بریکنگ نیوز
Home / کالم / کرکٹ ٹیم کا شاباش

کرکٹ ٹیم کا شاباش

پاکستان میں بے حد کرکٹ کا ٹیلنٹ موجود ہے ذرا سوچئے تو ہمارے ہاں قومی سطح پر کرکٹ کا کوئی تسلی بخش انفراسٹرکچر نہیں‘ عرصہ دراز سے بیرونی ٹیمیں پاکستان کا دورہ نہیں کر رہیں کہ وہ ڈرتی ہیں کہ کہیں ہم پاکستان جا کر دہشت گردوں کا شکار نہ ہو جائیں لہٰذا ہمارے کرکٹ کے گراؤنڈ ویران پڑے ہیں ہمارے جواں سال کرکٹرز کو دنیا کے اچھے اچھے کرکٹ کے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا اتنا موقع نہیں مل رہا کہ جتنا بھارت ‘ سری لنکا‘ ویسٹ انڈیز‘ بنگلہ دیش‘ نیوزی لینڈ ‘ انگلستان اور آسٹریلیا وغیرہ کی کرکٹ ٹیموں کو مل رہا ہے لیکن ان کمیوں کے باوجود ہم آئی سی سی کرکٹ ٹرافی ٹورنامنٹ کے چیمپئن بن جاتے ہیں ذرا سوچئے کہ اگر ہم میں یہ کمیاں نہ ہوں کہ جن کا ذکر ہم نے اوپر کی سطور میں کیا ہے تواس صورت میں ہمار ا کرکٹ کی دنیا میں اس سے اونچا مقام ہو کہ جو اب ہم نے حاصل کر لیا ہے پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے اپنے عمدہ کھیل سے ان تمام کرکٹ کے مبصرین کے اندازے غلط ثابت کر دیئے کہ جو ہمیں کسی شمار میں ہی نہیں لاتے تھے ان کا خیال تھا کہ بھارت اور انگلستان میں سے کوئی ٹیم آئی سی سی چیمپیئن شپ ٹرافی 2017 جیت جائے گی پاکستان کو اس ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچ میں بھارتی ٹیم کے ہاتھوں ایک دھچکا ضرور لگا لیکن اس دھچکے سے ہمارے کھلاڑیوں کی آنکھیں کھل گئی تھیں اور اس ابتدائی میچ کے بعد پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے اپنے تمام میچ جیت کر کرکٹ کے مبصرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا یہ بات خوش آئند ہے کہ ہمیں تقریباً تمام ایسے قابل اعتبار کھلاڑی مل گئے ہیں کہ جو ابھی کافی جوان ہیں اور وہ اپنے ملک کیلئے آئندہ دس برس تک با آسانی کھیل لیں گے۔

مثلاً اوپننگ بلے باز فخر زمان اور اظہر ‘ ون ڈاؤن بابراعظم ‘ سرفراز ‘ حسن علی‘ شاداب‘ محمد عامر‘ عماد وسیم ‘ جنید خان وغیرہ اگر ہماری کرکٹ ٹیم آئندہ بھی اسی جذبے اور لگن اور محنت کا مظاہرہ کرتی ہے کہ جس کا مظاہرہ اس نے حال ہی میں انگلستان میں ہونے والے آئی سی سی چمپیئن شپ ٹرافی کے میچوں میں کیا تو اسے دنیا کی کوئی ٹیم مات نہیں دے سکتی ‘ بھارت کی موجودہ کرکٹ ٹیم کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کی بیٹنگ لائن بڑ ی مضبوط ہے لیکن ہمارے باؤلروں نے چونکہ نہایت عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کیا لہٰذا فائنل میچ میں وہ بھارت کی کرکٹ ٹیم کو چاروں شانے چت کرنے میں کامیاب رہے بھارتی کپتان ویرات کوہلی بڑا گرم مزاج شخص ہے اور اس کے چہرے سے رعونت بھی ٹپکتی ہے اور وہ دوسر ی کرکٹ ٹیموں کو خاطر میں ہی نہیں لاتا خصوصاً پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو تو ہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے گزشتہ اتوار کے دن جب پاکستان کے ہاتھوں اس کی ٹیم کو شکست ہوئی تو اس کے چہرے پر جو ندامت‘ غم اور افسردگی کے آثار نمایاں تھے وہ دیدنی تھے جس دن بھارت نے فائنل میں شکست کھائی تھی وہ رات کوہلی پر بڑی بھاری گزری ہو گی ا بہرحال اس فتح کے بعد ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں چاہئے ہمیں ابھی سے 2019ء کے ورلڈ کپ کی تیاری شروع کر دینی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ جس طرح 1992 میں ہم نے ورلڈ کپ جیتا اس کارنامے کو دوبارہ 2019ء میں دہرائیں سرفراز نے اپنا وہ وعدہ پورا کر دکھایا کہ و ہ عیدالفطر سے پہلے آئی سی سی کرکٹ ٹرافی جیت کر قوم کو ایک تحفہ دیں گے آج پورے پاکستان میں بالکل اسی طرح خوشی کا سماں ہے کہ جیسے 1992 میں تھا۔