بریکنگ نیوز
Home / کالم / دہشت گردی: نئی لہر!

دہشت گردی: نئی لہر!

آپریشن ردالفساد اور دہشت گردوں کی کاروائیاں جاری ہیں! سفاک دہشت گردوں نے عیدالفطر سے دو روز قبل ستائیسویں رمضان المبارک کو جمعۃ الوداع کے روز کوئٹہ میں آئی جی پولیس آفس کو نشانہ بنا کر‘ بارودی مواد سے بھری گاڑی دھماکے سے اڑا دی‘ جس کے باعث چار پولیس اہلکاروں سمیت تیرہ افراد جاں بحق اور اکیس دیگر افراد زخمی ہوئے۔ دہشت گردوں نے اس گھناؤنی واردات کیلئے رمضان المبارک کے ماہ مقدس کے جس روز کا انتخاب کیا‘ اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ دہشت گردوں کا ایمان اور دین و مذہب سے تعلق نہیں ہوتا‘یہ انسانیت کے دشمن ہوتے ہیں جن کا ایجنڈا محض افراتفری پیدا کرکے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنا ہوتا ہے۔ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں میں گوادر پورٹ سے منسلک پاکستان سی پیک منصوبے کے آغاز سے زیادہ شدت پیدا ہوئی ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گوادر پورٹ اور سی پیک کو سبوتاژ کرنا ہی دہشت گردوں کا اصل ہدف ہے جبکہ کوئٹہ اور بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کے مقصد کے تحت بھی مخصوص فرقے کے لوگوں کو ٹارگٹ کرکے خودکش حملے اور دہشت گردی کی وارداتیں رونما ہو رہی ہیں جبکہ ان وارداتوں سے بھی پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کا تاثر ملتا ہے جس کیلئے غیرملکی دہشت گردی کے نیٹ ورکس سرگرم عمل ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس سے بڑی سفاکی اور انسانیت دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کی یہ واردات عیدالفطر سے دو روز قبل کی گئی۔

چنانچہ دہشتگردی سے متاثر ہونیوالے جن افراد کے گھروں میں عید کی تیاریاں جاری تھیں وہاں اب صف ماتم بچھ گئی ہے اور یہی دہشت گردوں کا اصل ایجنڈا ہے کہ لوگوں میں عدم تحفظ اور خوف و ہراس کی فضا برقرار رکھی جائے تاکہ انہیں اپنے اہداف تک پہنچنے اور کھل کھیلنے میں آسانی ہوسکے اگرچہ پولیس حکام ابھی تک اس حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے کہ اس گھناؤنی واردات میں دہشت گردوں کا اصل ہدف کیا تھا تاہم وہ شہداء چوک کوئٹہ میں جناح چیک پوسٹ تک بارودی مواد سے بھری گاڑی لائے اور آئی جی آفس کے قریب انہوں نے اس گاڑی کو دھماکے سے اڑایا تو بادی النظر میں آئی جی آفس ہی ان کا ہدف تھا کیونکہ سکیورٹی اداروں اور اہلکاروں کو ہدف بنا کر دہشت گرد خوف و ہراس پیدا کرنے میں زیادہ کامیاب رہتے ہیں جبکہ اس سے امن و امان کی صورتحال پر حکومتی ریاستی اتھارٹی کی گرفت کمزور ہونے کا تاثر بھی اجاگر ہوتا ہے چنانچہ دہشت گرد درحقیقت ریاست پاکستان پر حملہ آور ہورہے ہیں جو بھارت کے سوا اور کسی کا ایجنڈا نہیں ہو سکتا۔سانحہ اے پی ایس پشاور سے کوئٹہ میں گزشتہ روز کی دہشتگردی تک ملک میں دہشت گردی کی جتنی بھی وارداتیں ہوئی ہیں ان میں زیادہ تر سکیورٹی کے اداروں اور سکیورٹی افسران و اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ گلشن پارک لاہور اور سیہون شریف کی درگاہ سخی شہباز قلندر میں دہشت گردی کا مقصد بھی زیادہ سے زیادہ خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنیکا تھا جس میں سفاک دہشت گرد کامیاب رہے۔

رواں سال کے آغاز میں چیئرنگ کراس لاہور میں جسطرح اعلیٰ پولیس افسران کو ٹارگٹ کرکے خودکش حملہ کیا گیا‘ اس سے ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کمزور ہونے کا تاثر دینا ہی مقصود تھا جبکہ اس واردات کے سہولت کار کی گرفتاری سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی کہ بھارت ہمیں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانے کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے جہاں اس کی ایجنسی ’’را‘‘ دہشت گردوں کو تربیت دیکر بھاری اسلحہ اور گولہ بارود سمیت افغان سرحد عبور کراکے پاکستان بھجوا دیتی ہے اور پھر یہ دہشت گرد اپنے متعینہ اہداف تک پہنچ کر بے گناہ افراد کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں ہماری سا لمیت کیخلاف بھارت کے ان سفاک عزائم کے بارے میں سکیورٹی ایجنسیوں کے فراہم کردہ ٹھوس ثبوتوں اور شواہد پر مبنی ایک مربوط اور ٹھوس ثبوت دفتر خارجہ نے تیار کرکے گزشتہ سال اقوام متحدہ اور امریکی دفتر خارجہ کو پیش کئے جس میں جاسوس کلبھوشن کے حوالے سے بلوچستان میں پھیلے ’’را‘‘ کے نیٹ ورک کی نشاندہی بھی کی‘ جس سے اس امر کی بھی تصدیق ہوئی کہ بھارت اور افغانستان پاکستان میں دہشتگردی کے مشترکہ ایجنڈے پر کام کررہے ہیں جسکا بنیادی مقصد پاکستان کی سلامتی کمزور کرنیکا ہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خاں متعدد مواقع پر دعویٰ کرچکے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے سول اور عسکری قیادتوں کے اتفاق رائے سے تشکیل دیئے گئے ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنایا جارہا ہے لیکن پانامہ کیس کی وجہ سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد پس پشت ڈال دیا گیا ہے دہشت گرد ریاستی اتھارٹی کو چیلنج کر رہے ہیں اور سکیورٹی اداروں تک کو ہدف بنا کر اس میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو اس سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ وزیر داخلہ کے دعوے کے باوجود نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر اب تک ان کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ اس حوالے سے آج سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ دہشت گرد عیدالفطر کے ایام میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے زیادہ اہداف متعین کرسکتے ہیں ہمارے عسکری اداروں کو عید کے موقع پر زیادہ فعال ہونا ہوگا۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر رفعت حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)