بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / دیوانے کا خواب!

دیوانے کا خواب!


اور جب کھیل سے پہلے ہی ہار مان لی گئی۔ خیبرپختونخوا میں نجی تعلیمی اداروں سے متعلق قانون سازی 23 مئی کے روز کی گئی‘ تاہم ابھی یہ قانون پوری طرح لاگو بھی نہیں ہو پایا تھا کہ صوبائی اسمبلی نے مذکورہ قانون میں متعدد ترامیم منظور کر لیں‘ جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اب صوبائی حکومت کسی بھی ایسے نجی سکول کو جزوی یا مکمل طور پر بند یا سربمہر نہیں کر سکے گی‘ جو صوبائی حکومت کے مقررہ کم سے کم معیار پر پورا نہیں اُتریگا اس ترمیم سے قبل قانون کے تحت متعلقہ حکام کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اگر کوئی نجی سکول معیار پر پورا نہیں اترتا تو اسکا اجازت نامہ منسوخ کرتے ہوئے اسے بند کیا جا سکتا تھا لیکن اِس شق کو تبدیل کرتے ہوئے قانون میں متبادل کے طور پر لکھ دیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کے مرتکب تعلیمی ادارے کیخلاف ’تعزیری کاروائی کی جائے گی! اس لمحہ فکر پر ’دو امور‘ لائق توجہ ہیں۔ نجی تعلیمی اِدارے ’مادرپدر آزاد‘ ہیں‘ جن پر حکومت یا سرکاری قواعد و ضوابط کا خوف طاری نہیں اور یہ خالصتاًکاروباری اَصولوں پر فعال ہیں اگر سرکاری سکولوں میں نظم وضبط اُور معیار تعلیم بلند ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ سرمایہ داروں کی یوں شعبۂ تعلیم پر اجارہ داری قائم ہوتی اور وہ اپنی اِس اجارہ داری کو برقرار رکھنے کے لئے عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرتے! جمہوریت اور قانون سازی کے عمل ہی کو یرغمال بنا لیا جاتا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی نجی تعلیمی ادارے کیخلاف ’حکومتی تعزیری کاروائی‘ کی کوئی ایک عملی مثال بھی موجود ہوتی تو نئی قانون سازی کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ عام آدمی کے نکتۂ نظر سے ’خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2017ء‘ کا شمار اُن اچھے قوانین میں ہو سکتا تھا‘ جن کا مقصد اجتماعی بہبود اور عوام کے مفادات کا تحفظ ہوتا لیکن صوبائی قانون ساز اسمبلی کی یہ شرمناک کارکردگی تاریخ کا حصہ رہے گی کہ پہلے قانون منظور کیا گیا اور پھر اسے لاگو کرنے سے قبل ہی غیرمؤثر کر دیا گیا یعنی قانون کے دانت نکال دیئے گئے جس سے بجا طور یہ تاثر عام ہوا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے اراکین نجی تعلیمی اداروں کے مفادات کے محافظ بن کر سوچ رہے ہیں اور انہیں نجی تعلیمی اداروں کی دن دیہاڑے کھلم کھلا لوٹ مار دکھائی نہیں دے رہی!ترمیم کے ذریعے خیبرپختونخوا کے نجی تعلیمی اِداروں کو اِس پابندی سے بھی آزاد کر دیا گیا ہے کہ وہ ایک سے زیادہ رشتہ دار بچوں کوٹیوشن فیس میں پچیس فیصد رعایت دیں گے۔ ترمیم کے ذریعے ’رشتہ دار (Kinship)‘ کی بجائے یہ رعایت صرف بہن بھائیوں کی حد تک محدود کر دی گئی ہے اگر قانون سازی عام آدمی کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہوتی اور آنکھوں میں دھول جھونکنا ہی مقصود نہ ہوتا تو ٹیوشن فیس میں رعایت پچیس کی بجائے پچاس فیصد مقرر کی جاتی۔ لائق توجہ امر یہ بھی ہے کہ پچیس فیصد رعائت صرف ’ٹیوشن فیس‘ کی مد میں دی گئی ہے اور نجی تعلیمی اداروں کو اِس بات کا پابند نہیں بنایا گیا کہ وہ ٹیوشن فیس مقرر کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ ٹیوشن فیس سے دیگر اخراجات کسی بھی صورت زیادہ نہیں ہوں گے۔

سردست اگر کوئی نجی سکول ٹیوشن فیس میں رعایت نہیں دیتا تو اس کے خلاف کاروائی صرف اسی صورت ممکن ہے جبکہ والدین یا سرپرستوں کی جانب سے شکایت درج کی جائے۔ دانستہ طور پر ایسا کوئی بھی طریقۂ کار قانون میں درج ہی نہیں کیا گیا جسکے تحت ’نجی اِداروں‘ کے انتظامی امور کی شفاف طریقے سے نگرانی ہو سکے بالخصوص نجی تعلیمی ادارے صرف مجبور والدین ہی کا نہیں بلکہ اساتذہ کا بھی اِستحصال کرتے ہیں نجی اداروں میں اساتذہ سے غلاموں اور لونڈیوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے اور بیروزگاری کے خوف سے اُن کے پاس سوائے یہ غیرقانونی بدسلوکی برادشت کرنے کے کوئی چارہ نہیں ہوتا! آخر یہ بات کیوں ممکن نہیں بنائی جا سکتی کہ کوئی بھی نجی سکول ٹیچنگ و نان ٹیچنگ سٹاف کی خدمات اور انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ بناء حکومتی منظوری نہیں کر سکے گااصلاح اَحوال و ارتقاء قوانین بنانے سے نہیں بلکہ قوانین و قواعد پر انکی روح کے مطابق بلاامتیاز ’عمل درآمد‘ سے ہوتا ہے۔