بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستانی ادویات کی فروخت میں کمی

پاکستانی ادویات کی فروخت میں کمی

کراچی۔وسطی ایشیائی ممالک اور ویت نام سمیت متعدد ممالک نے پاکستانی ادویات خریدنی بند کردی ہیں جس کے نتیجے میں پاکستانی ادویات کی برآمدات 30 کروڑ ڈالر سے گھٹ کر 15 کروڑ ڈالر رہ گئی ہیں ۔ عالمی مارکیٹ میں بھارتی اور بنگلہ دیش کی ادویات کی مانگ سے پاکستان سے ادویات کی خریداری کرنے والے ممالک کی تعداد 60 سے کم ہوکر محض 20 ہوگئی ۔ فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوی ایشن نے برآمدات میں کمی کی ذمے داری ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے پیچیدہ نظا م پرعائد کردی ہے ۔

صدر مملکت ممنون حسین نے 6ماہ قبل ادویات کی برآمدات میں کمی کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت قومی صحت ، فارماسیوٹیکل مینوفیکچر ایسوسی ایشن ، ڈرگ ایکسپورٹرز ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام سے ملاقات کی تھی جس میں برآمدات 20کروڑ ڈالر تک لانے کاہدف مقرر کیا تھا اور وزار ت قومی صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کو ادویات کی برآمدات کیلئے سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے ۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ادویات کی برآمدات میں اضافے کیلئے کاغذی کارروائی اور اجازت نامہ جاری کرنے کیلئے کراچی ،لاہور ، اسلام آباد ، میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے ۔ وزارت قومی صحت کے ادویات کی برآمدات میں اضافے کیلئے کیے گئے اقدامات کے باوجود روا ں مالی سال ہدف کاحصول ناممکن ہوگیا ہے ۔اس ضمن میں چیئرمین پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن شیخ قیصر وحید نے بتایا کہ ادویات کی برآمدات میں کمی کی وجوہات میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ادویات کی برآمدات کیلئے اجازت نامہ ، رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ، تجارت کیلئے این او سی ، کے حصول میں تاخیر اور فیس میں اضافہ شامل ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایک دوائی کی برآمد کیلئے 20ہزار سے ایک لاکھ روپے تک فیس وصول کی جارہی ہے جبکہ برآمدات کیلئے رجسٹریشن اور اجازت نامہ کے حصول میں کئی دن لگ جاتے ہیں جس سے برآمدات میں کمی ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت اور بنگلہ دیش نے ادویات صنعت کو ترقی دینے کیلئے دس سال تک قرض دیا ہے ۔