بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ

ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ


یہ جو تیزی سے بھاگتا ہوا وقت ہے کوئی کوئی موسم ایسا آتا ہے جب لگتا ہے جیسے یہ رک گیا ہو گزارتے نہیں گزرتا جیسے بیمار کی رات ہو کسی صورت جب سویرا نہیں ہونے پاتا،( سحر نہ آئی کئی بار نیند سے جاگے)یا پھر بے چینی کے خواب سے جیسے کبھی آ نکھ کھل جائے اور پھر ساری رات کروٹیں لیتے گزرے
کھل گئی نیند اوّل شب میں
پھر تو پل پل عذاب تھا کل شب

بس ایسے ہی یہ سرپٹ بھاگتا ہوا وقت کبھی کبھی کسی کسی کیلئے رک جاتا ہے،کبھی تو اسے ایسا کرنے کا حکم ہوتا ہے کہ وہ راز و نیاز کی گھڑی ہو تی ہے اور کبھی اس وقت کو روک کر واپس آنے کو کہا جاتا ہے کہ کسی کی افسردگی نہیں دیکھی جا سکتی۔لیکن وہ کیفیات کچھ اور ہیں جن کے رمز جاننے کے لئے لمبی ریاضتیں بھی کام نہیں آتیں ہاں کوئی نظر کرم ہو جائے تو اور بات ہے۔ میں تو وقت کی اس ادا کی بات کر رہا ہوں جب یہ گزر رہا ہوتا ہے مگر لگتا ہے جیسے رکا ہوا ہے، یا پھر ایسی کیفیت پیدا کرتا ہے کہ دیر کی دیر میں حال سے اٹھا کر ماضی کے کسی لمحے میں پھینک دیتا ہے یہ خواب کی ہی ایک صورت ہوتی ہے مگر کھلی آنکھوں کا خواب جاگتی آنکھوں کا خواب پل کے پل آپ ایک پوری زندگی جی آتے ہیں اور دیکھا جائے تو اس ایک لمحے سے آگے نہیں بڑھے ہوتے،جب کہ حقیقت میں بھاگتا وقت کتنی ہی منزلیں آگے بڑھ جاتا ہے، میں نے اپنے بچپن کے ایک تاثر کو اپنے کسی افسانے میں لکھا ہے اور جو اب بھی رمضان کی با برکت ساعتوں میں چپکے سے میرے پاس آ بیٹھتا ہے اور میں آن کی آن اسی موسم کو اوڑھ کر بیٹھ جاتا ہوں،’’ ہمارے محلے میں تین مساجد تھیں(ہیں) ایک تو محلے کے اندر ہمارے گھر سے دو گھر مغرب کی طرف ایک محلے کے آخر میں مشرق کی طرف جس کے بعد ’’ خانوں کی گڑھی‘‘ شروع ہو تی ہے اسی مناسبت سے اس مسجد کا نام بھی ’’ خانوں کی مسجد ‘‘ پڑ گیا تھا، اور تیسری مسجد اس مسجد سے محض چند گز دور دریا کے کنارے تھی۔ باقی کے دو مساجد تو اس لحاظ سے آباد مسجد تھیں کہ پانچوں وقت اور جمعہ کی نماز کا اہتمام ہوتا اور دونوں مساجد میں ہر نماز میں نمازیوں کی ایک بڑی تعداد ہو تی تھی۔ محلے کے مسجد کا مؤذن و امام ایک بہت ہی نفیس اور خاموش طبع شخص تھا اس کا نام تو مجھے معلوم نہیں شاید کسی کو بھی نہیں پتہ ہو گا کہ چھوٹے بڑے سب اسے ’’ میاں صیب ‘‘ کہتے تھے۔مسجد ہی اس کا ٹھکانہ بلکہ اوڑھنا بچھونا تھی،ایسا صلح کل شخص میں نے کم کم ہی پھرہ کوئی اور دیکھا،غیر ضروری بات چیت، بحث مباحثہ یا اونچی آواز میں گفتگو سے کوسوں دور رہتا تھا، مسجد کے ایک گوشے میں وہ رہائش پزیر تھا ایک چھوٹا سا ’’ اسٹوو‘‘ اس نے رکھا ہوا تھا جس پر وہ اپنا کھانا پکاتا اور چائے بناتا تھا اس کو چائے بناتے میں نے بہت دیکھا ہے۔

