بریکنگ نیوز
Home / کالم / افغانستان : امریکی مفادات اور پاکستان!

افغانستان : امریکی مفادات اور پاکستان!

امریکہ کو پاکستان کی اہمیت کا احساس ہونے کے باوجود بھی افغانستان کے محاذ پرقیام امن کی کوششوں میں نہ تو پاکستان پر بھروسہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی افغان سرزمین کا پاکستان کیخلاف استعمال روکنے کے لئے امریکہ بھارت کے عزائم کو بھانپ رہا ہے امریکہ کی قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری سٹیٹ ٹینا کیڈاناؤ نے کانگریس اجلاس کے دوران ایک موقع پر کہا کہ ’’انسداد دہشت گردی کے مسائل پر پاکستان امریکہ کا اِتحادی ہے اُور افغان طالبان کو اَمن مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اسکا کردار اہمیت کا حامل ہوگا۔‘‘ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدھر ناؤٹ کا کہنا ہے ’’امریکہ اور پاکستان کی خطے کے امن‘ سکیورٹی‘ ترقی اور بحالی میں قریبی شراکت داری ہے اور امریکی اور پاکستانی حکومتیں باہمی مفادات بشمول انسداد دہشت گردی پر مل کر کام جاری رکھیں گی۔‘‘ ایک سابق امریکی جنرل دوگلس لیوت نے بھی واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ ’’پاکستان کے حوالے سے اپنے مطالبات اور دیگر مفادات کو متوازن کرے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’دراصل ہمارے پاکستان میں کئی مفادات ہیں جو افغان طالبان سے نمٹنے میں ہمارے مفادات سے زیادہ اہم ہیں۔‘‘ یہ تین وہ اشخاص ہیں جو واشنگٹن میں پاک امریکہ تعلقات کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں اور امریکی حکام پر زور دیتے رہے ہیں کہ پاک‘ امریکہ تعلقات قائم اور زیادہ مضبوط رہنے چاہئیں۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے حق میں بلند ہونے والی یہ آوازیں متاثر کن نظر آتی ہیں جبکہ دوسری جانب کچھ امریکی پاکستان کو دہشتگردی کا کفیل ملک قرار دینا چاہتے ہیں جبکہ کچھ چاہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کی فوجی اور مالی امداد بند کر دے‘ اس کے علاوہ کچھ امریکی حکام چاہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کی سب سے اہم غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت بھی ختم کر دے اس معاملے پر زیادہ تر مباحثے کانگریس کمیٹیوں کی جانب سے منعقد ہوئے ان ہی اجلاسوں میں سے ایک اجلاس کے دوران امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹلرسن نے انکشاف کیا تھا کہ ’’انتظامیہ پاکستان کو دی جانیوالی امریکی امداد کی بین الایجنسی نظر ثانی کر رہی ہے۔‘

‘ امریکہ کا یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن پاکستان کیساتھ نہ تو اپنے تعلقات ختم کریگا اور نہ ہی اسے دہشت گردی کا مبینہ کفیل قرار دیگا بلکہ وہ پاکستان کی مالی امداد پر نئی سخت پابندیاں عائد کر دے گا۔ اس کے علاوہ واشنگٹن افغانستان میں ہونیوالے دہشتگرد حملوں کے جواب میں پاکستان میں ڈرون حملوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ امریکی کانگریس کے اجلاسوں کے دوران ہی اسسٹنٹ سیکرٹری کیڈاناؤ نے وضاحت کی تھی کہ آخر کیوں پاکستان کیساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کانگریس کو بتایا کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کے معاملات میں امریکہ کا اتحادی ہے اور افغان طالبان کو امن مذاکرات کی میز پر لانے میں بہت اہم ثابت ہوگا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نائن الیون کے حملوں کے بعد سے ان تعلقات میں ایک شرط واضح ہے اور وہ ہے ’ڈو مور۔‘ امریکی حکام پاکستان کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مبینہ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے رہے ہیں جو افغانستان میں امریکی فوجیوں‘ نیٹو فورسز اور افغان حکومت سے مسلح جنگ کر رہے ہیں۔

کیڈاناؤ نے بتایا کہ پاکستانی حکومت کو اعلیٰ سطح پر ان امریکی خدشات کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔ کانگریس میں ری پبلکن کے نمائندے ڈانا روہرابچر نے کیڈاناؤ سے سوال کیا کہ ’’امریکی انتظامیہ پاکستان کو دیئے جانے والے ہتھیار کو کس طرح صحیح ثابت کریگی؟‘‘ حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ نے آئندہ مالی سال دوہزار اٹھارہ کے بجٹ میں پاکستان کی فوجی امداد کو چھبیس کروڑ پچاس لاکھ ڈالر سے کم کر کے دس کروڑ ڈالر تک کر دیا ہے جس پر روہرابچرنے ناراضگی کا اظہار کیا ہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ’’امریکہ پاکستان کی فوجی امداد کو مکمل طور پر بند کر دے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم پاکستان کیلئے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کا آغاز کر رہے ہیں اور یہ امریکہ کی جنوبی ایشیاء کے لئے قومی حکمت عملی کی وسیع نظر ثانی کا حصہ ہے جس میں پاکستان‘ افغانستان اور دیگر ممالک شامل ہیں۔‘‘ اگر امریکہ پاکستان اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کر سکتا ہے تو پاکستان اور اِس کے خطے کے دیگر ممالک ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر طارق جواد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)