بریکنگ نیوز
Home / کالم / بادشاہ ایساہی کیاکرتے ہیں

بادشاہ ایساہی کیاکرتے ہیں


بادشاہتوں میں یہی کچھ ہوتا ہے جو اگلے روز سعودی عرب میں ہوا چشم زدن میں سعودی بادشاہ سلمان نے اپنے بھتیجے محمد بن نائب کو ولی عہد کے منصب سے فارغ کرکے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ولی عہد بنا دیا نیا ولی عہد صرف 31 برس کا ہے اب اس کے اور اس والد کے درمیان صرف ایک سانس کا فاصلہ ہے جب بھی بادشاہ سلامت کی آنکھیں بند ہوتی ہیں محمد بن سلمان سعودی عرب کے نئے بادشاہ ہونگے یہ بات تو طے ہے کہ سعودی عرب میں اتنی بڑ ی تبدیلی امریکہ کی اشیر باد کے بغیر ممکن نہ تھی جس شہزادے کو ولی عہد کے منصب سے ہٹایا گیا ہے اس نے امریکہ میں کئی برس قیام کیا تھا اور امریکہ کے ایوان اقتدار میں اس کا کافی اثر و رسوخ تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے ولی عہداور بادشاہ سلمان نے اسے امریکی معاونت سے محروم کرنے کیلئے کافی لابنگ کی ہو گی ویسے امریکہ کو کیا پرواہ کہ سعودی خاندان میں کون ولی عہد بنتا ہے اور کون نہیں بنتا وہ تو اس گھوڑے پر بازی لگاتا ہے کہ جسے ہاؤس آف سعود کے اراکین کی اکثریت قبول کرے نئے ولی عہد کو سعودی شہزادوں کی ایک بڑی اکثریت نے چنا ہے ایران کیساتھ تو سعودی عرب کے ہمیشہ سے تعلقات کشیدہ رہے ہیں لیکن اب اس خلیج میں مزید اضافہ ہو گا اور یہی امریکہ اور اسرائیل چاہتا بھی ہے خدا نہ کرے کہ ایران اور سعودی کے حواری ممالک مشرق وسطیٰ میں آپس میں الجھ پڑیں ہمارے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف ریاض میں عرب اتحاد کی عسکری اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں پاکستان میں اکثر سیاسی اور سماجی طبقوں کا خیال ہے کہ ان کو یہ قیادت اس شرط پر قبول کرنی چاہئے تھی کہ اگر ایران کو بھی اس عسکری اتحاد میں شامل کر لیا جاتا ‘ سرتاج عزیز صاحب کا یہ بیان مضحکہ خیز ہے کہ وہ راحیل شریف کو واپس بلا نہیں سکتے بھئی آپ کو انہیں این او سی ہی نہیں دینا چاہئے تھا بلکہ ان کی تعیناتی سے پیشتر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس بات پر بحث کرانی چاہئے تھی کہ کیا ان کو یہ عسکری قیادت قبول کرنی چاہئے یا نہیں اور اب آپ یہ عذر پیش کر رہے ہیں کہ آپ انکو واپس بلا نہیں سکتے اور آئیے اب آتے ہیں۔

ایک دوسری بڑی اہم چونکا دینے والی خبر کی طرف معروف سائنس دانن سٹیفن ہاکنگ کے نام سے تو آپ یقیناًواقف ہوں گے آج دنیا میں فزکس کے میدان میں ان سے بڑا کوئی سائنس دان موجود ہی نہیں گو کہ جسمانی طور پر پیدائشی معذور ہیں انہوں نے خبر دار کیا ہے کہ آئندہ تیس برس کے دوران انسانوں نے خلاء میں نیا ٹھکانہ نہ ڈھونڈا تو انسانیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے ان کے مطابق آئندہ تیس برس میں انسانوں کو لازمی طور پر زمین چھوڑنا ہو گی ورنہ کسی سیارچے کے ٹکراؤ سے برپا قیامت انسانی نسل کا خاتمہ کردیگی انسانوں کو مریخ پر یا چاند پر نئی دنیاکو آباد کرنا ہو گا اور پودوں‘ جانوروں اور دیگر حیات کو بھی وہاں بسانا ہو گا وقت بہت کم رہ گیا ہے جب زمین کسی سیارچے کے ٹکرانے‘ درجہ حرارت بڑھنے یا حد سے زیادہ آبادی کے نتیجے میں تباہ ہو جائے گی سٹیفن ہاکنگ کے مطابق ہمارے پاس دیگر سیاروں میں جانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ان کے خیال میں اب ہمیں زمین چھوڑ دینی چاہئے یہ سیارہ اب ہمارے لئے بہت چھوٹا ہو گیا ہے اور ہمارے ذرائع خطرناک حد تک کم پڑ گئے ہیں ۔