بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / مشن :پاک سرزمین!

مشن :پاک سرزمین!

خیبرپختونخوا حکومت کی خلوص نیت سے کوشش رہی ہے کہ غیرمعیاری پلاسٹک سے بنی مصنوعات بالخصوص ان کم قیمت شاپنگ بیگزپر عائد پابندی کا سوفیصدی اطلاق عملاً ممکن بنایا جائے‘ جن کی وجہ سے نہ صرف قدرتی ماحول کو خطرات لاحق ہیں بلکہ ایسی مضر پلاسٹک سے بنی اشیاء کے روزمرہ و عمومی استعمال کی وجہ سے انسانوں اور دیگر ہم زمین جانداروں کی صحت بھی مستقل خطرے سے دوچار ہے لیکن صوبائی فیصلہ سازوں کا یہ عزم‘ حتیٰ کہ قانون سازی جیسی ضرورت پوری کرنے کے باوجود بھی خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہونے کے اسباب توجہ طلب ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پابندی کے اطلاق کے باوجود بھی مارکیٹ میں کھلے عام ’غیرمعیاری پلاسٹک‘ سے بنی اشیاء فروخت ہو رہی ہیں مارکیٹوں میں کھلے عام فروخت ہونیوالے سیاہ رنگت والے اور دیگر غیرمعیاری پلاسٹک سے بنائے گئے شاپنگ بیگزکی بھرمار دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ ایک تو معاشرے کی ہر خصوصی و عمومی سطح پر شعور کی کمی ہے کہ صارفین ازخود غیرمعیاری شاپنگ بیگز کا استعمال ترک کر دیں جیسا کہ مغربی ممالک میں ہوا ہے اور دوسرا قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی دیگر مصروفیات میں اِنہیں اِس بات کا خیال ہی نہیں رہتا کہ کس طرح ایک زہر نہایت ہی خاموشی سے معاشرے کی رگوں میں سرایت کر رہا ہے اور اگرغیرمعیاری پلاسٹک سے اشیاء کی تیاری‘ فروخت اور استعمال کے جاری سلسلے کو اس مرحلے پر نہ روکا گیا تو اس سے قدرتی ماحول پر دباؤ بڑھتا چلا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں موسمیاتی تبدیلیاں زیادہ تیزی سے ظہور پذیر ہوں گی۔ بارشوں میں کمی اور انکی طوفانی شدت میں اضافہ ہوگا جبکہ کرۂ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے اور دریاؤں‘ ندی نالوں میں طغیانی کے باعث زمین کے کٹاؤ جیسے انتہاء کے منفی اسباب ظاہر ہونگے جو پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا جیسی زراعت پر منحصر معیشت و معاشرت کے لئے ’اچھی خبر‘ نہیں۔

کسی تحریک کی کامیابی کیلئے ’عزم‘ کا مسلسل رہنا بھی ضروری ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے غیرمعیاری پلاسٹک سے بنی اشیاء کے خلاف نئے عزم سے کاروائی کیلئے ایک مرتبہ پھر ایسی ہر قسم کی پلاسٹک سے مصنوعات کی درآمد‘ تیاری اور خریدوفروخت پر ’پابندی عائد کر دی ہے‘ جنہیں اگر زمین میں دفن کیا جائے تو وہ اَزخود تحلیل نہ ہوں کیمیائی مادوں سے بنی ہوئی ایسے مادوں کی درآمد اور اِن سے مختلف اشیاء کی تیاری پر نئی پابندیوں کی منظوری کا اعلامیہ21 جون کو جاری کیا گیا ہے قوانین اور پابندیوں کا اطلاق کرتے ہوئے روایتی طورطریقوں کی اصلاح کرنا ہوگی جیسا کہ ہوائی فائرنگ پر پابندی کا سوفیصد ہدف تاحال حاصل نہیں ہوسکا اور یہی وجہ ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے بناء اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ہوائی فائرنگ کے خلاف عوامی شعور میں اضافے کے لئے مسجد و منبر سے مدد لی جائے۔ علماء دین اور مساجد کے وعظین اِس سلسلے میں قرآن و حدیث مبارکہ کی روشنی میں عوام الناس کی رہنمائی کریں کہ کس طرح یہ بات بھی فرائض ہی میں شامل ہے کہ نہ صرف اردگرد کے قدرتی ماحول کا خیال رکھا جائے بلکہ ایسی اشیاء کا استعمال بھی ترک کردیا جائے‘ جو ماحول کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں اور ان میں سب سے نمایاں غیرمعیاری پلاسٹک سے بنی ہوئی اشیاء ہیں۔

ہوائی فائرنگ جیسے ’بے لذت گناہ‘ کے بارے میں عوامی شعور کی سطح ایک درجے بلند کرنے کی حکمت عملی کا اطلاق اگرغیرمعیاری پلاسٹک کی اشیاء پر بھی کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ غیرمعیاری پلاسٹک سے بنی اشیاء کی مانگ میں کمی ہوتی چلی جائیگی یاد رہے کہ شفاف پلاسٹک کے علاوہ دھندلی یا کالی رنگت والی پلاسٹک کی اشیاء بالخصوص ماحول و انسان دوست نہیں۔ صوبائی حکومت کو ’غیرمعیاری پلاسٹک‘ کے بارے میں جہاں ’عوامی شعور‘ میں اضافہ کرنے کے لئے مسجد و منبر‘ نصاب تعلیم‘ ذرائع ابلاغ اور مہمات جیسے حربوں سے کام لینا چاہئے وہیں صنعتکاروں‘ تاجروں اور دکانداروں کو بھی مشن پاک سرزمین کا حصہ بناتے ہوئے اس جدوجہد میں عملاً شریک کرنا چاہئے‘ جس کا تعلق کرۂ ارض پر رہنے والے ہر جاندار کی حیات و بقاء سے ہے!