بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / یوم جہانی قدس!

یوم جہانی قدس!

عالم اسلام کے طول و عرض میں ہر سال ماہ رمضان کا آخری جمعۃ المبارک ’’یوم القدس‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی‘ فلسطینیوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت اور عرب سرزمین کے ایک حصے پر اِسرائیل کے غاصبانہ قبضے‘ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانا ہے لیکن یہ دن محض احتجاج کی حد تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اس نظریاتی تحریک کا تسلسل بن گیا ہے جو 1979ء کے انقلاب جمہوری اسلامی ایران سے ہویدا ہواجن ناقدین کو ایران کے اسلامی انقلاب میں پوشیدہ توانائی سمجھ نہیں آ رہی وہ اگر یوم القدس ہی کا بغور جائزہ لیں‘ تو جان لیں گے کہ کس انداز میں مسلمانوں کا اتحاد انہیں دنیا کی سپرپاور کے طور پر پھر سے عروج عطا کر سکتا ہے! مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے والے اِنہیں فروعی اور مسلکی اختلافات میں الجھائے رکھنا چاہتے ہیں لیکن ’یوم القدس‘ نے اِس سازش کو بھی بے نقاب کیا ہے اور آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پوری دنیا میں ہر رنگ و نسل اور مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمان بالخصوص ’یوم القدس‘ کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور اِس مناسبت سے منعقد ہونے والے اجتماعات میں دیگر مذاہب کے ماننے والے انسان اور امن دوستوں کی شرکت اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ صرف آخرت ہی نہیں بلکہ دنیا کی فلاح و بہبود جیسا منصب عظیم (امامت) صرف اور صرف اسلام ہی کے دیئے گئے ’نظام حیات‘ سے ممکن ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ’قدس‘ کی مناسبت سے ’خصوصی دن‘ کا آغاز اسرائیل حکومت نے ’مئی 1968ء‘ سے اپنی کامیابیوں کا جشن منانے کی صورت کیا تھا۔

جسے ’یوم یروشلیم کا نام دیا گیا اُور اِسی دن کو مختلف انداز میں متعارف کراتے ہوئے ایران کے اسلامی اِنقلاب کے روح رواں‘ آیت اللہ سیّد روح اللہ الموسوی الخمینی المعروف اِمام خمینیؒ (وفات: 3 جون 1989ء) نے مسلمانوں کو ’تحریک فکروعمل‘ سے روشناس کرایا کہ کس طرح اسرائیل اور اس کی پشت پناہی کرنے والے صیہونی ممالک سازشیں کر رہے ہیں۔ ’یوم القدس‘ کا دنیا پیغام شعور کے ساتھ بڑھتا چلا گیا اور آج ایک دنیا نہ صرف امام خمینیؒ کی سیاسی بصیرت اور روحانی مرتبے کی معترف ہو چکی ہے بلکہ یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسرائیل کا ناپاک وجود صرف عرب سرزمین اور فلسطین کے ہمسایہ ممالک ہی کے لئے نہیں بلکہ عالم اسلام کے مقدس ترین شہروں مکۃ المکرمہ اُور مدینۃ المنورہ کے علاوہ جوہری صلاحیت رکھنے والا واحد اسلامی ملک پاکستان کے خلاف بھی اسرائیلی عزائم ایک ایسا خطرہ ہیں‘ جن سے نمٹنے کے لئے مسلمانوں میں اِتحاد و اتفاق ضروری ہے۔سترہ اگست 1979ء کو پہلی مرتبہ امام خمینیؒ نے عالمی یوم القدس منانے کا اعلان کر کے صہیونیت کو لرزہ بر اندام کر دیا۔ وہ صہیونیت جس نے فلسطین پر ناحق قبضہ جما کر تل ابیب کو اسرائیل کا دار الحکومت قرار دیا اور اس شہر میں ساکن فلسطینیوں کو نکال کر جلا وطن اور بے گھر کر دیاوہ صہیونیت جس نے نہ صرف فلسطینیوں سے ان کا وطن چھینا بلکہ ہزاروں کی زندگیاں چھینیں‘ بچوں سے ماں باپ کا سایہ چھینا‘ ماؤں کی گودیاں خالی کیں‘ جوانوں سے جوانیاں چھیں لیں‘ والدین سے اولادیں چھینیں‘ ہزاروں خواتین کو بیوہ کیا اور آخر کار مسلمانوں کا قبلہ اوّل بھی چھین لیا۔ صہیونیت صرف فلسطین پر قبضہ جمانے کی کوشش ہی نہیں بلکہ نیل سے فرات تک اپنی سلطنت پھیلانے کا خواب دیکھ رہی ہے لیکن ’اکیس اگست 1979ء کو امام خمینیؒ نے ’مسلم اُمہ‘ کے خلاف یہ پیغام جاری کیا کہ ۔۔۔ ’’میں رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم قدس کا نام دے کر تمام عالم اسلام کو دعوت دیتا ہوں کہ غاصب صہیونیت کے خلاف متحد ہو جائیں۔ اگر ساری دنیا کے مسلمان صرف ایک ایک بالٹی پانی کی اسرائیل پر انڈھیل دیں گے تو اسرائیل غرق ہو جائے گا۔

صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا۔ تمام مسلمانان عالم اور اسلامی ممالک سے مطالبہ ہے کہ وہ غاصب اسرائیل اور اس کے حامیوں کے بڑھتے ہاتھوں کو روکنے کے لئے آپس میں متحد ہو جائیں اور میں دنیا کے تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعے کو جو ’’قدر‘‘ کے ایام میں سے ہے اور فلسطینی عوام کی تقدیر بھی معین کرسکتا ہے‘ یوم القدس کے طور پر انتخاب کریں اور سب مل کر فلسطینی مسلمانوں کے قانونی حقوق کی حمایت میں عالمی یکجہتی کا اعلان کریں۔ خداوند عالم سے مسلمانوں کی اہل کفر پر کامیابی کے لئے دعاگو ہوں۔والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘ اِس سادہ پیغام سے آج ’عالم استکبار‘ کی نیندیں حرام ہیں اُور ’یوم قدس‘ احیائے اسلام کا دن ثابت ہو رہا ہے‘ اس دن کے ذریعے اسلام کو دوبارہ حیات و توانائی مل رہی ہے اور اسلامی شرعی قوانین کے نفاذ اور مستضعفین کا مستکبرین سے مقابلے کا موقع ثابت ہو رہا ہے۔