بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / امریکی ڈرون حملوں پر پاکستان ناراض

امریکی ڈرون حملوں پر پاکستان ناراض


اسلام آباد۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر ڈرون حملے قبول نہیں کرے گا یہ پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں‘ پاکستان امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے‘ پاک امریکہ تعلقات خطے میں امن اور استحکام کے لئے ضروری ہیں‘ پاکستان اور چین افغانستان سمیت خطے میں امن اور استحکام کے لئے مل کر کوششیں کررہے ہیں‘ چینی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران دو طرفہ تعلقات اور افغانستان سمیت خطے کے امن اور سلامتی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاک افغان سرحد پر باڑ لگانا بارڈر مینجمنٹ کا حصہ ہے جس کا مقصد دہشت گردوں کو روکنا ہے‘ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں وفد بھیجے‘ پاکستان کی فتح پر جشن منانے والوں کو گرفتار کرنا اور تشدد کرنا افسوسناک ہے‘ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں قتل عام قابل مذمت ہے عالمی برادری نوٹس لے۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال سنگین ہے اور بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے‘ کشمیری عوام کو شہید کیا جارہا ہے۔ 8جولائی سے اب تک 150 سے زائد معصوم کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔ رواں ہفتہ درجنوں افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی فتح پر جشن منانے والوں کو گرفتار کیا گیا اور تشدد کیا گیا۔ بھارت کی جانب سے یہ رویہ افسوسناک ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لے۔ انسانی حقوق کمیشن اپنی ٹیم مقبوضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی ٹیم بھیجے۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں کو مسلسل نظر بند رکھا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور مذمت کی جارہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف پالیسیوں کو سخت کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ میڈیا رپورٹ پر تبصرہ نہیں کریں گے ۔

پاکستان کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات خطے میں امن اور سلامتی اور استحکام کے لئے ضروری ہیں۔ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہا ہے۔ یہ آپریشن پاکستان کی اپنی سلامتی کے لئے کیا جارہا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پرعزم ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ او آئی سی کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کی تحریک کی حمایت کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور افغان صدر کی آستانہ میں ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے اور چار ملکی رابطہ گروپ کو بحال کرنے اور امن اور استحکام کے لئے بھی پیش کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے اور یہ دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔ پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں پاکستان امریکی ڈرون حملوں کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتح کا جشن منانے والوں کو فوری طور پر رہا کرے۔ چینی وزیر خارجہ رواں ہفتہ پاکستان کا دورہ کریں گے دورے کے دوران دو طرفہ تعلقات اور خطے کے امن اور سلامتی کی صورتحال بشمول افغانستان کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغان سرحد پر باڑ لگانا بارڈر مینجمنٹ کا حصہ ہے اس کا مقصد دہشت گردوں کو روکنا ہے۔ پاکستان اپنے علاقے میں سرحد پر باڑ لگا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر قراردادوں پر عمل درآمد اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ یورپین یونین نے 2012 کے ایشوز کے حوالے سے قرارداد منظور کی قرارداد میں پاکستان اور یورپین یونین کے درمیان مختلف ایشوز پر تعاون کے حوالے سے ذکر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کے اغواء ہونے والے سفارتی عملے کی بازیابی کے حوالے سے افغان حکومت سے رابطہ میں ہیں۔ امید ہے مغوی سفارت کار جلد بازیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی ورکروں کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کومقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنے کے لئے خط لکھا ہے مقبوضہ کشمیر میں آج تین کشمیریوں کو شہید کرنا قابل مذمت ہے۔