جب وہ پتی اور چینی ایک کاغذ کے ٹکرے پر ڈال کر ان کو چمچ سے خوب مکس کرتا اور پھر اس خوب کھولتے پانی میں ڈال کر سٹوو کا شعلہ آہستہ کر لیتا بعد میں بہت کم دودھ ڈالتا تھا کبھی کبھی بغیر دودھ کے ہی پی لیتا تھا۔یہ چائے اس کی اپنی ضرورت کے مطابق ہو تی، ہم دو تین بچے ذرا فاصلہ پر بیٹھے اسے دیکھتے رہتے وہ رسمی طور پر ہمیں بھی پوچھتا مگر ہمیں معلوم تھا کہ اس نے اپنے لئے بنائی ہے لیکن ایک بار اس نے مجھے آدھا کپ چائے دی تھی ( جس کا ذائقہ میں اب بھی محسوس کر رہا ہوں) ایسی تیز کڑک والی چائے کم کم پینے کو ملی ۔شاید اس نے ابوالکلام آزاد کی غبار خاطر پڑھ رکھی تھی خیر میاں صیب شکر تو ڈالتے تھے مگر ابوالکلام آزاد توکہتے تھے کہ چائے میں شکر ڈال کر اس کا ذائقہ اور دودھ ڈال کر اس کا رنگ خراب نہیں کرتا چاہئے۔لذیز بود حکایت دراز تر گفتم اسی طرح دوسری مسجد میں بھی رونقیں رہتیں پھر جب رمضان المبارک کا برکتوں والا مہینہ آغاز ہوتا تو ان مساجد کی رونقیں دیکھنے لائق ہوتیں خصوصاََ جس رات ان مساجد میں ترایح میں ختم القران کا اہتمام کیا جاتا جس کا انتظار محلے کے سارے بچے پورا سال کرتے تھے۔ تراویح سے قبل اور بعد میں نعت خوانی ہوتی اور شیرینی تقسیم ہوتی اورچائے کا انتظام بھی ہوتا، لیکن ان دو مساجد کے بر عکس دریا ئے کابل کے کنارے والی مسجد میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا یہ مسجد چھوٹی سی مسجد تھی (ہے) جس کی چھت نہیں تھی بس تین اطراف میں چھوٹی چھوٹی قد آدم سے بھی بہت کم دیواریں، محراب ، ایک دیوار میں داخل ہونے کا صرف راستہ(دروازہ نہیں) پکا صحن جس کے وسط میں ایک گھنا درخت اورچوتھی طرف دریا میں اترتی ہوئی درجن بھر سیڑھیاں سردیوں میں جب دریا کا پانی کم ہو جاتا تو سیڑھیوں سے چند فٹ ادھر بہتا اور اس وقت نامعلوم وقتوں سے زیر آب رہنے والے ایک چشمہ اور حمام کی دیواریں نظر آ جاتیں جو اس مسجد کے عین سامنے ہیں گمان یہی ہے کہ پہلے پہل یہاں کوئی چشمہ تھا جہاں نمازی وضو کرتے ہوں گے تب دریا کی گزرگاہ شاید فاصلے پر رہی ہو گی، یا پھر حمام میں پردے کے انتظام کی وجہ سے لوگ باگ اسے پسند کرتے ہوں گے خیر اب تو صدیوں سے وہ زیر آب ہے، ہم لڑکپن میں جب تیراکی کرتے اس چشمہ کے اوپر پہنچتے تو اندازہ کرتے ہوتے اس کی دیواروں پر کھڑا ہونے کے کوشش کرتے اگر چہ تیز پانی ہمیں زیادہ دیر کھڑے ہونے نہیں دیتا مگر ساتھیوں میں واہ واہ ہوجاتی۔

یہ ایک خطرناک کھیل تھا اب سوچتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں البتہ گرمیوں میں جب پانی چڑھ جاتا تو یہ کھیل ختم یوں ہو جاتا کہ اس چشمہ کے کھنڈر پانی کے کہیں بہت نیچے چلے جاتے،ایک ایک کر کے سیڑھیاں ڈوبتی جاتیں اوردریا چڑھتا جاتااور پھر آخری سیڑھی تک پہنچ جاتا عام طور پر یہی اس کی حد تھی مگر کوئی کوئی موسم گرما ایسا بھی آتا کہ مسجد کا صحن پانی سے بھر جاتا ،ہفتہ بھر میں پانی پھر آخری سیڑھی تک اتر جاتا یہ وہ موسم ہو تا جب کوئی مسجد کے صحن میں درخت کے نیچے تربوز ڈھیر کر دیتا اور یار لوگ خریدتے پانی میں خوب ٹھنڈا کرتے اور پھر گھر لے جا کر نوشِ جاں کرتے،لیکن اس وقت ہم تربوز سے کچھ زیادہ بے تکلف نہ تھے اسلئے تربوز کھانے کیلئے باقاعدہ پروگرام بنتے مناسب وقت کا انتظار کیا جاتا کھانے سے کتنی دیر بعد چائے سے کتنی دیر پہلے کھایا جائے یہ بزرگ بتاتے تھے پھر آئے دن سننے میں آتا فلاں کی موت کا سبب تربوز کے بعد چائے پینا تھا یا کھانے کے فوراََ بعد تربوز کھانا تھا۔ یہ تو بھلا ہو افغان مہاجرین کا کہ وہ آئے اور قصہ خوانی میں برف لگے تربوز بکنے کا اور وقت کی قید سے آزاد کھانے کا رواج عام ہوا۔(آپ سے کیا پردہ میں اب بھی تربوز کھانے سے پہلے سو بار سوچتا ہوں اور کبھی خود خرید کر نہیں لایا ہوں)جب کہ ادھر ڈینور (امریکہ) میں افراز کے رات کے کھانے کا لازمی جزو تربوز ہے مگریوں سمجھئے میرے اندر کے کلاک پر میرے لئے وقت رک سا گیا ہے کیوں کہ جب چاہوں بڑی سہولت سے ماضی دریچے میں جھانک لیتاہوں مگر ذرا رکئے کہانی تو ابھی باقی ہے اقبال نے کہا تھا نا
گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیزاسے بار بار دیکھ