بریکنگ نیوز
Home / کالم / قدر کھو دیتاہے

قدر کھو دیتاہے


کسی شاعر نے کیا خوب کہا’’ قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا‘‘ انسان کی عزت گھٹ جاتی ہے روز کے آنے جانے سے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے وزیراعظم صاحب سعودی عرب کے دورے سے لوٹے کہ ایک مرتبہ انہوں نے سعودی عرب کا پھر رخت سفر باندھ لیاگزشتہ ایک ماہ میں غالباً یہ ان کا اس ملک کا تیسرا دورہ ہے ‘ اس وقت یہ ملک اندرونی اور بیرونی مسائل میں بری طرح گھیرا ہوا ہے ان کے پیش نظر ملک کے سربراہ کو قطعاً یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ دس روز تک سعودی اور انگلستان کے دورے پر ہوں اور ملک سے غیر حاضر رہیں ۔ جہاں تک ان کے دل کے عارضے کا تعلق ہے اس ملک کے اندر ایک سے بڑھ کر دل کا تگڑا معالج بیٹھا ہوا ہے اگر ان کو دل کی کوئی تکلیف ہے تو ان ڈاکٹروں سے استفادہ کرنے کے بجائے بیرون ملک ڈاکٹروں کے پاس جانا بھلا کونسی ذہانت ہے ؟ جن سیاسی پارٹیوں میں دوسری پارٹیوں کے منحرف کارکن شامل ہو رہے ہیں ان کے قائدین کو خوشی سے پھولے نہیں سمانا چاہئے کیونکہ ان آنے والوں کی مثال بھلے وہ کتنے ہی سیاسی طور پر مضبو۱ط کیوں نہ ہوں بے وفا عاشق جیسی ہے کہ جو بیچ منجدھار اپنی محبوبہ کو سمندر میں تلاطم کے حوالے کرکے خود ساحل پر چلا جاتا ہے اس قسم کے لوگوں سے کسی وفا کی امید رکھنا اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے انہی فصلی بٹیروں نے اس ملک کی سیاست کو گندہ کیا ہے اور تبدیلی کی راہ میں یہی لوگ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

جوں جوں الیکشن نزدیک آئے گا یہ فصلی بٹیرے اس منڈیر پر بیٹھنے کی کوشش کریں گے کہ جہاں انہیں زیادہ سے زیادہ دانے چگنے کو ملے کی امید ہو گی اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب یہ فصلی بٹیرے کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہوتے ہیں تو اس پارٹی کے معاملات پر چھا جاتے ہیں اور الیکشن کے وقت اسمبلیوں کیلئے ٹکٹ بھی انہیں کو مل جاتے ہیں اور وہ پارٹی ورکرز جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں اپنی پارٹی کا ساتھ دیا ہوتا ہے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں‘ عدالت اور سیاست میں کافی فرق ہے یہ کیا ملک ہے یہ کیسا کلچر ہے کہ عدالت کے اندر ابھی کیس چل رہا ہوتا ہے ابھی اس کا فیصلہ ہونے میں کافی وقت ہوتا ہے اور یار لوگ ہر پیشی کے بعد عدالت کے احاطے کے باہر بلا ناغہ اپنی اپنی دکان سجا کر ٹیلی ویژن کیمرے کے سامنے آ کر جو جی میں آ تا ہے کہہ جاتے ہیں اور عوام کے ذہن میں ایک کنفیوژن پیدا کر دیتے ہیں ۔

یہ بھی اس ملک کا اب سیاسی کلچر لگتا ہے کہ یار لوگ باتوں باتوں میں عدالتوں کو بھی تڑی دینے لگے ہیں اس طرح سے اگر کوئی ریاستی اداروں کی تذلیل کرے گا تو پھر تو ملک میں انارکی ہی پھیلے گی اس طریقہ کار سے تو نئی نسل کی بڑی غلط انداز میں ذہنی تربیت کی جا رہی ہے سینئر قانون کے ماہرین کی رائے میں ججوں کو بھی مقدمات کی پیشیوں کے دوران کبھی بھی ارادتاً یا غیر ارادتاً ایسے ریمارکس قطعاً پاس کرنے نہیں چاہئیں کہ جن سے سننے والوں کو رتی بھر یہ تاثر ملے کہ ان کا میلان کیا ہے ان کو اگر بولنا ہے تو وہ صرف اپنے تحریری فیصلوں کے ذریعے بول سکتے ہیں۔لگے ہاتھوں ان نجی اثاثہ جات کا بھی کچھ ذکر ہو جائے کہ جو ہمارے اراکین پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے ہیں ان کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں اکثریت اب ماشاء اللہ کروڑ پتیوں اور ارب پتیوں کی ہے اب اس ملک میں سیاست غریبوں کا کھیل نہیں رہا اب اس میدان میں صرف وہی قدم رکھ سکتا ہے اس اکھاڑے میں وہی گھس سکتا ہے کہ جس کے پاس دولت کی ریل پیل ہو ۔