بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / قوم کی نظریں پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ پر ہیں، سراج الحق

قوم کی نظریں پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ پر ہیں، سراج الحق


اضا خیل۔ امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ عدالتوں نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے دیئے ہیں، پوری قوم کی نظریں پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ پر ہیں، خدارا سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کی بجائے عدل و انصاف کے مطابق فیصلے کرے ورنہ عوام ہوں گے اور ظالموں کے گریبان ہوں گے،ایک طبقے نے سیاست، جمہوریت اور ایوانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، فراڈ جمہوریت ہے، یہ جمہوریت کے نام پر جھوٹ بولتے ہیں۔

ملک پر سٹیٹس کو مسلط ہے، فوجی حکومتوں نے بھی سٹیٹس کو کو مضبوط بنایا اور نام نہاد جمہوری حکومتوں نے بھی اسی کو فروغ دیا، ہم اس سٹیٹس کو کو توڑنا چاہتے ہیں اور اس کے خلاف بغاوت اور جہاد کا اعلان کرتے ہیں، اسمبلیوں اور حکومت کی مدت پانچ سال سے کم کر کے 4سال کی جائے، ہم الیکشن سے پہلے انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں، ملک میں قرآن و سنت کی بالادستی کے لئے تحریک چلائیں گے اور محب وطن عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کو جمع کروں گا، اس حکومت کے ہوتے ہوئے عوام خوشحال نہیں ہو سکتے، خیبرپختونخوا ،سندھ اور بلوچستان میں ترقی نہ ہونے کی وجہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے، وزیراعظم جہاں جاتے ہیں، قومی وسائل کو رشوت کے طور پر استعمال کرتے ہیں،حکمرانوں نے مودی کو گریبان سے پکڑنے کی بجائے ان کو لاہور بلا کر سری پائے کھلائے اور آموں کے تحفے دیئے، ہماری حکومت سرجیکل سٹرائیک صرف اپنے عوام پر ہی کر سکتی ہے،بھارتی حکومت کبوتروں سے ڈرتی ہے اور ہماری حکومت ان سے ڈرتی ہے ،وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کریں اور ظالم اور کرپٹ حکومتوں کے خلاف ووٹ کی طاقت کو استعمال کریں۔

اسلامی نظام کے لئے ملک میں بندوق کی نہیں بلکہ ووٹ اور عوام کی طاقت کی ضرورت ہے، خیبرپختونخوا حکومت میں شامل اپنے وزراء سے کہتا ہوں کہ وہ صوبے میں پرائمری سکولوں کی سطح پر اسلامیات کے معلم کی پوسٹ کو دوبارہ بحال کرائیں اور اردو کو دفتری زبان کے طور پر رائج کرائیں، اگر خیبرپختونخوا حکومت یہ نہیں کرتی تو حکومت چھوڑ دیں، حکومت میں شامل رہنا ہماری مجبوری نہیں ہے، 2018ء میں خیبرپختونخوا میں اسلامی حکومت قائم ہو گی۔ جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے زیراہتمام ہونے والے دو روزہ اجتماع عام کے اتوار کو دوسرے روز پہلے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ہم پاکستان کو اسلامی پاکستان بنانے کے لئے گھروں سے نکلے ہیں۔ قائداعظم نے 114 بار اپنی تقریروں میں پاکستان کے مستقبل کو اسلام سے وابستہ کیا تھا۔ وہ پاکستان جس کے لئے اتنی جدوجہد کی گئی اس کا نظریہ آج کہیں نظر نہیںآتا۔ 70 سال بعد ہمارے وزیراعظم اعلان کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم ایک سیکولر اور لبرل پاکستان چاہتی ہے۔

سیکولر ازم اور لبرل ازم کی بات کرنے والے اللہ اس کے رسول شہدائے تحریک پاکستان اور قائداعظم سے غداری اور بے وفائی کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہماری کھلی لڑائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر قابض حکمران ٹولے نے پاکستان کو امریکہ کا اصطبل بنا دیا ہے۔ یہ وہ غدار ٹولہ ہے جو میر جعفر اور میر صادق کے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ آج پاکستان میں غریبوں کو انصاف نہیں ملتا۔ نام نہاد عدالتیں قائم ہیں۔ 19 سال بعد جب ایک جوان کو سپریم کورٹ نے بے گناہ قرار دیا تو پتہ چلا کہ اس کو دو سال قبل پھانسی دی جا چکی ہے۔ یہ کس طرح کی عدالتیں ہیں ان سے ہمیں انصاف نہیں مل سکتا۔ عدالتوں نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے دیئے ہیں۔ ملک میں غریبوں کے بچوں کے لئے قائم تعلیمی اداروں میں چارٹ ٹاٹ اور پنکھے میسر نہیں اور کسی وزیر کا بیٹا سرکاری سکول میں نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طبقے نے سیاست، جمہوریت اور ایوانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، فراڈ جمہوریت ہے، جمہوریت کے نام پر جھوٹ بولتے ہیں، یہ کیسی جمہوریت ہے کہ جس شخص نے نوازشریف کے خلاف پارٹی انتخابات میں صدارت کے لئے کاغذات جمع کرائے اس کو جلسے میں بیٹھنے کے لئے کرسی بھی نہیں ملی۔

