بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / اباسین کنارے

اباسین کنارے


ہفتہ کادن تھا اورہم اپنی چھٹی کے حوالہ سے پروگر ام ترتیب دیئے بیٹھے تھے کہ گیار ہ بجے دن کو فون بجا دوسری طرف سے برادرم میجر عامر گویا ہوئے یار آپ لوگوں نے تو مجھے بالکل بھلاہی دیاہے ہم نے عرض کی جناب ایسا کیسے ہوسکتا ہے مگر رمضان میں ہم نے دوسروں کو پریشان کرنے نہ کرنے کاجو فیصلہ کیا تھا اس کے تحت آپ کو بھی زحمت دینے سے گریز کی راہ اختیار کیے رکھی تاہم انہوں نے حکم دیا کہ فوراً پنج پیر پہنچو کیونکہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک مولانا طیب کادرس قرآن سننے آرہے ہیں اور میری خواہش ہے کہ اس موقع پر آپ بھی موجودہوں ساتھ ہی انہوں نے محتر م ناصرعلی سیدکو بھی لانے کی تاکید کی ذراگپ شپ بھی لگ جائے گی ،یہ میجر عامر کی محبت ہی ہے کہ انکے ہاں جب بھی کوئی اہم تقریب ہوتی ہے اورکوئی اہم مہمان آرہا ہوتا ہے تو ہمیں مدعو کرنا کبھی نہیں بھولتے چنانچہ ہمیں انتہائی اپنائیت سے آنے کاحکم دیا جسکے بعد اپنے سارے دیگر پروگرام فی الفور منسوخ کرناپڑے اور ناصر علی سیدکے ہمراہ عازم پنج پیر ہوئے برادرم عتیق الرحمان بھی ساتھ تھے پنج پیر میں درس قرآن کی برکات سمیٹیں بعد ازاں وہاں پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ،شہرا م خان اور اسدقیصر کیساتھ سیاست و حالات حاضرہ پرمحفل بھی سجی اسد قیصر کے ساتھ اس دور کی یادیں تازہ کیں جب ابھی سونامیں نہیں آیاتھا پھر جب فارغ ہوئے تو اچانک میجر صاحب نے تازہ فرمان جاری کیاکہ سب نیساپور چلیں گے اور افطار وہیں پر ہوگا اورپھر ہم کچھ ہی دیر میں اس گوشہء سکون میں بیٹھے اباسین کے ٹھنڈے پانی سے گرمی کو چاروں شانے چت کرنے میں مصروف تھے‘۔
۔
چارپائیاں پانی میں ہی ڈالی ہوئی تھیں پھر تھوڑی دیر بعدکشتی آئی اور ہم اباسین کے کنارے کنارے سیر کیلئے نکل پڑے راستے میں جابجا لوگوں کے گروہ در گروہ دیکھے جو پشاور اور دیگر شہروں کی گرمی سے پریشان ہوکر اباسین سے گلے ملنے پہنچے ہوئے تھے اگر دیکھاجائے تو اب تو رمضان المبارک بھی قریب الاختتام ہے جب روزوں کاآغازہوا تو گرمی کاسوچ سوچ کر لوگ تھوڑے سے پریشان ہورہے تھے کہ واپڈا کی مہربانیاں بھی جاری رہیں تو کیاہوگا مگر اللہ نے سب کوہمت دی بیچ میں کئی مواقع پر موسم خوشگوار بھی رہا ‘گرمی میں روزے رکھنا اگرچہ مشکل کام ہے مگر جن کے حوصلے اور عقیدے کمزور نہ ہوں تو انکو پریشانی ہرگزنہیں ہوتی ہمیں یاد ہے تیس برس قبل انہی دنوں میں رمضان کی مبارک گھڑیاں آیاکرتی تھیں ہم ان دنوں روزے رکھنے کے فرض سے ابھی آزاد تھے تاہم جب ہم نے روزے رکھنے شروع کیے تو وہ بھی گرمی ہی کاموسم تھا یوں کم ازکم ہم اپنے آپ میں حوصلہ ضرور پاتے ہیں اس باربھی اکثر منچلے دریاؤں کارخ کرتے رہے جب بھی دریا کا ذکر آتاہے تو اباسین ہماری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتاہے اور جب اباسین کاذکر ہو تو نیساہ پورکے بغیریہ ذکر ادھورا رہتاہے جہاں میجر عامر نے ایک گوشہء سکون بسا رکھاہے اوراسکے دروازے اپنے دل کی طرح ہر دوست کیلئے کھلے رکھے ہوئے ہیں گزشتہ برس انہوں نے اپنے چندقریبی دوستوں کیلئے شب مہتاب میں افطار کااہتمام کررکھاتھا مگر اس بار چودھویں کی رات گزر گئی تو کوئی دعوت نہ ملی توہماراماتھاٹھنکا کہ خداخیر کرے کیامیجر عامر اپنے دوستوں کوبھول گئے ہیں ۔

مگر پھرہفتہ کے روز انکی طرف سے محبت بھری دعوت آہی گئی اس روز اباسین کنارے دن کیسے گزرا کچھ پتہ ہی نہیں چلا ‘ کشتی کی سیر کے موقع پر میجر صاحب نے بتایاکہ سامنے کابیکارپڑا قطعہ اراضی بھی انہوں نے خرید لیاہے یوں نیساہ پور کی ایکسٹینشن کاارادہ ہے چونکہ تخلیقی و تعمیری ذہن کے مالک ہیں اسلئے انہوں نے جو پروگرام بتایا سن کر دل خوش ہوا‘ تاہم ہم نے ا س خدشہ کاجب اظہار کیاکہ بچے اورگھروالے بھلا اب ہمیں یہ تصاویر دیکھ کر کب معاف کریں گے تو میجر صاحب نے حسب عادت کہاکہ میری طرف سے انکو ایڈوانس میں دعوت ہے یہ حقیقت ہے کہ نیساہ پور آنے والے ہمیشہ پھر ا س کے آبادرہنے کیلئے دعاگو رہتے ہیں کیونکہ یہ وہ واحد گوشہ سکون ہے جس کے بنانے والے نے دیگر کی طرح بخل سے کام لیتے ہوئے اسے دوسروں کیلئے بندنہیں رکھا ہر دوست کیلئے اذن عام ہے محض سات سال میں لق دق و چٹیل میدان کو گل وگلزار بنانے کا فن صرف میجرعامر ہی جانتے ہیں اور پھر وہاں صرف گل بوٹے ہی خوشبو نہیں بانٹتے بلکہ وہاں پیار و محبت کی کلیاں بھی مہکتی ہیں ،گر می کے روزے ہوں اور اباسین کاکنارا ساتھ میں پرخلوص دوستوں کی محفل اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ہوں تو تھکے ہارے جسم اورمضمحل روح دونوں بحال ہوجاتے ہیں اور ہم جب وہاں رات گئے رخصت ہورہے تھے تو دل سے نیساہ پور اور اسکے بسانے والے کیلئے دعائیں نکل رہی تھیں ۔