بریکنگ نیوز
Home / کالم / بچپن اوربڑھاپا

بچپن اوربڑھاپا


میرا بچپن تو شہر لاہور میں گزرا لیکن ہم کبھی کبھار اپنے ننھیال کے قصبے گکھڑ منڈی میں اپنی نانی جان کے ہاں چھٹیاں گزارنے جاتے اور یہ آج سے لگ بھگ چھیاسٹھ برس پیشتر کا قصہ ہے… ان دنوں وہاں تو کیا لاہور کے کچھ حصوں میں بھی بجلی نہیں ہوا کرتی تھی…میرے نانا جان نمبردار تھے اور یوں نانی جان بھی نمبردارنی کہلاتی تھیں ان دنوں دولت اور خوراک کی فراوانی نہ تھی‘ ہماری امارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورے محلے میں صرف ہمارے گھر میں لالٹین تھی اور وہ بھی اہم موقعوں پر چمکالشکا کر روشن کی جاتی تھی ورنہ اک مٹی کا دیا تھا…نانی جان سر شام روئی کو ہتھیلیوں میں حرکت دے کر ایک پونی بناتیں‘ دیئے میں تیل ڈالتیں اور اس میں وہ روئی کی پونی بھگو کر اسے روشن کرتیں…پونی پہلے تو پھٹ پھٹ پٹاخے مارتی پھر اس کی لو پرامن ہوکر جلنے لگتی اور یہ بھی یاد رہے کہ پورے محلے میں ماچس صرف ہمارے گھر میں ہوا کرتی تھی اور محلے والے چولہا جلنے پر آگ لینے ہمارے ہاں آیا کرتے تھے… یا تو ایک چمٹے سے ایک سلگتا ہوا کوئلہ لے جایا جاتا جس سے ان کے ہاں چولہا سلگایا جاتا یا پھر مقامی لوہار سے بنوایا ہوا ایک آہنی کُھرپہ سا آگ کے حصول کیلئے مخصوص ہواکرتا تھا… محلے کے سبھی گھروں میں سرشام دیئے بھی نہ جلتے تھے کہ ہر کوئی تیل افورڈ نہیں کرسکتا تھا۔ وہ جو ایک دیئے کی مدھم لو میں سے پھوٹنے والی روشنی ہواکرتی تھی وہ بھی بہت بجھی بجھی اور تاریکی میں گھلنے سے بہت روشن نہ ہوتی تھی‘یوں لوگوں کے نین نقش مکمل طور پر عیاں نہ ہوتے تھے‘ صرف پہچان ہو جاتی تھی… یوں ہر شخص اپنی ذات میں تنہا بھی ہوسکتا تھا اور اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کی جستجو کرتا تھا…

ویسے ان زمانوں میں یقین کیجئے کہ مکمل اندھیرے میں بھی دیکھاجاسکتا تھا‘ نابینائی تب اترتی ہے جب آس پاس روشنیاں ہوں اور اگر ایک مکمل تاریکی کی گُپھا ہے تو دھیرے دھیرے آنکھیں اس تاریکی کی عادی ہوکر دیکھنے لگتی ہیں‘ ہم گاؤں کی کچی گلیوں اور جوہڑ کے برابر میں پھیلے ویرانے میں رات کے وقت کھیلتے تھے تو ہمیں ہر شے‘ ہر چہرہ اندھیارے میں صاف نظر آتا تھا. یہ جو دیئے اور چراغ کے الوہی روشن کھیل ہیں ان کی کہانیاں عجب اور ست رنگی ہیں…اگر عثمان مروندی کے مزار پر چار چراغ ہمیشہ جلتے ہیں تو پانچواں چراغ جلانے کی آرزو کیوں کی جاتی ہے کہ یہ سب دیئے دل کے ہیں…دل کا دیا جلایا میں نے…تو اب شہر لاہور کے بھی کچھ چراغ جلاتے ہیں‘ میلہ چراغاں کا میں تفصیلی تذکرہ کرچکا ہوں کہ کیسے مارچ کے مہینے میں ہمارے گاؤں سے ہمارے عزیز دور پار کے ان کے سنگی بیلی چلے آتے تھے اور میری امی انکے لئے حقوں اور بستروں کے انتظامات میں ہلکان ہوجاتی تھیں۔بچپن گیا اور اب بڑھاپا آگیا ہیکہتے ہیں کہ بڑھاپے کے سو دکھ ہوتے ہیں اور ہزار آزار…لیکن جیسے اس طویل حیات میں خوش بختی اور خوش بھاگی اور یہ وہ بھاگی نہیں جو گھر سے بھاگ جاتی ہے بلکہ یہ بھاگ بھری والے بھاگ والی بھاگی ہے جس نے اللہ کے کرم سے اور کملی والے کی جوتیوں کے صدقے ہمیشہ میرا ساتھ دیا… اگرچہ تنگی ترشی اور ناداری کے بھی کچھ زمانے آئے لیکن وہ شتابی سے گزر گئے۔

