بریکنگ نیوز
Home / کالم / حاتم طائی بننے کی ضرورت نہیں

حاتم طائی بننے کی ضرورت نہیں

کھیل‘ کھیل ہوتا ہے ایک ٹیم نے خواہ مخواہ ہارنا ہوتا ہے بھلے وہ کتنی ہی اچھی ٹیم کیوں نہ ہو اس لئے کھیل کو صرف کھیل ہی سمجھ کر کھیلنا چاہئے نہ کہ جنگ‘ پاکستان اور بھارت میں عرصہ دراز سے ہاکی کے میچ بھی ہو رہے ہیں او ر دیگر کھیلوں میں بھی یہ دونوں ممالک وقتاً فوقتاً مقابلہ کرتے رہتے ہیں لیکن جس طرح کرکٹ کا جنون ان دونوں ممالک میں پایا جاتا ہے و ہ غالباً کسی اور گیم کے شیدائیوں میں نہیں پایا جاتا اور یہ جنون پہلے نہ تھا چند برسوں سے ان کے سر پر چڑھ کر بول رہا ہے ہم سمجھتے ہیں یہ عالم ہے کہ ہارنے والے ملک میں کرکٹ کے شیدائی نہ صرف ٹیلی ویژن سیٹوں پر اپنا غصہ نکال رہے ہیں وہ اپنے کھلاڑیوں کے گھروں پر پتھراؤ کرنے اور انہیں آگ لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور تو اور اب تو وہ بطور احتجاج خودکشیاں بھی کر رہے ہیں بھارت میں اگلے روز کرکٹ کے شیدائیوں نے پاکستان کے ہاتھو ں لندن میں بھارتی کرکٹ ٹیم کی پٹائی کے بعد جو دیوانگی دکھلائی وہ اس سلسلے میں ایک کڑ ی تھی جب کبھی بھی کسی ٹورنامنٹ میں پاکستان اور بھارت نے کرکٹ میچ کھیلنے ہوں تو میڈیا والے مہینہ پہلے بازار گرام کر دیتے ہیں اور جب سے ون ڈے کرکٹ کاظہور ہوا ہے اس تپش میں دن بہ دن اضافہ ہوا ہے ورنہ ہمیں وہ دن بھی یاد ہیں کہ جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت جا کر اور بھارت کی ٹیم پاکستان میں آ کر ٹیسٹ میچوں کی لمبی لمبی سیریز کھیلا کرتی تھی ہار جیت کا سلسلہ جاری رہتا تھا لیکن کیا مجال کہ کبھی توڑ پھوڑ کے ایسے واقعات دیکھنے میں آئے ہوں کہ جو آج کل دیکھنے میں آ رہے ہیں ہمیں اچھی طرح یاد ہے روم میں 1960ء میں ورلڈ اولمپکس ہو رہے تھے ۔

ان میں ہاکی کاٹورنامنٹ بھی ہوا تھا 1928ء سے تواتر کیساتھ بھارت کی ہاکی ٹیم گولڈ میڈل ہر ورلڈ اولمپک گیمز میں جیتا کرتی تھی 1960ء کے ورلڈ اولمپکس میں پاکستان نے بھارت کو ایک گول سے ہرا کر سونے کا تمغہ جیت لیا اس شکست پر اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرونے ایک بڑا ڈپلومیٹک قسم کا تبصرہ کیا انہوں نے کہا کہ ہم خوش ہیں کہ ہاکی کا گولڈ میڈل برصغیر میں ہی رہ گیا ہے بھارت نہ سہی پاکستان ہی سہی آخر یہ دونوں برصغیرکا ہی تو حصہ ہیں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہارجیت میں سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ ضروری ہوتا ہے ہمیں خدشہ یہ ہے کہ خدانخواستہ ہماری موجودہ کرکٹ ٹیم سے اگر کل کلاں ذرا سی بھول چوک ہو جاتی ہے اور وہ ہار جاتی ہے تو پھر جنون میں ڈوبے ہوئے ہمارے کرکٹ کے شیدائی کہیں کالی جھنڈیوں سے وطن واپسی پر ان کااستقبال نہ کریں میانہ روی ہمیشہ انتہا پسندی سے بہتر ہوتی ہے کامیابی اور شکست دونوں میں ہوش کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے جسطرح ہم کرکٹ کے دیوانے بن گئے ہیں بالکل اس طرح ایک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ برازیل کے لوگ فٹ بال کے دیوانے تھے و ہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کبھی برازیل کی فٹ بال ٹیم ورلڈ کپ ہار بھی سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ برازیل نے اب تک دنیا میں سب سے زیادہ ورلڈ فٹ بال کپ جیتے ہوئے ہیں۔

لیکن جب وہ کبھی ہارتے توپھر اس کے کھلاڑ یوں کی وطن واپسی ہوتی تو ایک ایک دو دو کرکے ہوتی تھی اور وہ بھی ان فلائٹ میں واپس وطن آتے کہ جو آدھی رات کے بعد برازیل پہنچتی تھیں کہ مبادا ہجوم ائیر پورٹ پر جمع ہو کر ان کی پٹائی نہ کر دے اب توخیر بہت فرق پڑ گیا ہے اور اب برازیل کے فٹ بال کے شیدائیوں نے صبر کا دامن تھا م لیا ہے ہماری کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے یقیناًبہت بڑا کارنامہ کیا ہے کہ جو انہوں نے آئی سی سی چیمپئن شپ ٹرافی جیتی ہے اور ان کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے فی کس لاکھوں روپے دیکر ایک اچھی روایت قائم کی ہے لیکن یہ وزیراعظم صاحب نے جو ہر کھلاڑی کو اضافی ایک ایک کروڑ روپے دیا ہے یہ قومی خزانے کا غلط استعمال ہے ایک طرف تو آپ ہاتھ میں کشکول پکڑ کر ورلڈ بینک سے قرضوں پر قرضے لیکر ملک کو چلا رہے ہیں اور دوسری طرف آپ حاتم طائی بن کر قومی خزانے کا بے دردی سے استعمال کر رہے ہیں۔