بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاکستان کی کرکٹ فتح: کشمیر میں جشن!

پاکستان کی کرکٹ فتح: کشمیر میں جشن!

گذشتہ کچھ ہفتوں سے کشمیر میں موسم نے تنگ کر رکھا ہے۔ تیز دھوپ والی گرم صبح کے بعد دوپہر میں دیر سے بارش ہوجاتی ہے۔ اٹھارہ جون بھی کچھ مختلف نہیں تھا سورج کی چمک میں جو تیزی صبح کے وقت کی‘ وہ دن کے وسط تک ختم ہو چکی تھی‘ آسمان بادلوں سے بھر چکا تھا جبکہ بارش بھی زیادہ دور نہیں تھی۔ ہم ظہر کی نماز کے بعد مسجد سے باہر آ گئے اور ایک دکان کے باہر بیٹھ کر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی فائنل پر اپنا اپنا تجزیہ دینے لگے۔ وہ میچ‘ جو کشمیر اور کشمیریوں کے لئے جوش کیساتھ خوف بھی لاتا ہے جب ہم میچ کے ممکنہ نتائج پر باتیں کر رہے تھے‘ اس وقت ہمارے علاقے کے سب سے سینئر ’تجزیہ نگار‘ نب کاک بھی ہمارے درمیان آ بیٹھے وہ اَسی سال کے ہونے والے ہیں اپنی پوری زندگی میں انہوں نے کرکٹ صرف پاکستان کی وجہ سے دیکھا ہے۔ انہیں میانداد کا مشہور چھکا بھی یاد ہے اور اُنیس سو بانوے کا ورلڈ کپ بھی۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا کوئی بھی اہم واقعہ ان سے پوچھیں اور وہ آپ کو پوری کہانی سنانے کو تیار ملیں گے مگر اتوار کے دن نب کاک تھوڑے پریشان نظر آتے ہیں۔ ’’کوہلی سے خبردار رہنا مگر عامر پر یقین رکھنا۔‘‘ دکان پر بیٹھے لڑکوں نے ان سے کہا کہ ’’پاکستان ضرور جیتے گا۔‘‘ پٹاخے بھی فروخت ہونے شروع ہوچکے تھے۔ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے بھی قبل یہ کشمیری ہی تھے جنہیں پاکستان کے جیتنے کی پوری امید تھی۔ صرف وہی لوگ جو گولیوں کا مقابلہ ہاتھوں میں اٹھائے پتھروں سے کرتے ہیں‘ جنوبی افریقہ‘ بھارت اور برطانیہ جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف پاکستان کے جیتنے کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔ کشمیری ہر مشکل صورتحال میں بھی اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے‘ ہمیں رینکنگز دیکھ کر خوفزدہ ہونا نہیں آتا۔ جب ہم دکان سے نکلے تو سب اس بات پر متفق تھے کہ ٹاس جیتنا اہم ہوگا چنانچہ ہم نے سرفراز کے ٹاس جیتنے کے لئے دعائیں کی‘ مگر وہ ہار گئے۔ میچ کا ایسے آغاز تھوڑا مایوس کن تھا۔ اس وقت کشمیر کی گلیوں میں ایسے لگ رہا تھا جیسے عوام نے خود پر کرفیو نافذ کر لیا ہو۔

سڑکیں خالی تھیں‘ مرد‘ بچے اور عورتیں سب ٹی وی سکرینز سے چپکے ہوئے تھے جب اظہر علی اور فخر زمان میدان میں اُترے تو میں نے اظہر کی بیٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ان پر تنقید شروع کر دی۔ مجھے وہ پاکستان کی ون ڈے ٹیم میں ہمیشہ سے عجیب محسوس ہوتے ہیں مگر پھر بھی وہ پاکستان کی جانب سے کھیلتے ہیں انہیں خود پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کروانا تھا فخر زمان شروع میں تھوڑے لاپرواہ اور غیر سنجیدہ لگے۔بھارتی باؤلرز منصوبہ بندی کے تحت کھیل رہے تھے مگر جلد ہی اس منصوبے کا شیرازہ بکھر گیا اور فخر نے سنچری بنا ڈالی میرے والد کی اپنے ڈاکٹر کے ساتھ اپوائنمنٹ تھی مگر میں گھر سے نکلنا نہیں چاہتا تھا۔ بارہ اوورز باقی تھے اور پاکستان ابھی بھی تین سو رنز کی لکیر پار نہیں کر پایا تھا بالآخر ہم گھر سے نکلے۔ بارہ مولہ کپواڑہ ہائی وے سے ٹریفک غائب تھی۔ بازار بھی ویران پڑا تھا جب تک ہم وہاں سے فارغ ہوئے‘ تب تک بھارتی بیٹسمین ہدف کا تعاقب کرنے کیلئے میدان میں اتر آئے تھے جب میں بازار کے واحد کھلے ہوئے میڈیکل سٹور سے دوائیں لے رہا تھا تو میں نے ایک زور دار دھماکہ سنامگر دکان میں کسی نے بتایا کہ یہ ’’پٹاخے کی آواز تھی۔‘‘ میں نے سکور چیک کرنے کیلئے فون اٹھایا تو معلوم ہوا کہ روہت شرما پویلین لوٹ رہے تھے۔ عامر نے پہلے ہی اوور میں اپنا جادو چلا دیا تھا ہر طرف جشن کا سماں تھا مزید پٹاخے پھٹنے شروع ہوگئے تھے جب تک ہم گھر پہنچے تو اس وقت تک اظہر علی کوہلی کا کیچ چھوڑ چکے تھے اور عامر اگلی گیند پر انہیں میدان سے باہر کا راستہ دکھا چکے تھے۔ ان کی باؤلنگ میں شاعری جیسا ردھم موجود تھا اور جب شیکھر دھون آؤٹ ہوئے تو لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

وہ سمجھ گئے تھے کہ بھارت کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے۔ پٹاخوں کیساتھ نعرے بازی‘ نعرے بازی کیساتھ پٹاخے اب مکمل سکور کا تعاقب کسی صورت میں ممکن نہیں تھا پاکستان کے باؤلنگ اٹیک نے بھارت کے ٹاپ آرڈر کو کچل کر رکھ دیا ان کے سامنے بھارت کی بیٹنگ مضحکہ خیز حد تک نااہل معلوم ہو رہی تھی۔ زخم خوردہ کشمیریوں کیلئے پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شرمناک شکست سے زیادہ اچھا اس وقت اور کچھ بھی نہیں تھا شاید ہمارے حواس یا ہمارے جنون کو باقی رکھنے کیلئے غم کے اس طویل موسم میں تھوڑی دیر کا یہ جشن بہت ضروری تھا کشمیر کے ان علاقوں میں سڑکوں پر ایسا جوش و جذبہ پہلے کبھی بھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں بدلے کا وقت ہو گیا۔ مختلف علاقوں سے خبریں آنے لگیں کہ بھارتی فوج نے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے جیسا کہ توقع تھی‘ سری نگر میں بھارتی فوجوں اور پتھراؤ کرنے والوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں کشمیریوں نے کسی بھی جشن کی ہمیشہ بھاری قیمت چکائی ہے مگر خوش قسمتی سے اس دفعہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ صرف ایک دن کے لئے کشمیر کے کسی گھر میں صف ماتم نہیں بچھی! پاکستان کی کرکٹ میں جیت کا کشمیر میں فی الحال جشن جاری ہے۔
(بشکریہ: ڈان۔ تحریر: بشارت علی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)