بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بجلی کی قیمتوں میں کمی اور عوامی شکایات

بجلی کی قیمتوں میں کمی اور عوامی شکایات


پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ملک میں کہیں بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ وطن عزیز میں بجلی کی طلب17 ہزار689 جبکہ پیداوار14 ہزار977 میگاواٹ ہے اس طرح شاٹ فال کا حجم2 ہزار712 میگاواٹ ہے دوسری جانب نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں 1 روپے90 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دی ہے یہ کمی ماہ مئی میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے ۔ قیمتوں میں کمی سے عوام کو19 ارب روپے کا ریلیف ملے گا یہ ریلیف عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی کی بناء پر دیا گیا ہے ۔ وفاقی وزیر کے ٹوئیٹر پر پیغام میں دیئے گئے اعداد وشماراور نیپرا کی جانب سے صارفین کو ریلیف دونوں قابل اطمینان ضرورہیں تاہم دوسری طرف عام آدمی کی شکایات سے صرف نظر ممکن نہیں یہ شکایات لائن لاسز کی بناء پر اضافی لوڈشیڈنگ پر بھی ہیں ‘ ترسیل کے نظام میں خرابیوں پر بھی ہیں ‘ تکنیکی خرابی دور ہونے میں تاخیر پر بھی ہیں تو غلط ریڈنگ کی بناء پر ملنے والے بھاری بلوں کی درستگی کیلئے ٹھوکریں کھانے پربھی ہیں حکومت کو عوامی شکایات کا ازالہ کرنے اور اپنے اقدامات ثمر آور بنانے کیلئے صرف اعداد وشمار پیش کرنے پر اکتفا سے گریز کرنا ہو گا۔

قومی ادارے اسلئے نہیں بنائے گئے کہ وہ صرف قوم کو یہ بتاتے رہیں کہ شاٹ فال کتنا ہے اور کتنا بڑھے گا اداروں کا کام عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو ریلیف کا احساس دلانا ہے گردشی قرضوں کے خاتمے سے لیکر بجلی کی پیداوار میں اضافے کیلئے حکومتی اقدامات ریکارڈ کا حصہ ضرور ہیں تاہم یہ بات بھی ریکارڈ سے ہٹائی نہیں جا سکتی کہ خیبر پختونخوا میں لوگوں نے سڑکوں پر آ کر احتجاج کیا ہے بدقسمتی سے بہت سارے شعبوں میں ہم اصلاحات کے نتائج دینے سے قاصر رہتے ہیں اس کی بنیادی وجہ ہماری منصوبہ بندی کا تکنیکی مہارت سے عاری ہونا ہے بجلی کی پیداوار تقسیم اور ترسیل کے حوالے سے یہ منصوبہ بندی کسی تقسیم کار کمپنی کے دائر ہ اختیار میں نہیں آتی توانائی بحران بہت بڑا قومی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کیلئے بہت سارے آپشنز موجود ہیں ان پر قومی قیادت کو یکجاہو کر حکمت عملی طے کرنا ہو گی تاکہ لوگوں کو تبدیلی کا خوشگوار احساس ہو۔

بس کے ساتھ دیگر منصوبوں کی تکمیل؟

وزیراعلیٰ کی جانب سے رپیڈ بس منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل سے متعلق وارننگ قابل اطمینان ہے ‘ وزیراعلیٰ اس سے پہلے حیات آباد میں فلائی اوور کا کام بھی ٹائم فریم کے اندر یقینی بنا چکے ہیں دوسری جانب اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ صوبائی دارالحکومت کی تعمیر و ترقی سمیت دیگر کئی منصوبے اپنی تکمیل اور عوامی ریلیف کا ذریعہ بننے کے منتظر ہیں صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کیلئے موثر ٹریفک پلان کی ضروت ہے ہسپتالوں میں تعمیراتی کام کئی کئی سال سے جاری ہے جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے سیوریج سسٹم میں بہتری اور اسے پلاسٹک شاپنگ بیگز سے آزاد کرنے کا کام ابھی باقی ہے اس کیساتھ خدمات کی فراہمی کے اداروں کی جانب سے سروسز کا معیار بہتر بنانا بھی ضرور ی ہے سرکاری سیٹ اَپ میں بھی دفتری امور نمٹانے کے لئے ٹائم پیریڈ ناگزیر ہے ۔ اس سب کے ساتھ دفتری امور کو جدید سافٹ وئیرز پر لانا بھی ضرور ی ہے ۔ اگر حکومتی اعلانات تاخیر کا باعث ہی بنتے رہے تو عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں ملے پائے گا۔