بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / 2008میں مستقل ہونیوالے ملازمین پنشن کے حقدار

2008میں مستقل ہونیوالے ملازمین پنشن کے حقدار

پشاور۔پشاورہائی کورٹ کے جسٹس روح الامین ٗ جسٹس قلندرعلی خان اور جسٹس سیدعتیق شاہ پرمشتمل لارجربنچ نے قرار دیا ہے کہ قرار دیا ہے کہ 1988-89میں عارضی بنیادوں پربھرتی اوربعدازاں2008ء میں مستقل ہونے والے صوبائی محکموں کے تمام ملازمین پنشن کے حقدارہیں اوران ملازمین میں سے جو فوت ہوچکے ہیں ان کی لواحقین کوپنشن ادا کی جائے جبکہ باقیماندہ ریٹائرملازمین متعلقہ محکموں سے رابطہ کریں تاکہ لارجربنچ کے فیصلے کی روشنی میں ان کی پنشن کے کیس نمٹائے جاسکیں عدالت عالیہ کے فاضل لارجربنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز خالدرحمان ٗ خوشدل خان ٗ آصف یوسفزئی اور شاہ فیصل الیاس ایڈوکیٹس کی وساطت سے دائرایک ہی نوعیت کی62رٹ درخواستوں پر جاری کئے رٹ درخواستوں میں موقف اختیار کیاگیاتھا کہ درخواست گذار عبدالحکیم ٗ رضوان وغیرہ 1988-89کو خیبرپختونخواحکومت نے فکس پے پردرجہ چہارم عارضی ملازمین بھرتی کیاتھا اوربعدازاں انہیں 2008ء میں مستقل ہوگئے ۔

جن میں مختلف اوقات میں بعض ملازمین ریٹائراور بعض وفات پاگئے تھے اوران میں سے بعض فوت شدہ ملازمین کے لواحقین نے فیملی پنشن کی رٹ کی ہے جبکہ بعض ریٹائرڈ ملازمین نے پنشن کے لئے رٹ درخواستیں دائرکی تھیں کیونکہ 2008ء میں مستقل ہونے کے بعد جب یہ ریٹائرمنٹ کی عمرکوپہنچے تو انہیں بتایاگیاکہ ان کی پنشن نہیں بنتی کیونکہ پنشن کے لئے ضروری ہے کہ 10سال مستقل ملازمت ہوجبکہ بعدازاں پشاورہائی کورٹ کے دو مختلف فیصلے آئے جن کے مطابق پہلے فیصلے میں ان ملازمین کو پنشن کاحقدارقرار دیا جبکہ دوسرے فیصلے میں انہیں پنشن کے لئے نااہل قرار دیاگیاکیونکہ ان کی مدت ملازمت کادورانیہ پورانہیں ہورہا۔

متضادفیصلہ آنے پرپشاورہائی کورٹ کا لارجر بنچ تشکیل دیا گیااورفاضل بنچ نے دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے پرلارجربنچ نے قرار دیا کہ ان ملازمین کی ملازمت ویسٹ پاکستان سول سرونٹ پنشن رولز کے تحت آتی ہے جس کے تحت جو ملازمین چاہے وہ ایڈہاک ہوں فکس پے پراورانہیں بعدازاں مستقل کردیاجائے اورمطلوبہ عمرپرریٹائر ہوجائیں تو وہ پنشن کے حقدارہوں گے فاضل بنچ نے فوت شدہ ملازمین کے لواحقین اورریٹائرڈملازمین کو پنشن ادا کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں