بریکنگ نیوز
Home / کالم / اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا


بات بڑی سادگی سے شروع ہوئی کہ پانامہ لیکس میں وزر اعظم کا نام ہے تو اس کی تحقیق کی جائے معلوم ہوا کہ وزیر اعظم کا نام تو غلطی سے آ گیا تھا چلیں اگر نام نہیں تھا تو ان کے بیٹوں کی تو آف شور کمپنیاں ہیں اس لئے وزیر اعظم کا گلا فٹ کر دو اس لئے کہ اُن کے بیٹوں کا تو کاروبار ہی پاکستان میں نہیں ہے اور نہ وہ پاکستان کے ٹیکس پیئر ہیں اس لئے ان کا وزیر اعظم کے بیٹے ہونے کا مطلب ہے کہ اگر وہ نہیں ہیں تو پھر گلا وزیر اعظم کا ہی فٹ ہوتا ہے کہ وہ تو پاکستان میں رہتے ہیں اور پاکستان کے ٹیکس پےئر ہیں اب جو بات چلی ہے تو بات پانامہ تک کہاں ٹھہرتی ہے دو ججوں نے کہہ جو دیا ہے کہ نواز شریف دیانت دار نہیں ہے تو نہیں ہے۔اس لئے کہ اگر ڈاکٹر کہہ دے کہ ایک مریض مر چکا ہے تو مریض لاکھ کہے کہ میں زندہ ہوں تو بھلا مریض کی کون مانے گا۔ بات تو ڈاکٹر ہی کی مانی جائے گی بات منی لانڈرنگ کی طرف جا نکلی جو حالات میاں شریف اور ان کے بھائیوں کے لئے بنا دےئے تھے جو پی پی پی والے تو کہتے ہیں کہ قومیانے کی پالیسی کے تحت یہ سب کچھ ہوامگر یہ نہیں بتاتے کہ یہ پالیسی بنائی کیوں گئی ؟ شاید وہ اس بات کو چھپا لیتے ہیں کہ بھٹو کے لاہور سیٹ ہارنے کی وجہ ہی شریف برادران بنے تھے اور بھٹونے کہا تھا کہ اگر مجھے حکومت ملی تو میں سب کو ’’ فکس اپ ‘‘ کر دوں گا۔ اور سب کو معلوم ہے کہ اس ’’ فکس اپ ‘‘کا نشانہ بہت سے لوگ بنے ۔ کچھ تو ڈاکٹر نذیر مرحوم کی طرح جان سے گئے اور بہت سوں کے کاروبار ٹھپ ہو گئے اور بہت سے ( خصوصاً جمعیت طلباء ) جیلوں کا ایندھن بنے اور جب تک بھٹو حکومت قائم رہی ان کو جیل سے باہر آنا نصیب نہ ہوا۔ ان میں سے بہت سے آج بھی زندہ ہیں جب کاروبار آپ ایک شہر یا ایک ملک میں نہیں کر سکتے تو لازماً آپ کو کو نئی راہ تلاشنی پڑتی ہے۔جیسے کراچی پر ایم کیو ایم کے راج میں بیسیوں کارخانے داروں نے اپنے کاروبار بھتے کے ڈر سے بنگلہ دیش ‘ملائیشیا وغیرہ منتقل کئے اور جنہوں نے نہیں کئے انکے کارخانے مزدوروں سمیت آگ کی نذر کر دیئے گئے۔اب ظاہر ہے کہ وہ کچھ رقم پاکستان سے لے کر ہی گئے ہوں گے اب کیااس رقم کو منی لانڈرنگ کے زمرے میں ہی شمار کرنا ہو گا؟اب اسے کوئی کیا کہے گا۔

یہی کچھ شریف برادران نے بھی کیا اور پھر اپنی ساکھ کے بل بوتے پراپنے کاروبار کوبیرون ملک پھیلایا بھی۔ یہ لوگ پانامہ لیکس کے مجرم نہیں تھے مگر بات چونکہ وزیر اعظم کی ہے جس کو مجرم ثابت کرنا ہی کرنا ہے تو بات آج کی نہیں ہو گی بلکہ وہاں سے شروع ہو گی کہ جہاں سے نواز شریف جال میں پھنسیں گے اسلئے کہ ہم ڈاکٹر سے زیادہ سیانے تو نہیں ہیں نا۔مقدمہ آگے بڑھا تو پانامہ والی بات تو کہیں گم ہی ہو گئی اب تو بات حدیبیہ پیپر ملز وغیرہ تک پہنچ گئی ہے آف شور کمپنیاں تو کہیں دفن ہی ہو گئی ہیں اب تو شریف برادران کے سارے کاروبار کو کھنگالا جا رہا ہے اور وہ مقدمات جو ان پر سیاسی طور پر بنے تھے اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں سے شریف برادران بری ہو گئے تھے وہ مقدمات بھی دوبارہ زندہ کئے جا رہے ہیں اور ان میں گواہ وہ لوگ آ رہے ہیں جو پانامہ زدہ ہیں۔ خیر ہم اس بار ے میں کچھ نہیں کہہ سکتے اسلئے کہ جو بھی صحافی یااخبار شریف برادران کے حق میں بات کرتا ہے وہ تحریک انصاف کے غضب کا نشانہ بن جاتا ہے اخبارات یا میڈیا کا کام نشاندہی کرنا ہے یا جو واقعہ سامنے آتا ہے اس کی رپورٹنگ کرنا ہے اب یہ بات اگر خان صاحب کو بری لگی ہے تو ہم کیاکر سکتے ہیں خیر جیسا بھی ہے ہمارا زاویہ نظر یہ ہے کہ بات کو سنا جائے او ر اس کو اپنے خلاف لینے کی بجائے اپنی اصلاح کا پہلو تلاشنا چاہئے۔