بریکنگ نیوز
Home / کالم / بنگلہ دیش میں انصاف؟

بنگلہ دیش میں انصاف؟


حال ہی میں بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے ایک اور رہنما کو پھانسی دی گئی اور اب تک دی جانے والی تمام تر گزشتہ پھانسیوں کی طرح اس پھانسی کے ٹرائل کی شفافیت پر بھی سوالات و اعتراضات اٹھائے گئے ہیں مگر بنگلہ دیش حکومت کسی بھی اعتراض کو خاطر میں نہیں لا رہی۔ بنیادی سوال اِس قسم کی سزاؤں کے مبنی برانصاف ہونے سے متعلق ہے اور کیا یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟
میرے ایک دوست تھے جو تقسیمِ پاکستان کے وقت بنگلہ دیش میں موجود تھے اور اُس وقت سولہ سترہ سال کے نوجوان تھے جو اپنے علاقے کی جماعت اسلامی شاخ کے رکن بھی رہے۔ آخری لمحوں میں ایک بنگالی ٹیکسی والے کو اس زمانے کے دو ہزار روپے دے کر محمدی کالونی سے ائرپورٹ پہنچے۔ ائرپورٹ پر ایک پولیس والے نے ہاتھ پکڑ لیا تو پچاس روپے رشوت نے انہوں نے اپنی اور ہمراہ اہل خانہ کی جان بچائی۔ یہ دو ہزار پچاس روپے اگر ان کی جیب میں نہ ہوتے تو شاید ان ہزاروں لوگوں کی طرح جنہوں نے تقسیم کے ہنگامے میں پاکستان کا ساتھ دیا‘ ان کی لاش بھی کسی سڑک پر پائی جاتی۔ کیا بنگلہ دیش کے قیام کے وقت قتل عام ہوا تھا؟ کیا کسی ایک فریق نے کیا تھا؟ کیا یہ بھی حق اور باطل کا ایک معرکہ تھا جس میں غلطی صرف ایک جانب کی تھی؟

تقسیمِ ہند کے المیے کی طرح یہ بھی ایک ایسا المیہ ہے جسے ہر فریق اپنی اپنی مرضی کے رنگ کے عدسے سے دیکھتا ہے۔ بھارت والے پاکستان سے آتے سکھوں اور ہندوؤں کے قتل کی بات کرتے ہیں تو پاکستان آنے والوں کی یادوں میں سکھوں کے بھالوں اور ہندوؤں کی تلواروں کے زخم ہرے ہیں۔ بنگلہ دیش والوں کو البدر اور الشمس بریگیڈ کا رونا یاد ہے تو پاکستان پہنچ جانے والوں کو مکتی باہنی کی درندیاں۔ کسی بھی فریق نے اپنے حصّے کے گناہ قبول نہیں کئے اور اپنے دامن پر لگے خون کے دھبوں کا حساب نہیں دیا۔ فیض نے تو خون کے دھبے دھو دینے والی بارشوں کی دعا کی تھی مگر جو زخم روح پر آئے ہیں ان کا حساب کون دے گا؟ یہاں کچھ سوال بنگلہ دیش والوں سے بنتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کو جو پھانسی دی گئی ہے‘ کسی تاریخی جرم کی نہیں بلکہ سیاسی مخالفت کی تو نہیں ملی؟ کیا انصاف اور قانون کے تقاضے پورے کئے گئے ہیں؟ کیا ملزم اور مجرم کی تفریق‘ شک اور یقین کا تعین‘ گواہ اور قیاس کا فرق‘ سچ اور جھوٹ کی جانچ کی گئی ہے؟ کیا ریاست سے وفاداری کی تعریف ریاست کے نام بدل دینے سے قابلِ تعزیر بن جاتی ہے؟ اتنے عرصے بعد گھڑے مردے اکھاڑنا کیا کسی سیاسی چال کا حصہ تو نہیں؟ اگر ان لوگوں کو سزا صحیح دی گئی ہے تو مکتی باہنی کے ان لوگوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا جو ان جیسے ہی جرائم میں نامزد ہیں؟ اپنے ملک کے لوگوں سے بھی کچھ سوال پوچھ لیں؟ بنگالیوں سے نفرت اور ان کا نسلی استحصال تو خیر اب ہر مؤرخِ منصف مزاج کی کتاب میں شامل ہے مگر کیا ہم اس صرف نسلی امتیاز سے بڑھ کر بھی کسی جرم میں ملوث تھے؟

بنگلہ دیش نے پاکستان سے 1974ء میں معاہدہ کیا تھا کہ وہ جنگی جرائم میں شامل کسی پاکستانی کے خلاف مقدمہ نہیں قائم کرے گا مگر یہ حضرات پاکستانی نہیں بلکہ بنگالی شہری ہی رہے۔ کچھ تو اپنی مرضی سے اور کچھ اس وجہ سے کہ ہم نے ان کو اپنے ملک لانے سے انکار کر دیا۔ جب ہم میں اتنا حوصلہ نہیں کہ ان کو پاکستان بلا سکیں تو اب ان کے مرنے پر رونا کیس بات کا مچا رہے ہیں؟ کیا یہ بھی ہماری منافقتوں میں سے ایک منافقت نہیں ہے؟ حقیقت یہی ہے کہ انصاف ایک ایسا سانچہ ہے جس کی تعریف اکثر سرحدوں کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ تاریخ صرف طاقتور اور فاتح کو منصف مزاج سمجھتی ہے۔ عدالت اُس کی لگتی ہے جو فاتح ہوتا ہے بس یہی تلخ حقیقت اور سچائی ہے۔