بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / پاکستان کی شاندار فتح

پاکستان کی شاندار فتح


پاکستان نے کرکٹ چیمپئن ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو 180کے بھاری سکور سے شکست دے کر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہے۔ٹورنامنٹ کے آغاز پر کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ پاکستان فائنل تو کجا سیمی فائنل کیلئے بھی کوالیفائی کرسکے گا۔ پاکستانی ٹیم کے بارے میں پائے جانیوالے اس عمومی تاثر کی وجہ جہاں پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی تھی وہاں دفاعی چیمپیئن بھارت، برطانیہ، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز ،سری لنکا اور جنوبی افریقہ جیسی مضبوط اور دیو ہیکل ٹیموں کے سامنے پاکستان کی ٹیم بونا نظر آ رہی تھی۔ ویسے بھی عالمی رینکنگ میں آٹھویں پوزیشن کی حامل ایک ٹیم سے فائنل میں پہنچ کر دنیا کی بہترین اور اس ٹورنامنٹ کی ہارٹ فیورٹ ٹیم کو بیٹنگ،باؤلنگ اور فیلڈنگ کے تینون شعبوں میں یوں آؤٹ کلا س کرنے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔گروپ میچز میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں جس عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ااس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بھی عام تاثر یہی تھا کہ پا کستان کیلئے بھارت کو پچھاڑنا تقریباً ناممکن ہوگا ۔اسی طرح ٹاس کے حوالے سے بھی شروع سے یہ بات کہی جا رہی تھی کہ جو ٹیم ٹاس جیتے گی اس کے جیتنے کے امکانات مدمقابل ٹیم سے کم از کم پچا س فیصد زیادہ ہوں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے اکثر کرکٹ ماہرین اس بات پر متفق تھے کہ پاکستان کو ٹا س جیت کر پہلے بھارت کو کھیلنے کی دعوت دے کر اپنی نسبتاً بہتر باؤلنگ اور فیلڈنگ پر انحصار کرتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈال کر اسے کم از کم رنز تک محدود رکھنے کی مدافعانہ حکمت عملی اپنانی چاہئے لیکن یہ خواہش اس وقت ہوا میں تحلیل ہوگئی جب ٹاس کی دیوی بھارت پر مہر بان ہوئی اور بھارت نے پاکستان کے خلاف وہی جوابی حکمت عملی اپنائی جو پاکستان نے ٹاس جیتنے کی صورت میں مرتب کی تھی۔

ٹاس کا ہما بھارت کے سر بیٹھنے کے بعدجب پاکستانی بیٹسمین بوجھل قدموں کے ساتھ میدان میں نکلے تو ہرکسی کا دل دھڑک رہا تھا کہ نہ جانے پاکستانی بیٹنگ لائن کا کیا حشر ہوگا اور ایسے میں جب پاکستانی اوپنر فخر زمان آٹھ رنزپرکیچ دینے کے باوجود نوبال کی وجہ سے پویلین لوٹنے سے بچ گئے تو اس سے پاکستانی بلے بازوں کا مزید دباؤ میں آنافطری امر تھا۔لیکن جب آہستہ آہستہ فخر زمان اور اظہر علی نے اپنا اعتماد بحال کر کے جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے تیزی سے رنزبنانا شروع کئے اور بیس اوورز میں سو کا ہندسہ پار کر لیا تو اس سے نہ صرف پاکستانیوں کی جان میں جان آئی بلکہ ان میں یہ جذبہ بھی موجزن ہوا کہ اگر پاکستانی بیٹنگ لائن اسی اعتماد کے ساتھ کھیلتی رہی تو وہ ایک متوازن سکور بنانے کی پوزیشن میں بھی آ جائیگی۔ یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن کے مقابلے میں پاکستان کی حیثیت بظاہر بہت کمزور تھی لیکن فخر پاکستا ن فخر زمان کے تین چھکوں اور بارہ چوکوں کی مدد سے بننے والی سینچری اور اظہر علی اور محمد حفیظ کی نصف سینچریوں نے پاکستان کو 300پلس کانسبتاً محفوظ ٹارگٹ دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔45اوورز کی تکمیل پر جب پاکستان کا سکورتین سو رنز کی نسبتاً محفوظ سطح تک پہنچ چکا تھا اور پاکستان کی چھ وکٹیں ابھی باقی تھیں تو عام تاثر یہ تھا کہ پاکستانی ٹیم 350کا ہندسہ با آسانی عبور کر جائے گی اور اس طرح بھارت کو سات رنز فی اوور کا نسبتاً مشکل ہدف دے کر پاکستان اگر جیتنے کی نہیں تو کم از کم ایک بہتر مقابلے کی پوزیشن میں ضرور آجائے گا۔

