بریکنگ نیوز
Home / کالم / عید‘ کچھ پرانی یادیں

عید‘ کچھ پرانی یادیں


ہم وہ دیہاتی ہیں جنہوں نے خوشی سے یا مجبوری سے شہر کی زندگی اختیار کر لی ہے۔ ہمارا شہر میں آ جانا اس وجہ سے تھا کہ گاؤں میں تعلیمی سہولتوں کا فقدان تھا۔ ہم نے تو جیسے تیسے کچھ نہ کچھ تعلیم حاصل کر لی تھی مگر بہت سی ترقیاتی اورغیر ترقیاتی سکیموں نے ہماری گاؤں کی زندگی کو بے طرح متاثر کیا اور ہمارے چھوٹوں کے لئے گاؤں میں رہ کر تعلیم کو مکمل کرنادشوا رہو گیا تو ہم نے بچوں کے ساتھ ہجرت کر لی مگر گاؤں سے ناطہ نہ توڑ پائے ۔ آج جب اپنے بچپن اور لڑکپن کو مڑ کر دیکھتے ہیں تو بہت سی قدریں گم شدہ ملتی ہیں ۔ ایسی اقدار کہ جس میں بھائی چارے کا ایک خوبصورت سلسلہ تھا ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں اشتراک۔ کسی کے ہاں اگر شادی کی تقریب ہے تو سارا گاؤں اس میں شریک نظر آتا اور اگر کہیں کوئی ماتم ہو گیا ہے تو چالیس روز تک سارا گاؤں اسکی تعزیت کے لئے آجاتا۔ ماتم والے گھر چالیس دن تک چولہا نہ جلتا گاؤں والے باری باری اس کے گھر کھانا پہنچاتے ان لوگوں کیساتھ دن بھر اور رات دیر تک تعزیت کرنے والوں کا سلسلہ جاری رہتا۔چالیس دن کے بعد گھر والے اپنا غم تقریباً بھول چکے ہوتے۔ اسی طرح شادی کے گھر میں چونکہ باہر کے مہمانوں نے آنا ہوتا اسلئے گاؤں بھر سے چارپائیاں اور بستر اُس گھر میں پہنچ جاتے جو شادی کے دو دن بعد لوگ واپس لے جاتے یعنی گاؤں میں غمی اور شادی ہمیشہ مشترک رہی ہے اور اب بھی تقریباً ہے مگر نئی روشنی نے اس یک جہتی کو کافی متاثر کیا ہے۔عید ہمیشہ سے ایک مشترک اور خوبصور ت تہوار رہا ہے۔ چھوٹی عید ( عیدالفطر) کی تیاریاں انتیسویں یا اٹھائیسویں روزے سے شروع ہو جاتی تھیں۔گھرمیں مہندی لائی جاتی۔ جو آج کل کی طرح پسی پسائی نہیں ہوتی تھی بلکہ مہندی کے پتے لائے جاتے اور گھر کی عورتیں ان کو سل پر پیستیں ۔یہ پسی ہوئی مہندی انتیسویں روزے کی شام کو پانی میں گھول کر رکھ دی جاتی ۔

انتیسویں شام کو سارے لوگ اپنے اپنے گھر کی چھتوں پر چڑھ جاتے اورچاند دیکھنے کی کوشش کرتے۔اگر چاند نظر آ جاتا تو جامع مسجد کی چھت پر نقارہ بجایا جاتااور ہر جانب چاند مبارک کی صدائیں گونجنے لگتیں۔ادھر بچے ‘بچیاں اور گھر کی عورتیں شام کو روزہ کھولنے کے بعد گھلی ہوئی مہندی ہاتھوں پر لگاتیں۔ بچوں کے پورے ہاتھ پر اور اگر گرمی کا موسم ہوتا تو پاؤں پر بھی مہندی لگائی جاتی اور عورتیں اور بچیاں اپنے ہاتھوں پر ڈیزائن بنواتیں اگر چاند نظر نہ آتا تو یہ سارا کچھ اگلے روز پر چھوڑ دیا جاتا۔تیسویں روزے کی دیگر سے گھر کی عورتیں حلوہ تیا ر کرتیں۔ حلوہ جس برتن میں تیا ر کیا جاتا یہ مٹی کا ایک برتن ہوتا جس کو مقامی زبان میں کڑاہی کہتے اور اسی نسبت سے حلوے کو بھی کڑاہی ہی کہتے۔حلوہ تیا ر ہو جاتا تو اسے مٹی کی تھالیوں میں (جسے رکابی یا تباخڑی کہتے ) ڈال کر چھوٹے لڑکوں یا لڑکیوں کو دی جاتی کہ وہ محلے کے ہر گھر میں دے آئیں۔ یوں عید کی خوشی ہر گھر میں جاتی۔پورے گاؤں میں یوں رمضان کی تیسویں شب کوبھائی چارے کا مظاہرہ کیا جاتا۔ عید کی صبح سویرے سارے مرد اور لڑکے مسجد میں یا چشموں پر جاتے اور غسل کر کے صبح کی نماز ادا کرتے۔نماز کے بعد سارے لوگ قبرستان کا رخ کرتے اور اپنے بزرگوں کی قبروں پر جا کر قرآن خوانی کرتے اور جب سورج طلوع ہو جاتاتو گھروں کو واپس آتے۔ گھر میں عورتیں جب تک کوئی میٹھی چیز تیار کر لیتیں جس میں سوئیوں کوخاص درجہ حاصل ہوتا۔ یہ سویاں گھر میں ہی تیار کی جاتی تھیں جو گھر کی عورتیں ایک خاص مشین پر بناتیں اور رسیاں تان کر سکھاتیں اور عید کی صبح وہ پکا کر خاندان کو کھلاتیں۔

سوئیاں کھانے کے بعد سارے مرد اور لڑکے نئے کپڑے پہن کر عید گاہ کا رخ کرتے دوگانہ نماز عید ادا کرکے ایک دوسرے سے عید ملتے جس میں ایک دوسرے سے کی گئی زیادتیوں یا ہنسی مذاق کی معافیاں مانگتے جو کھلے دل کیساتھ معاف کر دی جاتیں۔واپس آکر سارے مرد اور لڑکے رشتہ داروں کے گھروں میں جاتے اور عید کی مبارک باد دینے کیساتھ ساتھ اپنے سال بھر کے روےئے میں اگر کسی کا دل دکھا ہو تو معافی مانگتے۔یوں ایک دوسرے سے معافی تلافی کے بعد گھروں کو لوٹتے تو دوپہر کے کھانے کا وقت ہو جاتا اور سب لوگ اپنے گھر میں یا دوسرے رشتہ داروں کے گھر میں دوپہر کا کھانا کھاتے۔ ہاں عید کی نماز کے بعد ایک دفعہ بچوں کا سامناسب بڑوں کو کرنا ہوتا کہ ان کو عیدی دینی پڑتی۔بچے عیدی لیکر گاؤں کی دکانوں سے اپنے پسند کی چیزیں لے کر کھاتے۔کچھ بچے قریبی شہر کو نکل جاتے اور اپنی ساری عیدی وہاں خرچ کر کے واپس آتے۔ یہ ایک دن ایساہوتا کہ کوئی بھی بڑا کسی چھوٹے کو خر چ کرنے پر روک ٹوک نہ لگاتا ۔ یہ محبتیں بانٹنے کا زمانہ تھا جو مشینوں نے ہم سے چھین لیا ہے۔