بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / صنعتی زون کیلئے ایک ہزار ایکڑ اراضی حاصل

صنعتی زون کیلئے ایک ہزار ایکڑ اراضی حاصل

پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے چائنہ نیشنل الیکٹرک انجینئرنگ کمپنی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مس لی نین ژو کی زیر قیادت کمپنی وفد نے وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں ملاقات کی اورکرنل شیر انٹر چینج کے قریب رشکئی کے مقام پر اپنی نوعیت کے پہلے وسیع صنعتی زون پر کام کے آغاز کی فزیبلٹی رپورٹ پیش کی نیز اپنی انجینئرنگ و تعمیراتی ٹیم کا ان سے تعارف کرایا جو اس عظیم الشان صنعتی و معاشی زون میں مختلف شعبوں اور تنصیبات کی تکمیل یقینی بنائے گی۔

اس موقع پروزیراعلیٰ کے مشیر برائے صنعت عبد الکریم خان، سیکرٹری صنعت فرح حامد، سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات سید شہاب علی شاہ ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار خان، صنعتی زونز کے انتظامی ادارے ازمک کے چیف آپریٹنگ آفیسر عادل صلاح الدین، پراجیکٹ ہیڈ محمد فیصل خان اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ زون کے لئے ایک ہزار ایکڑ اراضی حاصل کر لی گئی ہے جبکہ اس میں مزید رقبہ بھی شامل کیا جا رہا ہے ۔ زون کو تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا شروع میں ایک سو کارخانے جبکہ مجموعی طور پر دو سو کارخانے قائم ہو نگے جن میں سٹیل، ادویات، حلال خوراک، ٹیکسٹائل اور ہلکی و بھاری گاڑیوں کے پرزہ جات کی فیکٹریاں شامل ہیں۔

صنعتی زون کے اندر 50ایکڑ اراضی پر آئی ٹی سٹی بھی قائم کیا جائے گا جس میں ہارڈ اور سافٹ وئیر سمیت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مختلف قسم کی مصنوعات تیار کی جائیں گی۔ انڈسٹریل زون میں سب سے پہلے 225میگاواٹ کا گیس تھرمل بجلی گھر قائم کیا جائے گا جس سے کارخانوں کو سستی بجلی مہیا کی جائے گی۔ زون میں صوابی، مردان ، ہری پور اور نوشہرہ کے نوجوانوں کو روزگار کے 30ہزار براہ راست مواقع مہیا ہونگے جو بعد ازاں 70ہزار تک پہنچ جائیں گے۔وزیر اعلیٰ نے صنعتی زون پر کام جلد از جلد شروع کرکے بر وقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک منفرد منصوبہ ہے جس سے صنعتی اور پیداواری شعبے کی ترقی کے علاوہ روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونگے۔ ا

نہوں نے کہا کہ صوبے میں روزگار کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر اس طرح کے منصوبے ہماری ضرورت بن چکے ہیں۔ صوبے میں شعبہ صنعت کی بحالی اور سرمایہ کاری کا فروغ پورے خطے میں غربت اور بیروزگاری کے مسئلے کا واحد حل ہے۔ صوبے میں بیمار صنعتوں کی بحالی اور نئی صنعتوں کے تیز رفتار قیام کے لئے ایک آزاد اور با اختیار کمپنی ازمک بنا دی گئی ہے۔ حکومت صوبہ بھر میں 17صنعتی بستیاں پلان کر چکی ہے۔ ہزاروں ایکٹر اراضی پر مشتمل حطار اکنامک زون پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔حطار ، ڈی آئی خان اور رشکئی اکنامک زونز کو سی پیک سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ صوبے میں نئی صنعتوں کے قیام کیلئے قرضوں پر مارک اپ کی شرح میں پانچ فیصد رعایت دی گئی ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے صنعتی مراعات کو لازمی طور پر نئی صنعتی پالیسی کا حصہ بنا دیا گیا ہے جن میں قرضوں پر مارک اپ، صنعتی استعمال کیلئے بجلی کے نرخوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں رعایت کے علاوہ دیگر ضروری مراعات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مربوط کوششوں کے ذریعے خیبر پختونخوامیں سرمایہ کاری کا ساز گار ماحول قائم کر دیا ہے۔صوبہ بھرمیں ایک جامع اور متوازن ترقیاتی حکمت عملی کے تحت مختلف نوعیت کے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف چین بلکہ دنیا کے دیگر ترقیافتہ ممالک سرمایہ کاری کے لئے یہاں کارخ کر رہے ہیں اور بیشتر کے ساتھ معاہدے بھی ہو چکے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک خوشحال ، ترقیافتہ اور خود کفیل خیبر پختونخوا انکی منزل ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے تمام دستیاب وسائل اور صوبے کی قدرتی ذخائر کو بھرپور انداز میں بروئے کار لایا جا رہا ہے۔