بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ایک باپھر اعتراف

ایک باپھر اعتراف

پاکستان میں گرفتاربھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی ہے‘ اس اپیل میں بھارتی جاسوس نے ایک بارپھر پاکستان میں دہشت گردی سمیت تمام الزامات کا اعتراف کیا ہے‘ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اپنی اپیل میں کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں جاسوسی‘ دہشت گردی اور تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے نتیجے میں ہونیوالے جانی ومالی نقصان پر پشیمانی کااظہار بھی کیا ہے بھارتی جاسوس کی دوسری اعترافی ویڈیو بھی جاری ہوگئی ہے‘ کلبھوشن یادیو کا کہنا ہے کہ انڈین نیوی میں کمشنڈ آفیسرہوں‘ پاکستان میں دہشت گردی کا مقصد سی پیک منصوبہ روکنا تھا‘بلوچستان اور کراچی خصوصی ہدف تھے ‘کلبھوشن کا دوسری مرتبہ اعتراف بھارتی مداخلت اورروےئے کاعکاس ہے ‘دوسری جانب بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کلیئر کیا ہے کہ پاکستان بھارت کیساتھ تمام تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے لیکن بھارت سے مذاکرات کی بھیک نہیں مانگ رہے‘ کشمیری جریدے کو اپنے انٹرویو میں عبدالباسط نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر نئی دہلی نے پیشگی شرائط کی رٹ جاری رکھی تو مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکیں گے‘ ۔

پاکستان میں سی پیک منصوبے کے آغاز کیساتھ ہی بھارت بے چین وبے آرام ہے‘ اس پراجیکٹ سے متعلق متعدد مرتبہ بھارتی ذمہ داروں کی جانب سے خدشات سامنے بھی آئے جو بری طرح مسترد ہوتے رہے‘ اس سب کیساتھ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے شہریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے‘ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں‘ دنیا کی توجہ ان مظالم سے ہٹانے کیلئے بھارت طرح طرح کے ڈرامے بھی رچاتا رہتا ہے‘ بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں‘جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے اس کی پالیسیاں واضح ہیں‘ ڈرون حملوں سے متعلق دفتر خارجہ کا گزشتہ روز واضح پیغام آچکا ہے کہ یہ حملے کسی صورت برداشت نہیں، ترک وزیراعظم کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کا اعادہ کررہے ہیں‘ عالمی برادری کو بھی چاہئے کہ خطے کے منظرنامے اور پاکستان کے کردار کی روشنی میں پاکستانی موقف کو ہر مرحلے پر سپورٹ کرے۔

مون سون بارشیں‘ پیشگی انتظامات

پری مون سون کے بعد بارشوں کے سلسلے کی پیش گوئی اس سیزن کیلئے خصوصی اقدامات کی متقاضی ہے، اس حقیقت سے انکار نہیں کہ آندھی کے چند جھونکے اور اور معمولی بارش‘ بجلی کی بندش اور نکاسی آب کے نالے بند ہونے پر جگہ جگہ پانی اکھٹا ہونے کا سبب بن جاتی ہے‘ بارشوں کا پانی گھروں کے اندر داخل ہوکر بھاری نقصان کا موجب بنتا ہے‘ کسی بھی حادثے کی صورت میں جگہ جگہ کھڑا پانی اور اس پانی کے باعث ٹریفک نظام متاثر ہونے پر شہریوں کیلئے ہسپتالوں تک رسائی مشکل ہوجاتی ہے‘ بارشوں اور گرمی میں اکثر اوقات چلنے والے جھکڑوں سے پیدا صورتحال کیلئے پیشگی انتظامات اسی صورت فول پروف ہوسکتے ہیں جب سٹیک ہولڈر ڈیپارٹمنٹس کے درمیان باہمی رابطہ مستحکم ہو‘ عام شہری کو یہ معلوم ہو کہ شکایات کی صورت میں کس سے رابطہ کرنا ہے‘ بصورت دیگر صرف بارشوں کی اطلاع اور طوفان کا الرٹ جاری کرنا کچھ فائدہ نہیں رکھتا۔