بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاراچنار، کوئٹہ دھماکے

پاراچنار، کوئٹہ دھماکے

پاراچنار اور کوئٹہ یں ایک ہی روز ہونیوالے دھماکوں میں تادم تحریر جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 58جبکہ زخمیوں کی 85بتائی جارہی ہے، بعض زخمیوں کی نازک حالت کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، دریں اثناء کراچی میں شرپسندوں کی فائرنگ سے 4 اہلکار قتل ہوئے پارا چنار دھماکوں سے متعلق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ٹل اڈہ پر پہلے بڑا دھماکہ ہوا جس کے ساتھ امدادی کاروائیاں شروع کردی گئیں ابھی یہ کاروائیاں جاری تھیں کہ دوسرا دھماکہ ہوگیا، کرم دھماکوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 45بتائی جاتی ہے جبکہ 65افراد زخمی ہیں‘ شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیاگیا ہے، کوئٹہ میں خودکش حملہ آور کا ہدف انسپکٹر جنرل پولیس کا دفتر بتایاجاتا ہے، حملہ آور نے روکنے پر گاڑی اڑادی، اس دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 13بتائی جارہی ہے جبکہ 20زخمی ہیں، رمضان المبارک کے اختتام پرعید سے قبل ہونیوالے دھماکوں کے نتیجے میں فضاء سوگوار ہونے کیساتھ لوگوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔

وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ عید سے قبل دہشت گرد کاروائیوں کا مقصد سیکورٹی کے حوالے سے بے یقینی کی کیفیت پیدا کرنا اور افراتفری پھیلا نا ہے، ذمہ دار ادارے وطن عزیز میں امن کا قیام یقینی بنانے کیلئے اپنے طور کام کررہے ہیں‘میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور میں گزشتہ رات گئے پولیس اور سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں جھڑپ کے دوران 2دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایس ایچ او سمیت 3پولیس اہلکار زخمی ہوئے، پولیس نے فلور ملز کی ایک خالی عمارت سے اسلحہ، دستی بم اور خودکش جیکٹس برآمد کیں‘امن کے قیام اور عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے دیگر تمام کوششوں کے ساتھ ضرورت سیکورٹی کے انتظامات میں کمیونٹی کو شریک کرنے کی ہے اس مقصد کیلئے منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ مل بیٹھ کر حکمت عملی ترتیب دی جاسکتی ہے۔

مارکیٹ کنٹرول؟

ہمارے سٹاف رپورٹر کی فائل کردہ سٹوری کے مطابق رمضان المبارک کے دوران مارکیٹ کنٹرول کیلئے ایڈمنسٹریشن کی تمام کاروائیاں مجموعی طور پر ثمرآور نتائج نہ دے سکیں گرانی اپنے زوروں پرہی رہی عید سے قبل پشاور کی مارکیٹ میں مرغیوں کے ریٹ175 روپے کلو تک پہنچ گئے ہیں جن میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ہے اس سلسلے میں دیگر تمام تر اعلانات اور اقدامات کے باوجود دودھ میں ملاوٹ کا سلسلہ بھی جاری رہا عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت کا احساس ادراک اپنی جگہ تاہم ثابت ہوگیا ہے کہ سرکاری مشینری سے مارکیٹ کنٹرول کاکام لینا اس لئے ممکن نہیں کہ موجودہ سیٹ اپ میں ایڈمنسٹریشن کو وہ اختیارات حاصل نہیں جو مجسٹریسی نظام میں آن سپاٹ مجسٹریٹ کو حاصل ہوتے تھے اور اس کا آفس مارکیٹ کنٹرول ہی کا کام کرتا تھا حکومت کو دیگر تمام اقدامات کے ساتھ مہنگائی اور ملاوٹ کے خاتمے کیلئے مجسٹریسی نظام کی بحالی پر تو مرکوز کرنا ہوگی اور مرکز کے ساتھ اس معاملے کو فوری طورپر اٹھانا ہوگا بصورت دیگر عوامی ریلیف کی کوششیں کامیاب نہ ہو پائیں گی حکومت مرکز میں ہو یا کسی بھی صوبے میں اس کیلئے یہ ادراک ناگزیر ہے کہ ملک میں عام شہری کے مسائل میں ایک اہم مسئلہ مہنگائی ہے اگر اس شہری کو کنٹرول مارکیٹ نہ ملی تو وہ ریلیف کا کوئی احساس نہیں پائے گا۔