بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / خطرناک ٹرمپ اور پاکستان

خطرناک ٹرمپ اور پاکستان


ایک طرف بھارت امریکہ،افغانستان اورایران کے ساتھ مل کرپاکستان کے گھیراؤ کی سازشوں میں مصروف ہے چنانچہ چاروں ممالک کے درمیان پیارومحبت کی پینگیں بڑھتی جارہی ہیں تو دوسری طرف امریکی کانگریس میں پاکستا ن کو دہشتگرد ریاست قرار دینے کے حوالے سے بل بھی پیش کردیاگیاہے اوریہ بل ایک ایسے موقع پر پیش کیا گیاہے کہ جب وزیر اعظم نواز شریف اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے امریکہ میں ہیں اگرچہ اس بل کی منظوری کا کوئی امکان تو نہیں مگر اس سے امریکہ میں موجود پاکستان مخالف لابی کی ذہنیت پوری طرح سے آشکارا ہوجاتی ہے اس صورتحال کے تناظرمیں اگر امریکہ کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو دیکھا جائے تو ؒ تشویش میں اضافہ قدرتی امر ہے کیونکہ انکی مسلم دشمنی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی‘ امریکہ کی اب تک کی تاریخ میں کوئی صدارتی امیدوار اتنامتنازع نہیں ہوا جتنا کہ موجودہ ری پبلکن امیدوارڈونالڈ ٹرمپ ہیں ،جتنی مخالفت اس بدزبان ،بددماغ‘ تلخ کلام اورفتنہ پرداز لیڈ ر کی ہورہی ہے اتنی کسی اورصدارتی امیدوارکی نہیں ہوئی ہوگی ‘شاید ٹرمپ نے سوچا ہوگا کہ اگر وہ متنازع نہیں بنے تو موضوع بحث نہیں بنیں گے اوراگر موضوع بحث نہ بنے تو عوام کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکیں گے اوراگر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ نہ کرسکے تو انہیں خود کو منوانے میں کافی دقتوں کاسامناکرنے پڑیگا ‘ جہاں جہاں انکی آواز پہنچی وہاں وہاں انکی خوب مذمت ہوئی اوراب تک اس کا سلسلہ جاری ہے یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھار انکے بیانات میں نرمی بھی پیداہوجاتی ہے اور اپنے کئی سابقہ بیانات سے پیچھے بھی ہٹ جاتے ہیں،چنانچہ انکی توجہ اب اس امرپر مرکوزہے کہ وہ لوگوں کو پیغام دیں کہ ان کے بیانات کی بنیاد پر انکو غلط نہ سمجھا جائے ،وہ امریکہ کے اولین صدارتی امیدوارہیں جن کے عریاں مجسمے اب تک پانچ امریکی شہروں میں نصب کئے جا چکے ہیں۔

جس سے ان کے متعلق پائی جانیوالی برہمی اور بددلی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے یہ برہمی اوربددلی امریکہ تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی انکے بیانات سے خاصی کھلبلی مچی ہوئی ہے حتیٰ کہ ایک برطانوی ریسرچ گروپ کہہ چکاہے کہ اگر ٹرمپ امریکہ کے صدرمنتخب ہوگئے تو یہ عالمی معیشت کیلئے بڑا خطرہ ہوگا ‘جبکہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے تو یہاں تک کہہ دیاہے کہ ٹرمپ ری پبلکن پارٹی کے خاتمے کاسبب بن سکتے ہیں ،کئی ماہرین نفسیات ٹرمپ کو نرگسیت زدہ اور انتہائی درجہ کا خو د پسند کہہ چکے ہیں جبکہ نسل پرست تو ہیں ہی ،اس کیلئے وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں بلکہ اسکا اعتراف وہ خود اپنے بیانات میں کرتے رہتے ہیں ،میکسیکو اورامریکہ کے درمیان دیوار تعمیر کرنے سے لیکر مسلمانوں کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہ دینے تک متعدد بیانات انکی نسل پرستی کا مظہرہیں بتایاجاتاہے کہ امریکہ میں ٹرمپ کے جو ڈانسنگ کلبز اورجواخانے ہیں وہاں سے سیاہ فاموں کو کسی بھی وقت نکال باہر کردینے کے کئی واقعات رونما ء ہوچکے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ سفیدفام شدت پسند امریکی انکی کامیابی کیلئے پوری طرح سے سرگرم ہیں ان لوگوں کایہاں تک کہنا ہے کہ ٹرمپ کو ووٹ نہ دینا اپنے ورثہ سے غداری ہوگی اپنے ہی سیاہ فام ہموطنوں ،لاطینی امریکیوں ،ہسپانویوں ،مسلمانوں‘ تارکین وطن اور پڑوسی ملکوں کے خلاف گالم گلوچ کی حد تک گستاخ ٹرمپ اپنے غیرذمہ دارانہ بیانات کے ذریعہ مسلسل یہ ثابت کررہے ہیں کہ اگرانکو منتخب کرلیا گیا تو تو وہ امریکہ کے غیرذمہ دار بلکہ خطرناک صدرہونگے۔

امریکی انتخابات پر سفید فاموں کا اثر کسی سے مخفی نہیں اسلئے جہاں یہ اطمینان ہے کہ اقلیتیں ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گی وہیں سفید فام شہریوں کو بھی ایسا کوئی فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ محض ا پنی انا اورجعلی احساس برتری کیلئے ٹرمپ کو ووٹ دینا اورپھر پچھتانا کسی بھی زاوئیے سے سود مند نہیں ہوگا ‘ جہاں تک پاکستان کاتعلق ہے تو ٹرمپ کی کامیابی اس کی مشکلات میں مزیداضافہ کرسکتا ہے یہ بجا کہ ہمیںآج تک امریکی دوستی اور اتحاد کا کوئی فائد ہ نہیں ملاتاہم اتنا ضرور ہواکہ اس نا م نہاد دوستی کی وجہ سے ہم امریکہ کی کھلی دشمنی اور سازشوں سے بچے رہے یہ اوربات ہے کہ اس کی ڈھکی چھپی سازشیں ہمیشہ جاری رہیں جس کاواضح ثبوت پاکستان کے مقابلہ میں بھارت کو مضبوط اورمستحکم بنانے کیلئے اس کا روز بروز بڑھتاتعاون ہے تاہم اگر ٹرمپ کامیاب ہوتے ہیں تو پھر امریکہ میں موجود پاکستان مخالف لابی کو کھل کر کھیلنے کاموقع ملے گا اورموجود صورتحال کے تناظر میں کہ جب امریکہ نے بھارت کیساتھ ایک دوسرے کے فضائی اڈے استعمال کرنیکامعاہدہ کررکھا ہے اور افغانستان میں امریکہ کے کئی فضائی اڈے موجود ہیں ‘ٹرمپ جیسے انتہاپسند کابرسر اقتدار آجانا ہمار ی مشکلات کو دوچند بلکہ سہ چند کرسکتاہے اس حوالے سے دفتر خارجہ کو ابھی سے پیش بند ی کرنا ہوگی اور امریکہ میں اپنی لابی کو مزید مضبوط اور متحرک کرناہوگا یہ بجا کہ ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات بہت کم دکھائی دے رہے تاہم سیاست اور انتخابات میں آخری لمحات میں بھی بہت کچھ بدل جایا کرتاہے خطرناک ٹرمپ کی کامیابی سے پہلے ہی اگر پیش بندی کرلی جائے تو کو ئی ہرج نہیں ۔