بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمی منظرنامہ:پاکستان کے مفادات !

عالمی منظرنامہ:پاکستان کے مفادات !

پاکستان کے ہمسایہ ممالک اور خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں‘ خطے اور پاس پڑوس میں تیزی سے دوست اور حلیف تبدیل کئے جا رہے ہیں‘ عالمی بساط پر اس تیزی سے مہرے بڑھائے اور ہٹائے جا رہے ہیں کہ یہ برق رفتار تبدیلیاں حالات کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنا رہی ہیں۔ بھارت اور افغانستان نے باہمی تجارت کیلئے نیا فضائی کارگو لنک بیس جون سے شروع کر دیا ہے جس کے تحت افغانستان سے پہلا کارگو طیارہ پچاس لاکھ ڈالر کا سامان لیکر بھارت پہنچا جبکہ بھارت اس ’’کارگو لنک‘‘ کو افغانستان پر اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے بھی استعمال کر رہا ہے اور بھارت نے افغانستان کو یقین دلایا ہے مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق کارگو لنک کو مزیدبڑھایا جائیگا دوسری طرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مسلسل بگاڑ کا شکار ہیں‘ کابل‘ طالبان یا داعش کے ہر حملے کے بعد الزام پاکستان پر دھر رہا ہے جبکہ اس طرف سے افغانستان بارڈر کو باڑ لگا کر مکمل طور پر محفوظ کرنے کا تازہ اعلان سامنے آیا ہے۔ امریکی دفاعی صنعت نے نریندر مودی کے دورہ واشنگٹن سے پہلے بھارت کے سامنے پرکشش پیشکشوں کا انبار لگا دیا ہے ان میں سے سب سے بڑی پیشکش امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی طرف سے بھارتی کمپنی ٹاٹا گروپ کیساتھ مل کر افغانستان میں ایف سولہ طیاروں کی تیاری ہے‘ جس کیلئے مودی حکومت کی رضامندی درکار ہے جس سے بھارت دنیا بھر میں ایف سولہ کی تیاری اور برآمد کا مرکز بن سکتا ہے۔ مودی کی طرف سے اس ڈیل پر آمادگی کا قوی امکان ہے کیونکہ اسی طرح ہی ’میک ان انڈیا‘ کا نعرہ پورا ہو سکتا ہے تو دوسری طرف ٹرمپ کا ’بائے امریکن ہائر امریکن‘ کا ایجنڈا بھی پورا ہوتا ہے اگر مودی کسی وجہ سے اس ڈیل پر رضامند نہیں ہوتے تب بھی ٹاٹا گروپ اور لاک ہیڈ مارٹن ایف سولہ طیاروں کے پارٹس مل کر تیار کرنے کے منصوبے پر متفق ہیں۔بھارت کے وزیراعظم چھبیس جون کو امریکہ کے دورہ پر پہنچیں گے‘ جہاں وہ امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ٹرمپ سے ملاقات میں ایٹمی تعاون‘ سکیورٹی اور ڈیفنس ایجنڈے پر سرفہرست ہیں۔ مودی امریکہ کی بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز سے بھی ملیں گے تاکہ دوطرفہ تعاون بڑھانے کی نئی راہیں تلاش کی جا سکیں جبکہ پاکستان کیلئے واشنگٹن سے تازہ خبر ٹرمپ کا پاکستان سے سخت رویہ اپنانے کا فیصلہ ہے‘ جس کے تحت نہ صرف ڈرون حملے بڑھائے جائیں گے بلکہ مالی امداد کم یا ختم کرنے کیساتھ ساتھ نان نیٹو اتحادی کا اعزاز بھی واپس لئے جانے کے آپشن شامل ہیں۔

ایران کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان کے تعلقات میں مسلسل بگاڑ آ رہا ہے حالیہ بگاڑ کا آغاز بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور صدر حسن روحانی کے دورہ اسلام آباد میں کلبھوشن کا معاملہ اٹھائے جانے کے دعوے سے ہوا جسکی صدر روحانی نے سختی کے ساتھ تردید کی اس کے بعد دونوں ملکوں کی سرحدوں پر چاند ماری کا عمل شروع ہوا اور تازہ پیشرفت بلوچستان کے اندر ایرانی ڈرون مارے جانے کا دعویٰ ہے ان حالات میں خلیج میں سفارتی جنگ مزید بڑھ سکتی ہے۔ خلیج کی اس کشیدگی میں سعودی قطر تنازع کی بنیادی وجوہات میں ایک شام کے حالات بھی ہیں جہاں روس‘ ایران اور امریکہ نے حالیہ دنوں میں نئی سرخ لکیریں کھینچی ہیں۔ امریکہ نے شامی فوج کا طیارہ مار گرایا جسکے بعد روس نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اپنے آپریشنز کے علاقوں میں امریکہ اور اس کے اتحادی طیاروں کو ممکنہ ہدف تصور کریگا‘ دوسری طرف ایران نے بھی شام میں میزائل داغ کر اپنا کردار بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ شام میں تازہ کشیدگی دراصل داعش کی پسپائی کے بعد ممکنہ طور پر خالی ہونیوالے علاقوں پر قبضے کی جنگ ہے۔ داعش کے زیر قبضہ رقہ کا علاقہ دو وجوہات کی بناء پر اہم ہے۔

ایک جنوبی رقہ کے تیل کے کنویں‘ دوسرا بغداد اور دمشق کے درمیان زمینی راستہ۔ ان دونوں وجوہات کی بناء پر روسی اتحادی ایران‘ شامی صدر بشارالاسد اور عراق کی ملیشیاؤں کی مدد سے سٹریٹجک اہمیت کے علاقے پر تسلط چاہتا ہے روس کا مقصد خلیج سے امریکہ کو نکال باہر کرنا ہے ایران اور شام امریکہ کو داعش کے علاقے سے ہٹا کر شام کے صحرا میں نئی جنگ میں پھنسانا چاہتے ہیں یا پھر نئی جنگ میں پھنسنے کی دھمکی دے کر خطے سے نکلنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں ایران کو اگر روس کی مدد سے شام کے راستے بحیرۂ روم تک رسائی ملتی ہے تو یہ اسرائیل کیلئے ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے یہی مجبوری ہے جو امریکہ کو خطے میں فوجی کاروائی تک لائی۔ امریکہ داعش کی پسپائی کے بعد خطے سے نکلنے کے لئے ابھی واضح حکمت عملی نہیں بنا پایا کہ جنگ کے بعد شام میں کس کی حکومت ہوگی یا بشارالاسد کا کیا کیا جائیگا یہ حالات خلیج میں آگ مسلسل بھڑکتے رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں افغانستان اور بھارت‘ امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی پینگوں کی صورت میں مغربی بارڈر کے حالات کیسے کنٹرول ہوں گے؟(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر آصف شاہد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)