بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاست‘ کھیل اور سیاست!

سیاست‘ کھیل اور سیاست!

پاکستان کی تاریخ کا اہم میچ ہو رہا ہے جس میں ایک طرف سیاسی ٹیم کے کھلاڑیوں میں مسلم لیگ ن‘ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی جبکہ غیرسیاسی ٹیم میں سپریم کورٹ اور جی ایچ کیو ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں! سردست صورتحال یہ ہے کہ نواز لیگ مشکل میں پھنسی ہوئی ہے لیکن ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ مسلم لیگ کو نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو بلکہ اس سے قبل 1997ء میں جب اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو توہین عدالت کے حوالے سے ایک پیشی کا سامنا تھا جب 2014 ء میں تحریک انصاف نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا تھایا پھر 2016-17ء میں جب ’ڈان لیکس کی صورت انکشافات سامنے آئے تھے اور رواں مشکل بیرون ملک اثاثہ جات‘ مشکوک آمدنی اور سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے جاری پانامہ کیس کی سماعت ہے‘ جس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں کہ نواز لیگ اس مشکل سے خود کو کس طرح بچا پاتی ہے!ملک میں جاری اس سیاسی کھیل کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہے قریب چالیس برس قبل آئین پاکستان تخلیق کرتے ہوئے ’ریاست‘ کے اختیارات کو تین اداروں پر مشتمل ایک نظام میں تقسیم کر دیا گیا قانون سازادارے‘ عدلیہ اور ایگزیکٹوز (نوکرشاہی)۔ اگر ہم گزشتہ چھتیس برس کے دوران ریاست کے اِن تینوں ستونوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ افسرشاہی نے اختیارات اپنے پاس مرکوز کر لئے ہیں اور نوکرشاہی چاہے یونیفارم پہنی ہو یا نہ ہو سیاسی حکمرانوں کے تابع سمجھی جا رہی ہے جنہوں نے زیادہ سے زیادہ اختیارات پر اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور سمجھتی ہے کہ عدلیہ اور افسرشاہی ان کے ماتحت ادارے ہیں۔ماضی میں جھانکتے ہیں‘ جب 1997ء میں سپریم کورٹ توہین عدالت کے ایک مقدمے کی سماعت کر رہی تھی۔ اس وقت کے وزیراعظم8 نواز شریف کو طلب کیا گیا جنہوں نے عدلیہ پر فتح پائی کیونکہ اُس وقت پیپلزپارٹی اور فوج کا ادارہ سپریم کورٹ کی مدد و حمایت کیلئے آگے نہیں آیا اور ’نواز لیگ‘ باآسانی سپریم کورٹ کو اندرونی طور پر تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئی!سال دوہزار چودہ میں تحریک انصاف کے احتجاجی دھرنے کا مقابلہ بھی نوازلیگ اِس لئے کامیابی سے کر پائی کیونکہ دیگر ریاستی کردار اس کی حمایت کر رہے تھے اور اگر ہم ’جی ایچ کیو‘ کی بات کریں تو اس نے اپنے آپکو اِس معاملے سے بظاہر لاتعلق رکھا اس دھرنے کے دوران ’نوازلیگ‘ داخلی طور پر متحد رہی۔ سال 2016-17ء میں ڈان لیکس منظرعام پر آئیں۔

یہ کھیل نواز لیگ اور فوج کے ادارے کے درمیان تھا۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے اِس صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششیں کیں لیکن نوازلیگ مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوگئی اور ’جی ایچ کیو‘ اپنے اصولی مؤقف سے ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔پاناما کیس کا کھیل شروع ہوا تو اس مرتبہ عدلیہ کا سامنا کرنیوالی ’نواز لیگ‘ کو مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑا اس مرتبہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی اپنے اپنے سیاسی مفادات کیلئے سپریم کورٹ کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ عدالت کا فیصلہ کسی حد تک واضح ہے لیکن کیا اِس موقع پرجی ایچ کیو بھی سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہوگی اس بات کے امکانات معدوم ہیں کہ جی ایچ کیونواز لیگ کے ساتھ کھڑی ہو۔سیاسی حالات تبدیل ہیں۔ پانامہ کیس بھی تحریک انصاف کے دھرنے سے مختلف ہے اور چاہے یہ بات تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن نواز لیگ سیاسی طور پر تنہا ہے اور داخلی سطح پر اِس کی صفوں میں انتشار اور دراڑیں دکھائی دیتی ہیں۔پاکستان کا موجودہ سیاسی منظرنامہ ماضی سے بڑی حد تک مختلف ہے اور یہی وجہ ہے کہ ’نواز لیگ‘ کو نتائج بھی ماضی کے مقابلے میں مختلف جھیلنے پڑیں گے۔ سردست ’نواز لیگ‘ کی مرکزی قیادت شریف خاندان کو مشکل درپیش ہے کہ وہ سپریم کورٹ کو کس طرح اطمینان دلائے اور پانامہ کیس سے سرخرو قرار پائے لیکن اگر وہ ایسا نہ کرپائے تو اِس مرتبہ وزیراعظم نوازشریف کے لئے اپنا عہدہ‘ ساکھ اور پارٹی بچانا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ کھیل ’خطرناک دور میں داخل ہو چکا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)