بریکنگ نیوز
Home / کالم / بے یقینی کی کیفیت

بے یقینی کی کیفیت


اس خطے کے سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور وطن عزیز کے اندرونی معاملات بھی کروٹ لے رہے ہیں چین کے وزیر خارجہ ایک دو دونوں میں اسلام آباد تشریف لارہے ہیں افغانستان اور دہشت گردی کے حوالے سے ایک نئے منصوبے پر غوروخوض کیا جانیوالا ہے کوشش یہ ہے کہ افغانستان پاکستان اور چین آپس میں مل بیٹھ کر ان معاملات کا کوئی ٹھوس سیاسی حل نکالیں اور اس ضمن میں کوئی موثر حکمت عملی پر کار فرما ہوں امریکہ کو اس آپشن میں شامل نہیں کیا جارہا افغانستان میں طالبان اور داعش آپس میں دست گریبان ہیں روس کا خیال یہ ہے کہ داعش کے پیچھے امریکن اور یہودی لابی کام کررہی ہے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ امریکا نے ابھی تک افغانستان سے اپنی پوری فوج باہر نہیں نکالی الٹا وہ اس میں اضافے کا سوچ رہا ہے ؟ ادھر ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کیخلاف اپنا گھیرا تنگ کرنیکا سوچ رہی ہے کیا امریکا چین پاکستان اور افغانستان کے مابین کسی بھی مفاہمت کو برداشت کرپائیگا؟ادھر مشرق وسطیٰ میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی تضاد کا شکار نظر آرہی ہے اور عام آدمی کی فہم سے باہر ہے دنیا جانتی ہے کہ قطر میں امریکہ کی ایک ملٹری بیس کافی عرصے سے کام کررہی ہے اور ایک لحاظ سے قطر کو امریکہ کاپٹھو ہی سمجھا جاتا ہے اور وہ تازہ ترین پالیسی کے مطابق قطر کے مقابلے میں خلیج کی دوسری ریاستوں اور سعودی عرب کو ترجیح دے رہا ہے پر ساتھ ہی ساتھ امریکہ کی یہ بھی کوشش ہے کہ قطر بالکل ہی ایران کی جھولی میں نہ گرجائے اس سے بڑا تضاد امریکہ کی پالیسی میں بھلا اور کیا ہوسکتا ہے قطر کے موجودہ بحران میں کہ جب خلیج کے دوسرے ممالک اور سعودی نے اسکا سوشل بائیکاٹ کررکھا ہے اپنی فضائی حدود میں قطر کے جہازوں کو آمدروفت کی اجازت نہیں دی جارہی تو اس نازک گھڑی میں ترکی اورایران اسکو اشیائے خوردنی اور دیگر ضروری اشیاء صرف پہنچا رہے ہیں۔

ان گھمبیر حالات میں ہمارا فارن آفس موثر کردار اس لئے ادا نہیں کرسکتا کہ کل وقتی وزیر خارجہ تو ملک میں ہے ہی نہیں وزیراعظم کی ساری توجہ اور انرجی پانامہ لیکس کے مقدمات میں بخیر وخیریت باہر نکلنے پر مرکوز ہے طارق فاطمی سائیڈ لائن ہوچکے اور سرتاج عزیز کے بوڑھے اور نحیف کاندھے خارجہ امور کے سخت اور تھکا دینے والے معاملات کا بوجھ اب اٹھانہیں سکتے ادھر ملک کے اندر بھی سیاسی حالات کوئی زیادہ اطمینان بخش نظرنہیں آرہے (ن) لیگ والے تو خیر پہلے ہی سے سخت پریشان ہیں کہ وہ گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں اور باوجود کوشش بسیار اس سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہورہے زرداری صاحب بظاہر تو (ن) لیگ کی بے بسی پر خوش ہیں پر ان کو اور پی پی پی کے کئی رہنماؤں کو اندر ہی اندر سے یہ غم کھائے جارہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے (ن) لیگ کے بعض سرکردہ رہنماؤں کو کرپشن کے مقدمات میں سزا سنادی تو اگلا نمبر ان کا ہوسکتا ہے کیونکہ(ن) لیگ کے بعض لیڈروں کی طرح پی پی پی کے بعض رہنماؤں پر بھی کرپشن کے سنگین الزامات ہیں یہ لوگ عوامی عدالت کی رٹ لگا رہے ہیں اور اس بات پر تکیہ کررہے ہیں کہ صرف عوام ہی انکی سیاسی قسمت کا فیصلہ الیکشن کے ذریعے کرسکتے ہیں پر عوامی عدالت تو جب لگے گی تو دیکھا جائے ۔

گا سردست اگر عدالت عظمیٰ نے ان کو مجرم قرار دے دیا تو ان کو توسمجھئے کہ سیاسی طور پر کریا کرم ہوگیا بعض سیاسی حلقے ملک میں فوری الیکشن کا عندیہ تو دے رہے ہیں پر بادی النظر میں اس ضمن میں الیکشن کمیشن کی کوئی تیاری نظر نہیں آرہی مختصر یہ کہ ملک میں بے یقینی اور سیاسی ہیجان کی ایک صورت ہے جہاں تک پارلیمنٹ کا تعلق ہے قومی اسمبلی کے سپیکر کو ہاؤس کا کسٹوڈین سمجھا جاتا ہے جب وہ سپیکر منتخب ہوتا ہے تو وہ پہلا کام یہ کرتا ہے کہ جس سیاسی پارٹی سے اسکا تعلق ہوتا ہے اسے وہ چھوڑنے کا اعلان کردیتا ہے ایاز صادق صاحب نے بھی ایسا ہی کیا تھا پر ان کے طور طریقے ان کے بیانات اور ان کے رویوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا