بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سپریم کورٹ نے حسین نواز کی درخواست مسترد کردی

سپریم کورٹ نے حسین نواز کی درخواست مسترد کردی


اسلام آباد۔سپریم کورٹ نے حسین نواز کی تصویر لیک کرنے اور جے آئی ٹی کی جانب سے ویڈیو ریکارڈنگ کے خلاف درخواست مسترد کردی ہے جبکہ عدالت نے پانامہ جے آئی ٹی کے آئی بی پر الزامات کے حوالے سے اٹارنی جنرل سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت بنچ کی دستیابی سے مشروط کر کے عید کے بعد تک ملتوی کردی ، جبکہ دوران سماعت جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سپریم کورٹ غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی ۔

آرٹیکل اوسیاستدانوں کی تقاریر ہمارے زہینوں کو تبدیل نہیں کرسکتے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت کو ڈی ریل کرنے کی سوچیں بھی نہ ،اٹارنی جنرل خود ساختہ حکومتی ترجمانوں کو بتا دیں معاملے کو سنجیدہ لیں ،اب عدالت کو ڈی ریل کرنے کا سوچنا بھی نہیں، حکومت اپنے حق میں آرٹیکل چھپوا رہی ہے ،ہم نا بالغ نہیں سب سمجھتے ہیں خبروں کا مقصدکیا ہوتا ہے۔منگل کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ نے جے آئی ٹی کے آئی بی پر اعتراضات سے متعلق درخواست پر سماعت شروع کرنے سے قبل حسین نواز کی تصویر لیک اور ویڈیو ریکار ڈنگ سے کے حوالے سے درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا ، پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس اعجاز افضل نے پڑھ کر سنایا ، تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس مرحلے میں مداخلت کی ضرورت نہیں ہے ، ویڈیو ریکارڈنگ صرف ٹرانسکرپٹ کی درستگی کے لیے کی جا سکتی ہے۔

ویڈیو ریکارڈنگ ٹرانسکرپٹ کی تیاری کے لیے ضروری ہے،جب تک قانون نہیں بنتا ویڈیو ریکارڈنگ ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش نہیں کی جا سکتی، ویڈیو آڈیو ریکارڈ نگ کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنانے کے لیے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے ، انڈیا سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں اس حوالے سے قانون میں ترمیم کی جا چکی ہے ، آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کے عمل کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہیے ، دوران سماعت جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جس شخص نے تصویر لیک کی اس کی نشاندہی ہو چکی ہے،اس شخص کے خلاف کارروائی بھی ہوچکی ہے، ہم نے پہلے بھی رپورٹ پبلک کرنے کو کہا تھا لیکن اس معاملے پر اٹارنی جنرل نے اپنا موقف نہیں بتایا ۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ تصویر لیک کی تحقیقاتی رپورٹ پبلک کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، دوران سماعت دوران سماعت جسٹس اعجاز افضل کا مزید کہنا تھا کہ ویڈیو ریکارڈ نگ پر پابندی سے متعلق حسین نواز کی استدعا کا بغور جائزہ لیا ہے ،جائزہ لینے اور فریقین کو سننے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ شہادت کے طور پر پیش ہونے والے بیان کا دستخطوں کا تحریری ہونا ضروری ہے ، جے آئی ٹی کے آئی بی پر الزامات سے متعلق درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس اعجاز افضل نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گزشتہ سماعت پر آپکو عدالت کی معاونت کا کہا تھا ،آپ جے آئی ٹی کی درخواست پر تحریری جواب جمع کرائیں ،جے آئی ٹی کو تحقیقات آزادانہ کرنی چاہیے ۔

تحقیقات میں روڑے نہیں اٹکانے چاہیے ،جے آئی ٹی عدالتی حکم پر عملدرآمد کر رہی ہے ، اگر کسی کوکوئی اعتراض ہے تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرے ،جے آئی ٹی کو ہم نے تحقیقات کا کہا ہے ،عدالت غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سرکاری ادارے عدالت میں جواب دینے سے پہلے میڈیا پر بیان بازی کرتے ہیں ،یہ کوئی طریقہ نہیں ہے اس عمل کو میڈیا سرکس اور میڈیا ٹرائل کا حصہ نہ بنایا جائے ، اٹارنی جنرل خود ساختہ حکومتی ترجمانوں کو بتا دیں معاملے کو سنجیدہ لیں ،اب عدالت کو ڈی ریل کرنے کا سوچنا بھی نہیں ،جسٹس اجاز افضل نے کہا کہ آرٹیکل ، سیاست دانوں کی تقاریر ہمارے زہینوں کو تبدیل نہیں کر سکتی ،بہتر دلائل اور قانونی حوالوں سے ہی عدالت کی معاونت ہو سکتی ہے ،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ حکومت اپنے حق میں آرٹیکل چھپوا رہی ہے ، یہاں پر سب باشعور ہیں ہم نا بالغ نہیں کے خبروں کا مقصد نہ سمجھیں ، اگر ہم آج کے آخبارات دیکھیں تو پھر اٹارنی جنرل کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔

میڈیا والے تو اخبارات اور ٹی وی چینلز پر فیصلہ جاری کر چکے ہیں ، دوسرے پر انگلی اٹھانے کو اپنا دفاع نہیں کہا جاسکتا ، اٹارنی جنرل نے کہا ہم سب شعور کی منازل طے کر رہے ،ادارے نمو پا رہے ہیں ، اس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی کیس کی حدود و قیود طے کر رکھی ہیں ،پارلیمنٹرین کی تقاریر تبدیل نہیں ہوسکتی ،آپکو کتنا وقت درکار ہے جواب جمع کرانے کے لیے مہینوں کا وقت نہیں دیا جائے گا ،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ حکومت پر بھوج زیادہ ہوتا ہے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بھوج کے ساتھ حکومت کی ذمہ داری بھی زیادہ ہوتی ہے ،دوران سماعت تحریک انصاف کے فواد چوہدری پیش ہوئیے کہا کہ صرف گنتی کے پانچ لوگ جے آئی ٹی کو متنازعہ بنا رہے ہیں ،اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں ہمیں پتہ ہے سب پانچ لوگ نہیں آٹھ لوگ ہیں ،جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ان پانچ لوگوں میں آپ بھی تو نہیں جبکہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں یہاں بطور اٹارنی جنرل پیش ہو رہا ہوں اور دونوں اطراف کی نمائندگی کرتا ہوں ،عدالت نے اٹارنی جنرل کو آئی بی پر الزامات سے متعلق جے آئی ٹی کی درخواست پر جوات جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ یقینی بنایا جائے کہ جواب عدالت سے پہلے میڈیا کو نہ جائیں،اجس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو یقین دلاتا ہوں عدالت کے عزت و قار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ، بطور اٹارنی جنرل دونوں اطراف کو احتیاط کا کہتا ہوں، عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت بنچ کی دستیابی سے مشروط ہوگی،بنچ کی تشکیل چیف جسٹس کا اختیار ہے،عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت عید کی چھٹیوں کے بعد بینچ کی دستیابی سے مشروط کرتے ہوئے جے آئی ٹی کی درخواست پر سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردی واضع رہے کہ سپریم کورٹ نے 14جون کو حسین نواز کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