بریکنگ نیوز
Home / بزنس / اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ 5 حصوں میں تقسیم؛ ٹھیکے دیدیے گئے

اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ 5 حصوں میں تقسیم؛ ٹھیکے دیدیے گئے

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ضرورتوں کے تناظرمیں تیار کرنے اور مغربی روٹ کی بر وقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

چیئرمین مزمل حسین قریشی کی زیرصدارت میں کمیٹی نے این ایچ اے اورموٹر وے کو سی پیک کیلیے دسمبر 2017سے پہلے نئی بھر تیاں عمل میں لانے کا کہا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے کہاکہ مغربی روٹ کی بر وقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔

قائمہ کمیٹی کووزار ت مواصلات کی جانب سے بتایاگیا کہ سی پیک کے تحت4ہزار کلومیٹرسے زیادہ نئے روڈ موجودہ دور حکومت میں بنائے جا چکے ہیں اورمغربی روٹ کی تکمیل کے بعد مزید2600کلومیٹرسڑک موٹروے میں شامل ہو جائے گی۔ اس کوکنٹرول کرنے کیلیے10ہزارنئے ملا زمین بھرتی کرنا ضروری ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیاکہ ویسٹرن روٹ کو 5 حصوں میں تقسیم کرکے ٹھیکیداروں کو کام دیدیا گیا ہے جن میں این ایل سی اور ایف ڈبلیو اوسمیت تمام ٹھیکے داروں نے کام شروع کردیاہے۔ کمیٹی نے موٹر وے پولیس کے اسپیشل الاؤنس سمیت دیگر امور فنانس ڈویژن کے ساتھ بیٹھ کر حل کرنے کے احکام جا ری کیے ہیں۔

ادھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات کو سیکریٹری پلاننگ کی طرف سے بتایا گیا کہ میگا پروجیکٹس میں ڈائریکٹرز کی تعیناتی ایکنک کرتی ہے حکومت نے ابھی تک کسی بھی منصوبے میں ڈائریکٹرز تعینات نہیں کیے جبکہ کمیٹی نے تمام منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرزکی فہرست طلب کر لی۔

اجلاس چیئرمین عبدالمجید خانان خیل کی زیر صدارت ہوا۔ سیکریٹری منصوبہ بندی نے کہاکہ سی پیک منصوبوں میں پروجیکٹ ڈائریکٹرنہ لگانے میں کوئی حکمت ہو گی، کمیٹی کو بتایا گیا کہ این اے 73 میں الیکٹریفکیشن کا کام جو لائی 2017 تک مکمل ہوجائے گا، کمیٹی میں دیامر بھاشاڈیم پربھی بریفنگ دی گئی۔