کا رن پڑ چکا ہے وہ ایک دوسرے کے خاندانوں اور پرکھوں کو بھی بخش نہیں رہے عرصہ دراز سے پی ٹی آئی والے پی پی پی اور (ن) لیگ کے رہنماؤں کے بارے میں یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ یک جان و دو قالب ہیں اندر سے آپس میں ملے ہوئے ہیں اب یہی بات بلاول بھٹو‘ (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کے بارے میں جواب آں غزل کے طور پر کہہ رہے ہیں کون اندرون خانہ کیا ہے ؟ کون بظاہر کیا ہے اور اندر سے کیا ہے اس کا پتہ تو اس وقت چلے گا جب الیکشن کے لئے سیاسی پارٹیاں صف بندیاں کریں گی ادھر الیکشن کمیشن نے ان ذاتی اثاثوں کے گوشواروں کی تفصیلات شائع کر دی ہیں کہ جو پارلیمنٹ کے اراکین نے اس کے ہاں جمع کرائی ہیں اس حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس اس بات کا اختیار ہے کہ وہ ذرا حفظ ما تقدم کے طور پر ان تفصیلات کی مختلف تحقیقاتی اداروں کے ذریعے جانچ پڑتال کر سکے کہ ان میں کس نے کہیں غلط بیانی کا سہار ا تو نہیں لیا؟ اپنے تمام اثاثہ جات کی تفصیل جمع کرائی ہے یا ا ن میں کہیں ڈنڈی ماری ہے ؟ ہم میں سے کوئی بھی دودھ سے دھلاہوا نہیں ہرشے کا ڈبل چیک ہونا چاہئے اور اگر تحقیقات کے ذریعے ثابت ہو جائے کہ کسی رکن پارلیمنٹ نے اپنے اصلی اثاثہ جات الیکشن کمیشن کو نہیں بتلائے تو پھر قانون میں یہ گنجائش ہونی چاہئے کہ اس پرتاحیات اسمبلی کا الیکشن لڑنے پر پابندی لگا دی جائے پھر یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اسمبلی کا رکن بننے سے پہلے اس کی مالی پوزیشن کیا تھی اور پانچ برس اسمبلی کا رکن رہنے کے بعد اس کی مالی حالت میں کتنی بہتری آئی ہے ؟ الیکشن مہم کے دوران ہر امیدوار ایک خاص فکسڈ رقم سے زیادہ سے پیسے اشتہاربازی پوسٹروں وغیرہ پر خرچ نہیں کر سکتا دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ اس مختص رقم سے کئی گنا زیادہ اپنی الیکشن کی مہم پر خرچ کر ڈالتا ہے اور الیکشن کمیشن اسے پوچھتا تک نہیں ہر سال وقت مقررہ پر ہر رکن اسمبلی کو اپنے ذاتی اثاثوں کی تفصیل یاگوشوارہ الیکشن کمیشن کے ہاں جمع کرانا ہوتا ہے اگر اراکین اسمبلی اس مقصد کیلئے مقرر شدہ تاریخ کا بالکل خیال نہیں رکھتے ‘ ۔

بھارت میں بھی کسی زمانے میں الیکشن کمیشن کے منہ میں دانت نہ تھے لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ بھارتی الیکشن کمیشن میں مسٹر گل نامی ایک سکھ کا بطور چیئرمین تقرر ہوا کمال کی بات یہ ہے کہ وہ پولیس کا ریٹائر آئی جی تھا اس نے اپنے دور میں الیکشن کمیشن کو اتنا مضبوط بنایا اور ایسے ایسے قوانین پاس کروائے اور پھر اتنے بے رحمانہ طو رپر ان پر عمل درآمد بھی کروایا کہ کسی رکن اسمبلی کی جرات نہ تھی کہ وہ ان کی خلاف ورزی کر سکے جب حکومت مسٹرگل کو الیکشن کمیشن کا چیئرمین بنا رہی تھی تو اس نے اس عہدے کو قبول کرنے کی یہ شرط رکھی کہ انکے کام میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا اگر کسی کو اس سے شکایت ہو تو عدالت عظمیٰ بے شک جا سکتا ہے لیکن ایسا کبھی بھی وہ یہ برداشت نہیں کرے گا کہ کوئی سیاست دان اس پر سیاسی دباؤ ڈال کر اسے کسی غلط اور غیر قانونی کام کرنے پر مجبور کرے ہمیں بھی آج اس قسم کے ایک افسر کی ضرورت ہے الیکشن کمیشن کی مثال اس عمارت کی پہلی اینٹ ہے کہ جس پر پارلیمانی نظام کو کھڑا کیا جاتا ہے اور اگر کسی عمارت کی پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھ دی جائے تو اس کا پھر دھڑام سے گرنے کا ہروقت خدشہ موجود رہتا ہے اگر کسی دیوار کی پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھ دی جائے تو پھر وہ دیوار اوپر تک ٹیڑھی ہی بنے گی پہلے تو یہ ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن میں کسی کو بھی چیئرمین سے لیکرنیچے تک کسی اہلکار کو سیاسی بنیادوں پر تعینات بالکل نہ کیا جائے دوسری بات یہ ہے کہ ریٹرننگ افسروں کو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے وقت سخت قینچی چلانے کی ضرورت ہے ایسے لوگوں کے کاغذات نامزدگی قبول ہی نہیں کرنے چاہئیں کہ جن کا ماضی کسی طور بھی داغدار ہو اور تیسری بات یہ کہ اس ادارے کو مزید مضبوط بنانے کیلئے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے ۔