بریکنگ نیوز
Home / کالم / وقت کا صحیح انتخاب

وقت کا صحیح انتخاب


گاؤں میں دشمنیاں تو ہوتی ہیں۔نوبت قتل مقاتلے تک بھی پہنچ جاتی ہے۔مگر یہ سب کچھ ایک حدو د کے اند ر رہ کر ہوتا ہے۔جب تک آپ کے گاؤں کو کسی بیرونی دشمن کا سامنا نہیں ہے تو دشمنی اور دوستی گاؤں کے اندر بری نہیں لگتی۔ لیکن گاؤں کے اپنے بھی تقاضے ہوتے ہیں ۔ ایک مرحلہ ایساضرور�آتا ہے کہ دشمنی کو ایک طرف رکھنا پڑتا ہے اور یہ کام خلوص سے کیا جاتا ہے۔ گاؤں میں اگر کوئی مرگ ہو جاتی ہے تو دشمنی کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور سارا گاؤں مل کر اُس مرگ کو سنبھالتا ہے۔ مرنیوالے کی جتنی بھی رسوما ت ہمارے ہاں رائج ہیں وہ سارا گاؤں مل کر ادا کرتا ہے۔ ہم نے ایک مرنیوالے پر اُس کے جانی دشمن کو روتے دیکھا ہے۔وہ رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تو تو چلا گیا میں اب کس سے دشمنی جاری رکھونگا اور جب گاؤں کے کسی شخص کیساتھ گاؤں کے باہر کایا دوسرے گاؤں کا کوئی شخص زیادتی کرتا ہے تو دشمنیاں ایک طرف ہو جاتی ہیں اور سارا گاؤں باہر والے کے سر ہو جاتا ہے کہ اُس نے ہمارے ایک ’’ کلی وال ‘‘ کے ساتھ زیادتی کیوں کی۔یہ ایک مثال ہے کہ ہمیں جب ملک کے دشمن کا سامنا ہو تو ہمیں کس طرح سے اپنے ملک ملکی اتحاد کو قائم رکھنا ہے او ر یہ بتانا ہے کہ ہمارے ملک کے اندر سو اختلاف ہوں ہم کسی باہر کے ملک کو اپنے ملک کی جانب میلی نظر سے نہیں دیکھنے دینگے‘ ہمارے ہاں جو ماحول بن گیا ہے کہ ہندوستان پوری قوت سے ہمارے خلاف طاقت استعمال کرنیکی سوچ رہا ہے۔ویسے تو یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہندوستان نے ہمیں نہ کبھی تسلیم کیا ہے اور نہ کبھی تسلیم کرے گا۔ہندو اپنی ہزار سالہ غلامی کو نہیں بھول سکتا۔

گو کہ یہ غلامی در اصل غلامی نہیں تھی بلکہ ہندو اُس وقت بھی ہر کام میں آزاد تھا یہاں تک کہ ہندو عورتیں مسلمان بادشاہوں کے نکاح میں بھی تھیں اور کئی بادشاہ ہندو عورتوں کی کوکھ سے جنم لئے ہوئے تھے اور وہ عورتیں غلام نہیں تھیں بلکہ ریاستوں کے حکمرانوں کی بیٹیاں تھیں اور مسلمان بادشاہوں کی منکوحہ تھیں۔تا ہم انگریز نے جو کچھ ہندو کے دماغ میں ڈال دیا کہ وہ مسلمانوں کے غلام تھے تو وہ ابھی تک اُن کے ذہن میں کلبلا رہی ہے اسی لئے ہندو پاکستان کے خلاف کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اب جو ظلم وہ کشمیری مسلمانوں پر ڈھا رہا ہے اُس کو پاکستان نے بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور ہمارے وزیر اعظم اس مسئلے کو لے کر ساری دنیا کے ممالک کے بادشاہوں اور نمائندوں کے سامنے لا ئے ہیں اور بتا دیا ہے کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس پر ہندوستان کی طرف سے سکیورٹی کونسل میں لائی گئی قرار داد موجود ہے کہ اس مسئلے کا حل کشمیریوں کی حق خود ارادیت ہے۔ وہ چاہیں تو ہندوستان کے ساتھ رہیں یا چاہیں تو پاکستان کے ساتھ رہیں ۔مگرا س مسئلے کو ابھی تک اقوام متحدہ نے حل نہیں کیا اور یہ حل نہ ہونے کی وجہ سے ہندوستان کشمیریوں کے گرد غلامی کی زنجیریں روز بروز سخت کر رہا ہے اور موجودہ مظالم تو حد سے بھی گزر گئے ہیں کہ کشمیریوں کو پیلٹ گن کے ذریعے اندھا کیا جا رہا ہے اور دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ وزیر اعظم نے دنیا کے ضمیر کو جنجھوڑنے کی کوشش کی ہے ایسے میں چاہئے کہ ہمارے سارے سیاست دان ایک آواز ہو کر وزیر اعظم کے پیچھے کھڑے ہو جائیں ۔ہم نے بارہا کہا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ ہمارے اندر موجود ہے تو اُسکے حل کیلئے ہمارے ادارے بھی موجود ہیں ‘ ہمارے ہاں الیکشن کمیشن ہے جو سب جانتے ہیں کہ آزاد ہے۔

اُس پر کسی بھی طرح کا حکومتی دباؤ ہے اور نہ وہ حکومتی دباؤ کو برداشت کرتے ہیں۔ اسلئے اُن کی طرف رجوع کیجئے اور مسئلے کو حل کیجئے۔ اگر آپ کو اطمینان نہیں ہے تو سپریم کورٹ موجود ہے وہاں جائیں او ر انصاف حاصل کریں ۔ آپ نے عوام کا بھی رد عمل دیکھ لیا ضمنی انتخابات میں عام آدمی کا رجحان کیا ہے۔ اگر یہ سب کچھ ہے تو آپ کیوں اس بات پر مصر ہیں کہ لوگ آپ پر اعتماد کریں اور وہ بھی اُس وقت کہ جب ہمارا دشمن ہماری سرحدوں کو عبور کرنے جا رہا ہے۔اس وقت تو بڑی بڑی دشمنیاں بھی ایک طرف رکھ دی جاتی ہیں ۔ جمہوری حق استعمال کرنے کیلئے زندگی پڑی ہے مگر اب تو ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے جو احتجاجوں سے نہیں بلکہ یک جان ہونے سے آئے گا۔