سراج الحق نے کہا کہ ملک پر سٹیٹس کو مسلط ہے، فوجی حکومتوں نے بھی سٹیٹس کو کو مضبوط بنایا اور نام نہاد جمہوری حکومتوں نے بھی اسی کو فروغ دیا۔ ہم اس سٹیٹس کو کو توڑنا چاہتے ہیں اور اس کے خلاف بغاوت اور جہاد کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لے لے کر پوری قوم کو مقروض بنا دیا ہے۔ 3 سالوں میں 19 ارب ڈالر کا قرضہ لے کر ہماری آئندہ نسلوں پر قرضوں کے کوہ ہمالیہ کھڑے کر دیئے گئے ہیں۔ یہ قرضے صرف حکمرانوں کے بچوں کی جائیدادیں اور بینک بیلنس بڑھانے کے کام آ رہے ہیں۔ حکمرانوں نے پاکستان کو اندھیروں کی طرف دھکیلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی 64 فیصد زمین پر صرف پانچ فیصد طبقے کا قبضہ ہے جبکہ 63 فیصد عوام کے پاس ایک انچ بھی زمین نہیں۔ ہماری حکومت آئے گی تو کسانوں کو زراعت کے لئے مراعات اور سبسڈی پر بجلی دیں گے۔

پاکستان کا 35 فیصد پانی ضائع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے 1970ء سے پیپلزپارٹی کو مینڈیٹ دیا لیکن سب سے زیادہ غربت سندھ میں ہے۔ بلوچستان کے سرداروں نے عوام کو تعلیم سے محروم رکھا۔ پنجاب میں وڈیرے صنعت کار بن گئے اور حکومت جس کی بھی ہو وہ اس میں شامل ہوتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کریں اور ظالم اور کرپٹ حکومتوں کے خلاف ووٹ کی طاقت کو استعمال کریں۔ اسلامی نظام کے لئے ملک میں بندوق کی نہیں بلکہ ووٹ اور عوام کی طاقت کی ضرورت ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے مودی کو گریبان سے پکڑنے کی بجائے ان کو لاہور بلا کر سری پائے کھلائے اور آموں کے تحفے دیئے۔ ہماری حکومت سرجیکل سٹرائیک صرف اپنے عوام پر ہی کر سکتی ہے۔ انہوں نے موت کو سستا کیا اور زندگی کو مہنگا بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری قوم نے 24 ہزار چار سو دن جدوجہد کی اور ایک لاکھ سے زائد شہداء دیئے ہیں۔ ہر دن میں چار کشمیری شہید ہوئے لیکن پاکستان ان کے لئے کچھ نہیں کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کبوتروں سے ڈرتی ہے اور ہماری حکومت ان سے ڈرتی ہے۔ پاکستان کا ہر بچہ شاہین اور ہر جوان شیر ہے لیکن شیروں کی قیادت گیدڑوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس شرم اور خیانت کی ایک کہانی ہے۔ حکمرانوں نے اتنا لوٹا کہ انہیں یہ لوٹی ہوئی دولت پاکستان میں چھپانے کی جگہ نہیں ملی اور اسے بیرون ملک منتقل کرنا پڑا۔ پانامہ لیکس حکمرانوں کے گلے میں ایک زنجیر ہے اور اس سے نجات تبھی ملے گی کہ قوم کے سامنے توبہ کریں اور اسے تسلیم کریں۔ پوری قوم کی نظریں پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ پر ہیں۔ خدارا سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کی بجائے عدل و انصاف کے مطابق فیصلے کرے ورنہ عوام ہوں گے اور ظالموں کے گریبان ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی خبر لیک ہوئی۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کہتے ہیں کہ یہ ہم نے نہیں کیا۔ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ خبر لیک کرنے کا پرچہ فیصل مسجد کے امام یا کسی پردہ دار خاتون کے خلاف نہ کٹ جائے کیونکہ انہی کو اس ملک میں ہر جرم کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات کے لئے فہرستوں کو درست کرنا ضروری ہے۔ ہر حلقے میں ہزاروں ووٹ ایسے درج ہیں کہ خفیہ طاقتیں جس کو چاہیں اسے کامیاب قرار دیتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کو بااختیار ہونا چاہئے۔ ہم الیکشن سے پہلے انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں۔ ملک میں قرآن و سنت کی بالادستی کے لئے تحریک چلائیں گے اور محب وطن عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کو جمع کروں گا۔ اس حکومت کے ہوتے ہوئے عوام خوشحال نہیں ہو سکتے۔ سراج الحق نے کہا کہ اگر سندھ میں شراب پر پابندی لگ سکتی ہے تو یہ شراب ملک کے دوسرے حصوں میں بھی حرام ہے۔ اس پر بھی پابندی لگائی جائے۔ ملک میں مسلح دہشت گردی ہم ہی ختم کر سکتے ہیں اور سیاسی و معاشی دہشت گردی کا ہم ہی مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن یہ تب ممکن ہو گا جب عوام خوشحال اور اسلامی ملک کے لئے ہمارا ساتھ دیں۔ سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ اسمبلیوں اور حکومت کی مدت پانچ سال سے کم کر کے 4سال کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ میں نوازشریف سے کہتا ہوں اگر خیبرپختونخوا سندھ اور بلوچستان میں ترقی نہیں ہوئی تو یہ بھی پاکستان کا حصہ ہیں اور اس کی وجہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے۔ وزیراعظم جہاں جاتے ہیں۔ قومی وسائل کو رشوت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ سراج الحق نے اس موقع پر کہا کہ میں خیبرپختونخوا حکومت میں شامل اپنے وزراء سے کہتا ہوں کہ وہ صوبے میں پرائمری سکولوں کی سطح پر اسلامیات کے معلم کی پوسٹ کو دوبارہ بحال کرائیں اور اردو کو دفتری زبان کے طور پر رائج کرائیں۔ اگر خیبرپختونخوا حکومت یہ نہیں کرتی تو حکومت چھوڑ دیں۔ حکومت میں شامل رہنا ہماری مجبوری نہیں ہے۔ 2018ء میں خیبرپختونخوا میں اسلامی حکومت قائم ہو گی۔