لیکن بھارتی باؤلروں نے آخری چار اوروں میں پاکستانی بلے بازوں کو جس طرح باندھ کر رکھا اس سے 350کا ہدف تو حاصل نہ ہوسکا البتہ 338کے سکور کے بارے میں ماہرین یہ رائے دیتے ہوئے ضرورسنے گئے کہ پاکستانی باؤلروں اور فیلڈرز نے روایت سے ہٹ کراگر کوئی بہتر اور مثالی کارکردگی دکھائی بھی تو اس سے پاکستان فائنل تو شاید پھر بھی نہیں جیت سکے گا البتہ اس سے یہ میچ قدرے دلچسپ ضرور ہوجائے گا۔یہ تجزیئے اور تبصرے اس وقت دھول بن کر ہوا میں اڑنے لگے جب محمد عامر نے اپنے پہلے اوور کی دوسری گیندپر روہیت شرما کوصفر پر آؤٹ کر کے بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن میں پہلاشگاف ڈالا۔بھارتی ٹیم ابھی اس سانحے سے سنبھل نہیں پائی تھی کہ اسے ویرات کوہلی کے آؤٹ ہونے کی صورت میں دوسرے بڑے نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔بھارت کو یہ شدید جھٹکا اس وقت سہنا پڑا جب ویرات کوہلی کا ایک نسبتاً آسان کیچ اظہر علی سیکنڈ سلپ میں ڈراپ کرچکے تھے۔ لیکن چونکہ اس میچ میں قسمت بھارت کی بجائے پوری طرح پاکستانی ٹیم پر مہربان تھی اس لئے ویرات کوہلی کو ملنے والی یہ نئی زندگی ان سے اس وقت دوبارہ چھین لی گئی جب وہ اگلی ہی گیند پر محمد عامر کے بال پر شاداب کے ہاتھوں ایک قدرے مشکل مگر خوبصورت کیچ پر آؤٹ ہو گئے ۔در اصل یہی وہ اہم مرحلہ تھا جب بھارت کی شکست کی بنیاد پڑ گئی تھی ۔بھارت کے حصے میں اس کے بعد صرف ایک موقع ایساآیا جس کی بنیاد پر بھارتی ٹیم سنبھل سکتی تھی، وہ موقع پانڈیاکی جارحانہ بیٹنگ تھی جس نے شاداب کے ایک اوور میں تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 24رنز بنائے۔لیکن چونکہ شاید کروڑوں روزہ داروں کی دعائیں اپنا اثر پوری طرح دکھا رہی تھیں اس لیئے پانڈیا بھر پور فارم میں ہونے کے باوجود جس بری طرح سے رن آؤٹ ہوئے بھارتی قوم اس لمحے کوشاید ساری عمر نہیں بھلا پائے گی۔حرف آخر یہ کہ اس تاریخی اور عظیم الشان فتح نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اگرحوصلے،اعتماد اور ٹیم سپرٹ کے ساتھ کھیلا جائے تو دنیا کی کوئی بھی ٹیم پاکستانی کھلاڑیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