بریکنگ نیوز
Home / کالم / ناقابل شکست!

ناقابل شکست!

اوول کی تاریخی کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان نے ’آئی سی سی‘ چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میچ میں اپنے روایتی حریف بھارت کو عبرت ناک شکست دے کر ٹرافی جیت لی اور اگلے ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے لئے بھی کوالیفائی کرلیا۔ اٹھارہ جون کے روز بھارت کی ٹیم اپنی فتح کے جشن کی تیاریاں کرتے ہوئے اوول کی گراؤنڈ میں اتری اور بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی مگر پاکستانی ٹیم کے اوپنرز فخرزمان اور اظہرعلی نے ہی بھارت کے آگے رنز کا پہاڑ کھڑا کرکے اس کا جیت کا نشہ ہرن کردیا اور اسے جیت کے سہانے سپنوں کی جگہ دن میں تارے نظر آنے لگے۔ چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کی فتح اس لئے بھی یادگار اور مثالی ہے کہ اس نے نہ صرف پہلی بار چیمپیئنز ٹرافی حاصل کی بلکہ فائنل میچ میں اپنے روایتی حریف بھارت کو شکست دی جس کے ساتھ کھیلتے ہوئے پوری قوم کے دل اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ دھڑک رہے ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان پورا ٹورنامنٹ ہار جائے تو قوم کو اتنا دکھ نہیں ہوتا جتنا بھارت سے کوئی میچ ہارنے پر دکھ ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں بھارت سے کوئی میچ جیتنے پر پاکستانی قوم کی خوشی بھی دوچند ہوجاتی ہے۔ یہ تو فائنل میچ تھا اس لئے اس میچ کے دوران قوم کا شوق اور جوش و جذبہ دیدنی تھا اور ملک بھر میں جشن کا سماں تھا۔

قوم کے ہر فرد نے یہ میچ یکجہت ہو کر دیکھا اور اپنے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر انہیں کھل کر داد دیتے اور اپنی خوشی کے اظہار کے لئے روایتی انداز میں بڑھکیں مارتے اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے اور لڈیاں ڈالتے رہے۔ یہ میچ سیاست دانوں‘ جرنیلوں‘ بیوروکریٹس‘ تاجروں‘ صنعتکاروں‘ کسانوں‘ مزدوروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی تمام شخصیات سمیت قوم کے ہر خاتون و مرد اور بچوں نے یکسوئی کے ساتھ دیکھا جبکہ اوول کی گراؤنڈ میں موجود پاکستانیوں نے جوش و جذبے کے
مختلف انداز اختیار کرکے اپنے کھلاڑیوں کو دل کھول کر داد دی۔

پاکستان نے کرکٹ کے میدان میں پچیس سال بعد کوئی بڑا ایونٹ جیتا ہے۔ 1992ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے عمران خان کی قیادت میں پہلی بار ورلڈ کپ جیت کر پاکستان کی دنیا بھر میں سرخروئی کا اہتمام کیا تھا اور اب پچیس سال بعد سرفراز کی قیادت میں پاکستان نے چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت کو ناقابل یقین شکست دے کر وطن عزیز کو دنیا میں سربلند و سرفراز کیا ہے جس پر بلاشبہ ٹیم کا ہر کھلاڑی سول سیاسی‘ عسکری اور عدالتی قیادتوں سمیت پوری قوم کی مبارکباد کا مستحق ہے جنہوں نے قوم کو عید سے پہلے عید کا بڑا تحفہ دیا ہے۔ سوئے اتفاق کہ پاکستان کو کرکٹ کے میدان میں ورلڈ کرکٹ کپ کی صورت میں 1992ء میں بھی بائیسویں رمضان المبارک کو کامیابی حاصل ہوئی اور اب چیمپیئنز ٹرافی کی صورت میں بھی بائیسویں رمضان المبارک کو ہی سرخروئی حاصل ہوئی ہے جبکہ دونوں عظیم مواقع پر پاکستان میں میاں نوازشریف کی حکمرانی بھی اسی حسنِ اتفاق کے زمرے میں آتی ہے۔ عمران خان نے اپنی قیادت میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دنیا کی بے مثال ٹیم قرار دیا۔ صدر مملکت‘ وزیراعظم اور دوسرے قومی سیاسی قائدین کے علاوہ چیف جسٹس آف پاکستان اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے بھی پاکستان کرکٹ کو دل کھول کر داد دی۔

کیا یہ کم خوشی کی بات ہے کہ ہماری جو کرکٹ ٹیم علاقائی اور عالمی ٹورنامنٹس میں پے در پے شکستوں کے باعث چیمپیئنز ٹرافی اور ورلڈ کرکٹ کپ سے عملاً باہر ہو چکی تھی اور اس کی کارکردگی گلی محلوں کی ٹیموں سے بھی خراب نظر آتی تھی‘ اس نے چیمپیئنز ٹرافی میں اپنا پہلا ہی میچ ہارنے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور انگلینڈ‘ جنوبی افریقہ‘ سری لنکا جیسی تجربہ کار و منظم ٹیموں کو شکست سے ہمکنار کرتے ہوئے فائنل میں مضبوط ترین ہونے کے زعم میں مبتلا بھارت کو بھی اس طاقت کے ساتھ پچھاڑا کہ وہ آئندہ طویل عرصے تک اپنے زخم چاٹتا رہے گا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم چیمپیئنز ٹرافی کے لئے میدان میں آئی تو عالمی کرکٹ رینکنگ میں وہ آٹھویں نمبر پر تھی اور آج وہ سرخرو ہو کر واپس آئی ہے تو عالمی رینکنگ میں چھٹی پوزیشن پر آچکی ہے جس کا اب کوالیفائنگ میچ کے بجائے براہ راست ورلڈ کپ کھیلنا بھی یقینی ہوگیا ہے اور ہمارے نوجوان کرکٹروں نے یہ ثابت کردیاہے کہ وہ صرف پاکستان کے لئے کھیلنے کے جذبے کے ساتھ میدان میں اتریں تو اپنے ہر حریف کو پچھاڑ سکتے ہیں اور بھارت کو پچھاڑنے کا تو مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے جس نے اپنی سازشوں کے تحت پاکستان کے لئے عالمی اور علاقائی کرکٹ کے دروازے بند کرانے کی بھونڈی کوشش کی مگر آج اس کی تمام سازشیں اور مکاریاں اس کے منہ پر تھپڑ کی طرح آن پڑی ہیں ۔

اور آج دنیا بھر میں نوجوان پاکستانی کرکٹروں کی ستائش و پذیرائی ہورہی ہے جس سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ کرکٹ پر سیاست نہ کی جائے‘ اس میں سفارشی کلچر حاوی نہ ہونے دیا جائے اور میرٹ پر ’’ینگ بلڈ‘‘ کو لا کر اس کی مناسب ٹریننگ کی جائے تو یہ ہونہار نوجوان کرکٹ کے میدان میں پاکستان کا سر کبھی نیچا نہیں ہونے دیں گے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عزیز بھٹی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)