بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پلاسٹک مصنوعات کی تیاری کا راستہ بند ٗ رولز تیار

پلاسٹک مصنوعات کی تیاری کا راستہ بند ٗ رولز تیار

پشاور۔خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں غیر تحلیل ہونے والے پلاسٹک مصنوعات عائد پابندی کو مؤثر بنانے کے لیے رولز تشکیل دے دئیے جن کے نفاد کے ساتھ ہی صوبہ بھر میں غیر تحلیل شدہ non bio degredable پلاسٹک اشیاء کی درآمد‘ بنانے ‘ فروخت اور رکھنے پر سخت پابندی عائدہوگئی ہے ۔

اب صوبے میں صرف تحلیل ہونے والے پلاسٹک bio degradableہی کی اجازت ہوگی ‘ قانون کی پاسداری نہ کرنے والوں کو 50ہزار سے 50لاکھ روپے تک جرمانہ اور دو سال قید ہوگی ‘ اس امر کا اعلان محکمہ ماحولیات نے ایک سرکاری اعلا ن میں کیا جسکے مطابق غیر تحلیل ہونے والے پلاسٹک اشیاء سے ماحولیات پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے چنانچہ پابندی کے اعلان کے بعد اب اس حوالہ سے رولز تشکیل دے دیئے گئے ہیں جو فی الفورنافذالعمل ہونگے رولز کے نفاذ کے ساتھ صوبہ بھر میں غیرتحلیل شدہ موادسے تیارہونے والی پلاسٹک مصنوعات پرپابندی عائدہوگئی ہے ۔

اب نہ تو یہ مصنوعات تیارہوسکیں گی نہ ہی انکی تقسیم ،خریدوفروخت اوردرآمدکی اجازت ہوگی جبکہ اس حوالہ سے ماضی میں جاری شدہ تمام اجازت نامے بھی منسوخ تصورہو ں گے رولز کے تحت اب یہ کاروبار بغیررجسٹریشن کے نہیں ہوسکے گا جبکہ تمام مصنوعات پر اوکسو بائیو ڈی گریڈیبل تحریر کرنا لازمی ہوگا واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے شوکت یوسفزئی کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی جس میں لوکل گورنمنٹ ‘ ماحولیات اور محکمہ قانون کے سیکرٹریز ‘ کمشنر پشاور‘‘ ڈی جی ماحولیات ‘ چیمبر صدر اور تاجروں کے نمائندے شامل تھے ‘ کمیٹی نے کئی ماہ تک جائزہ لینے کے بعد قانون سازی کی سفارش کی جب قانون سازی ہوگئی تو کمیٹی نے تجویز کیا کہ غیر تحلیل شدہ پلاسٹک اشیاء پر پابندی عائد کی جائے۔

اس کی وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپریل میں منظوری دیدی ‘ اور اب اس حوالہ سے رولز بھی بنادیئے گئے ہیں جس کے بعد تمام ڈپٹی کمشنرز بازاروں میں جا کر سمپل اکٹھا کریں گے ماحولیات ڈیپارٹمنٹ نے ٹیسٹنگ لیبارٹری کی مشینری درآمد کرلی ہے لوگوں کو تربیت بھی دے دی گئی ہے جو بھی کارخانہ اب پلاسٹک بنائے گا وہ اس پر اپنا لوگو ضرور لگائے گا تاکہ پتہ چل سکے کہ بنانے والا کون ہے