‘ میں ان کی یاد میں دل کو جلاتا نہیں اگر جلاتا ہوں تو شکرانے کے گھی کے چراغ جلاتا ہوں چنانچہ فی الحال بڑھاپے کے صرف دوچار دکھ ہیں جن کو سہا جاسکتا ہے اور آزار بھی چند ایک ہیں جن کی شکایت ناشکری ہوگی‘ بس یہ ہے کہ سکت ذرا کم ہوگئی ہے‘ محفلوں میں شرکت کرنے سے گریز کرتا ہوں‘ ہجوم سے ہراساں رہتا ہوں‘ اگر کوئی خاتون مہربان ہونے کے آثار ظاہر کرے تو دل خوش نہیں ہوتا‘ کچھ عرصہ پیشتر جتنے بھی آپریشن ہوئے میں خطرے کے اندر بہت ہوا…طبیب بھی مایوس ہونے لگے لیکن میں ایک مرتبہ پھر خوش بخت رہا اور خطرے سے باہر آگیا…مرگ سے ملاقاتوں کے صرف کچھ آثار بدن پر باقی ہیں‘ جہاں کچھ ٹانکے لگے تھے‘ جیسے ٹوٹی ہوئی جوتی کو موچی تروپے لگاتا ہے ایسے ماہر سرجن حضرات نے میرے پیٹ پر سلائی کڑھائی کے کمال دکھائے تھے جن کے کچھ آثار باقی ہیں‘ اس کے سوا میں مکمل صحت میں ہوں‘ موج کرتا ہوں‘ صبح کو سیر کرتا ہوں‘ رات کو اپنی سٹڈی ٹیبل پر براجمان ہو کر سندھ‘ پنجاب اور لاہور کے سفر کے قصے کہانیاں لکھتا ہوں…بے شک میں یکم مارچ کو ستتر برس کا ہو چکا ہوں…اخباروں میں مشاہیر اور ادیبوں کی موت کے بارے میں پڑھ کر رنجیدہ تو ہوتا ہوں پر…خاص طورپر دیکھتا ہوں کہ مرحوم کی عمر کیا تھی…اکثر وہ مجھ سے کم عمر ہوتے ہیں تو رب کا شکر گزار ہوتا ہوں کہ جو مجھے یہاں تک لے آیا اور اگر ان کی عمر مجھ سے زیادہ ہو تو کچھ ڈھارس بندھتی ہے کہ شاید ابھی برس دو برس کے قیام کا ویزا مجھے مل جائے…میں دراصل بوڑھا ہوا نہیں‘ مجھے بوڑھا بنانے کی سازشیں ہو رہی ہیں… لوگ مجھے ایک قریب المرگ بابا جی ثابت کرنے کیلئے دن رات کوششیں کر رہے ہیں‘ مثلاً پارک میں سیر کرتے ہوئے ایک صاحب مجھے دیکھ کر رک جاتے ہیں اور کچھ دیر مجھے نہایت تشویشناک نظروں سے دیکھتے چلے جاتے ہیں‘ مجھے ان سے کافور اور اگربتیوں کی مشک آنے لگتی ہے اور بالآخر وہ کہتے ہیں…

تارڑ صاحب آپ کی صحت کیسی ہے!

میں کہتاہوں‘ بس جی اللہ کے فضل سے بہت اچھی ہے…صحت اچھی نہ ہوتی تو کیا میں صبح سویرے پارک میں یوں قلانچیں بھرتا سیرکر رہا ہوتا… وہ ایک مایوس مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں‘ خیر پارک میں سیر کرنا تو اچھی صحت کی ضمانت نہیں ہے‘ ابھی کچھ روز پہلے آپ سے بھی کم عمر ایک بابا جی سیر کرتے دھڑام سے گر گئے اور مرگئے‘ 1122 والے ایمبولینس لے کر آئے اور انہیں لاد کر چلے گئے…اچھا میں نے تو سنا تھا کہ کچھ عرصے پہلے آپ مرتے مرتے بچے تھے… تو میں اقرار کرتا ہوں کہ جی ہاں کچھ مسائل ہوگئے تھے لیکن جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں میں بچ گیا تھا…اچھا یہ صاحب یقیناًمجھ سے الفت رکھنے والے ہیں اور میری تحریروں کے شیدائی ہیں اور ہرسویر خصوصی طورپر مجھے نہایت عقیدت سے سلام کرتے ہیں لیکن مجھے شک ہوا کہ وہ میرے بچ جانے سے کچھ زیادہ پرمسرت نہیں ہیں…بہرطور وہ میری ڈھارس بندھاتے ہیں کہ تارڑ صاحب آپ کا دم غنیمت ہے…اپنا خیال رکھئے‘ آپ ہماری اس قوم کا سرمایہ ہیں اور مایوسی کے عالم میں چلے جاتے ہیں اور مجھے یاد آتا ہے کہ یہ شاید پون صدی پہلے کا قصہ ہے جب میں اپنے کوہ نورد ساتھیوں کے ہمراہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ’’کے ٹو‘‘ کے دامن میں پہنچ گیا تھا اور میں نے پاک فوج سے درخواست کی تھی کہ ان علاقوں میں سیاچین کی جانب سے آتا جاتا کوئی ہیلی کاپٹر ہو تو وہ مجھے بھی اٹھالے جائے کہ سات روز کے واپسی کے جان لیوا سفر سے میری جان چھوٹ جائے… تب ایک بریگیڈیر صاحب کا پیغام آیا اور تب میں کنکورڈیا کے عظیم برف زاروں میں ٹھٹھررہا تھا کہ تارڑ صاحب فکر نہ کریں‘ سیاچین کے محاذ کے ہر مورچے میں ہمارے افسر آپ کی کتابوں کے رسیا ہیں‘ آپ تو ہماری قوم کا سرمایہ ہیں…تب میں نے اس برف زار میں جبکہ میری ناک کی نمی بھی برف میں بدلتی تھی کہا تھا…سر اگر آپ کا ہیلی کاپٹر نہ آیا تو قوم کا یہ سرمایہ ہمیشہ کیلئے منجمد ہو جائے گا…