بریکنگ نیوز

امن کا چراغ


اگر ہمیں راہ چلتے ایک ایسا معمر شخص دکھائی دے جو قدم قدم چلتے ہوئے اپنے ایک ہاتھ میں ہمیشہ لالٹین تھامے ہو تو یہ منظر کیسا لگے گا؟ اکثریت سمجھے گی کہ اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں۔ دوسرے اسے دیوانہ سمجھیں گے کیونکہ وہ دن کی روشنی میں بھی لالٹین اٹھائے رہتا ہے۔ یہ تعارف شریف خان استاد کا ہے جن کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے اور جو حال ہی میں 81برس کی عمر میں فوت ہوئے۔ اُن کا نام گرامی ’شریف خان‘ تھا لیکن اُنہیں ’عزت افزائی‘ کے طور پر احتراماً ’استاد‘ کا لقب دیا گیا اور یہ لقب اُن کی پشتو زبان میں کی جانے والی فلسفیانہ شاعری کے اسلوب اور مفکرانہ خداداد صلاحیتوں کا اعتراف بھی تھا۔ شریف خان کو رحلت کے بعد حسوخیل گاؤں میں سپردخاک کر دیا گیا جو میرعلی کا سب ڈویژن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قبائلی علاقوں میں جاری کاروائیوں کے دوران ’حسوخیل‘ ایسے کئی دیہات میں سے ایک ہے جہاں عسکریت پسندوں نے اپنی طاقت کے مراکز قائم کر رکھے تھے جنہیں ختم کرنے کے لئے فوجی کاروائی ’ضرب عضب‘ جون دوہزار چودہ میں شروع کی گئی اور اس کاروائی کی وجہ سے حسوخیل سمیت دیگر دیہی علاقوں سے بھی مقامی افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی اور یہاں کے لوگوں کی ایک تعداد ایسی بھی تھی جنہوں نے نقل مکانی کرتے ہوئے افغانستان میں سکونت اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ چند ماہ قبل شریف استاد کا خاندان بھی اپنے گاؤں واپس آیا جنہوں نے بنوں میں زندگی کے مشکل ایام بسر کئے۔ شریف اُستاد فی البدیہہ شاعری کرنے میں مہارت رکھتے تھے اور صرف یہی ان کی وجہ شہرت نہیں تھی بلکہ اپنا کلام بلند و مترنم آواز میں پڑھنے اور سال دوہزار آٹھ سے ہر وقت اپنے ساتھ ایک عدد لالٹین اٹھائے رکھنا‘ انکی شخصیت کے حوالے تھے۔

وہ اکثر تنقید اور مزاح کا نشانہ بنتے لیکن ان کی ذات صرف الفاظ سے کھیلنے اور صرف ایک شاعر کی حد تک ہی محدود نہیں رہی تھی بلکہ ایک ہاتھ میں لالٹین اٹھائے وہ ایک فلسفیانہ عمل کا مظاہرہ بھی کر رہے تھے تاکہ ان کے گردوپیش میں دیکھنے والوں کو ’روشنی (امن)‘ کی اہمیت و ضرورت کا ادراک اور احساس رہے۔ شریف اُستاد کے نزدیک عسکریت پسندی کی مشابہت اندھیروں سے تھی جن سے نمٹنے کے لئے روشنی ایک استعارے کے طور پر اُنہوں نے عملاً پیش کی۔ شریف اُستاد ’عدم تشدد‘ کے فلسفے پر کاربند تھے اور وہ خدائی خدمتگار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کے پیروکاروں میں شامل تھے۔ وہ امن کے داعی تھے اور اُنہیں ہمیشہ اپنے علاقے کی تعمیروترقی کے لئے سوچتا‘ بولتا اور عمل کرتا پایا گیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ استاد شریف کی کوششوں سے میرعلی میں ڈگری کالج کا قیام عمل میں آیا کیونکہ وہ تعلیم کی اہمیت سے آگاہ تھے اور چاہتے تھے کہ تعلیم کے ذریعے شعور و بیداری عام کریں۔

