بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مہنگائی کا باقاعدہ اعلامیہ

مہنگائی کا باقاعدہ اعلامیہ


فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کھانے پینے کی اشیاء سمیت 508مصنوعات پر5سے 60فیصد کسٹمز ڈیوٹی میں اضافے کا اعلامیہ جاری کردیا ہے، مہیا تفصیلات کے مطابق درآمدی اشیاء، گارمنٹس ‘سگریٹ‘ سگار اور سینٹری کے سامان سمیت 441اشیاء پر کسٹمز ڈیوٹی 5سے25فیصد تک بڑھ گئی ہے، اسی طرح پولٹری اور ڈیری مصنوعات کے نرخوں میں بھی اضافہ کردیاگیا ہے اعلامیے کے مطابق نئی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 50فیصد جبکہ پرانی پر 60فیصد کردی گئی ہے، وطن عزیز میں گرانی کا نیا ریلہ ایک ایسے وقت آیا ہے جب اقتصادی اشاریے روز بروز بہتر ہوتے جارہے ہیں‘ بعض عالمی ادارے معیشت میں استحکام کو قابل اطمینان قرار دے رہے ہیں‘ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے آغاز پر اقتصادی ترقی کے عندیے دیئے جارہے ہیں‘دوسری جانب وطن عزیز کا عام شہری مہنگائی اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کے باعث چیخ رہا ہے‘ اس شہری کیلئے اپنی آمدنی میں رہتے ہوئے بھاری یوٹیلٹی بل ادا کرنا اور گھر کے کچن کا خرچ چلانا بھی دشوار ہے‘ اسے بچوں کی تعلیم اور علاج کیلئے بھی نجی شعبے میں جاکر بھاری ادائیگی کرنا پڑتی ہے‘

اوپن مارکیٹ مجسٹریسی نظام کے خاتمے کے بعد سے چیک اینڈ بیلنس کا جامع سسٹم نہ ہونے پر ہر قاعدے قانون سے آزاد ہے‘ حکومت کی جانب سے کوئی بھی نیا ٹیکس یا ڈیوٹی عائد ہونے پر اس کا بوجھ صارفین پر کئی گنا زیادہ کرکے ڈالا جاتا ہے ‘اس کے برعکس انڈسٹری یا بزنس کو کوئی مراعات ملنے پر صارفین کو کوئی ریلیف نہیں دیاجاتا‘ گرانی کا نیا اعلامیہ جاری کرنے پر اب حکومت کو چاہئے کہ مارکیٹ کنٹرول کا پرانا مجسٹریسی نظام بحال کرے‘ سمگلنگ کا خاتمہ یقینی بنائے‘ تجارتی خسارے کوکنٹرول کرے‘ غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کیساتھ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کیاجائے‘ ہمارے فنانشل منیجرز کے لئے ضروری ہے کہ وہ عوام پر آئے روز ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کا بوجھ ڈالنے کی بجائے فنانشل مینجمنٹ بہتربناکر لوگوں کو ریلیف دیں‘وہ یہ بات مدنظر رکھیں کہ عام شہری کو اقتصادی اشاریوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اسے آٹا‘ دال مناسب نرخوں پر ملنا ضروری ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ اسے اپنی منتخب قیادت کی بے توجہی ہی قرار دے گا یہ بات قومی قیادت کی ساکھ کو متاثر کرے گی اس لئے سب اچھا کی رپورٹس سے گریز کرتے ہوئے عملی ریلیف کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

رولز پر عمل درآمد کا انتظام؟

خیبرپختونخوا حکومت نے تحلیل نہ ہونے والی پلاسٹک مصنوعات پر عائد پابندی کوموثر بنانے کیلئے رولز تشکیل دیدیئے ہیں، اس مقصد کیلئے جاری ماضی کے تمام اجازت نامے منسوخ کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنیوالوں کو 50ہزار سے 50لاکھ روپے تک جرمانے کیساتھ دو سال قید بھی ہوگی، خیبرپختونخوا حکومت پلاسٹک مصنوعات پر پابندی کے حوالے سے یقیناًدیگر صوبوں کیلئے رول ماڈل بن گئی ہے اس ضمن میں وزیراعلیٰ کا احساس وادراک پورے عمل میں شامل رہا ہے،ا ب ضرورت حکومت کے تشکیل کردہ قوانین پر عمل درآمد کیلئے انتظام کرنے کی ہے یہ انتظام اتنا موثر ہونا چاہئے کہ حکومتی اقدامات فوری طورپر ثمر آور ہوں اور دوسرے صوبے بھی اس مثال کو لے کر آگے بڑھیں اگر ہم قانون پر عمل درآمد کیلئے سسٹم نہ دے سکے تو صوبائی حکومت کی ساری ایکسرسائز بے فائدہ ہی رہے گی۔