شریف اُستاد اپنی شاعری کے اسلوب میں ’ملنگ‘ تھے۔ اُن کی شاعری عام فہم اور روزمرہ کے تجربات و دلچسپ حقائق پر مبنی ہوتی۔ وہ ایک سادہ زندگی بسر کرتے تھے جس میں اُن کی ذاتی ضروریات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ انہوں نے کبھی بھیک نہیں مانگی بلکہ برف اور پکوڑے بیچ کر اپنی مالی ضروریات کو پورا کیا۔ وہ اپنے حلیے سے بظاہر ایک ملنگ (لاابالی) دکھائی دیتے تھے لیکن درحقیقت گردوپیش اور حالات پر گہری نظر رکھنے اور سوچ سمجھ والے صاحب بصیرت انسان تھے‘ جن کی رائے خاص اہمیت رکھتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ وہ کسی بھی طور عام آدمی نہیں تھے۔ وہ روایتی طور پر تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن انہوں نے اردو عربی اور فارسی زبانیں بولنا سیکھ لی تھیں اور شیخ سعدی‘ مولانا رومی اور دیگر علمی ادبی و روحانی شخصیات کے اقوال انہیں ازبر تھے۔ جیسا کہ ہمارے معاشرے میں عموماً ہوتا ہے کہ جب تک کوئی فوت نہیں ہوجاتا اس وقت تک اس کی شخصیت اور خدمات کا اعتراف نہیں کیا جاتا اور یہی شریف استاد کے ساتھ بھی ہوا کہ انہیں اُن کی حیات میں پہچانا نہیں گیا اور نہ ہی رحلت کے بعد ہی سرکاری سطح پر اُنہیں اُن کی شخصیت کو خاطرخواہ خراج عقیدت پیش کیا جاسکا ہے۔ شریف استاد کے دو بیٹے ہیں جن میں شامل محب اللہ کو عسکریت پسندوں نے جاسوسی کے شبے میں ڈرائیونگ کے دوران قتل کر دیا تھا۔

ایک رنجیدہ باپ جب اپنے بیٹے کی قبر پر جاتا تو اکثر یہ کہتا تھا کہ ’’تم ایک بے وقعت (رائیگاں) موت مر گئے کیونکہ جس جرم میں تمہیں سزا دی گئی اُس کے عوض نہ تو تم مالی فائدہ اٹھا سکے اور نہ ہی تمہاری جاسوسی کی وجہ سے کسی کو نقصان پہنچا۔‘‘ مانا جاتا ہے کہ شریف اُستاد کو معلوم تھا کہ اس کے بیٹے کے قاتل کون ہیں لیکن وہ خاموش رہا کیونکہ وہ اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ یہ اُس دور کی بات ہے جب شمالی وزیرستان پر عسکریت پسندوں کا راج ہوا کرتا تھا اور وہ امریکہ یا پاکستان کے لئے جاسوسی کرنے کے شبے میں اکثر اسی طرح لوگوں کو قتل کر کے سڑک کنارے پھینک دیتے تھے تاکہ مقامی افراد عبرت پکڑیں اور کئی مرتبہ تو دیئے گئے ایک خاص وقت تک لاشوں کو اٹھانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی تھی۔ شریف استاد کے بیٹے کے قتل کے بعد لوگوں کی اُن سے ہمدردیاں بڑھ گئیں۔ اُن کے اشعار اور اقوال سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی لائق توجہ ہے کہ ایک مرتبہ جب آٹے کی قلت ہوئی تو شریف اُستاد نے منہ میں گھاس پکڑی اور دو بچوں کو باگیں تھما کر ایک جانور کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے ’اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ‘ کے دفتر جا پہنچا۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر انتظامی اہلکاروں نے اُنہیں پچاس بوری آٹے کا پرمٹ جاری کردیا جسے انہوں نے پھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کی مشکلات کا احساس دلانے اور اُنہیں آٹے کی قلت سے نجات دلانے کے درخواست گزار ہیں!
(بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)