بریکنگ نیوز
Home / کالم / سونے کی چڑیا

سونے کی چڑیا


لاہور کے بعد میرا دل گکھڑمنڈی کی اداس پسماندگی‘ غضب کی گرمیوں‘ پژمردہ شاموں اور کچی گلیوں اور میرے نزدیک گندے مندے بچوں میں کہاں لگنا تھا‘ نہ لگا اور میں لاہور کی یاد میں آنسو بہاتے کسی حد تک ایک نفسیاتی مریض ہوگیا‘ سٹیشن کے باہر والد صاحب کا ترتیب شدہ ’’رچنا نرسری فارم‘‘ ان کی پھولوں اور پودوں کی الفت سے ایک چھوٹا سا پارک بن چکا تھا جہاں اس قصبے کی تاریخ میں پہلی بار دنیا بھر کے پھول کھلتے تھے اور ان پر تتلیاں جانے کہاں سے آکر پھڑپھڑاتی تھیں۔ لوگ شام ڈھلے وہاں سیر کیلئے آجاتے میرے والد صاحب حقے کے کش لگاتے بان کی ایک چارپائی پر بیٹھے زراعت کے بارے میں کتابیں لکھتے رہتے اور ان کے آس پاس دنیا بھر میں شائع ہونے والے جدید زراعت اور کاشت کاری کے نئے طریقوں کی نوید دینے والی انگریزی کتابوں کے ڈھیر ہوتے۔ وہ مجھے ڈھارس دیتے کہ جونہی یہ فارم چل نکلا میں اسے کسی اہل شخص کے سپرد کرکے تمہیں واپس لاہور لے جاؤں گا۔ اس دوران انہوں نے میری اداسی دور کرنے کی خاطر میرے لئے تتلیاں تخلیق کیں۔ ٹولی کے پتوں پر رینگنے والی درجنوں سنڈیوں کو دو گھڑوں میں ڈالا۔ ان کی خوراک کے لئے شہتوت کے پتے وافر مقدار میں گھڑوں میں ڈالے اور ان کے منہ پر باریک ململ کا کپڑا لپیٹ کر کس دیا تاکہ سنڈیاں سانس لے سکیں۔ ایک بچے کی حیرت اور بے یقینی کا آپ کیسے اندازہ لگا سکتے ہیں جسے کہا گیا ہو کہ چند روز بعد ان گھڑوں میں سے تتلیوں کے غول نکلیں گے۔ کچھ روز گزرے اور میں ہر روز ململ کے کپڑے پر آنکھیں رکھ کر دیکھنا چاہتا کہ اندر کیا ہورہا ہے۔ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ غلیظ سی سنڈیاں‘ حسین تتلیوں میں بدل جائیں۔ کیا میرا باپ ایک جادوگر ہے۔ گھڑوں میں سے ایک ناگوار بو آنے لگی تو ابا جی اپنی نیلی آنکھوں کے ساتھ مسکرانے لگے۔ تتلیوں کے دن آگئے ہیں اور پھر ایک دھندلی سویر جب کھیت اوس سے بھیگے ہوئے تھے ابا جی نے ایک گھڑے کے منہ پر کسا ہوا ململ کا کپڑا ڈھیلا کرکے کھولا۔ اندر سے بو کا ایک بھبھوکا اٹھا اور پھر ایک عجب سحر طراز منظر وجود میں آیا۔ پہلے ایک سفید تتلی جیسے خمار میں ہو۔ گھڑے میں سے پھڑ پھڑ کرتی نکلی اور اس کے بعد تتلیوں کے غول کے غول برآمد ہونے لگے۔

تتلیوں کی آبشاریں رواں ہوگئیں۔ ان میں سے کچھ میرے ابا جی کی زراعت کی کتابوں پر بیٹھ گئیں۔ کچھ میرے چہرے کو چھوتی پٹونیا‘ پنیزی‘ ڈہلیا اور سویٹ ولیمز کے پھولوں کے رنگوں میں اترتی مزید خوشنما ہوگئیں۔ جیسے یہ جہاں ستاروں اور سیاروں سے نہیں تتلیوں سے تخلیق کیا گیا تھا۔ ایک زمانے کے بعد جب ابا جی کی نیلی آنکھیں خاک ہوچکی تھیں میں نے سنولیک کی برفوں پر پھر انہی تتلیوں کو برف میں حنوط دیکھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ تتلیوں سے بھرا وہ دوسرا گھڑا ابا جی نے آج کھول دیا ہے۔چنانچہ مجھے گکھڑمنڈی کے فارمل سکول میں چوتھی جماعت میں داخل کروا دیا گیا۔ میری نانی جان مجھے روزانہ چاٹی میں اڑھکا گیا، مکھن بھرا دودھ پلاتیں۔ میری امی مجھے دیسی گھی کا پراٹھا کھلاتیں اور میں سکول کی جانب روانہ ہوجاتا۔ اور میرا لباس وہی لاہور والا ہوتا۔ لٹھے کی کلف سے اکڑی شلوار قمیض‘ اس پر ایک دبیز شیروانی‘ جیب میں رومال‘ بوٹ پالش سے لشکتے‘ بال بنے ہوئے اور کلائی پر ایک گھڑی جسے رسٹ واچ کہتے تھے۔ فارمل سکول کے دنوں کی کتھا پھر کبھی اگر زندگی رہی تو سناؤں گا۔ مختصر یہ کہ ماسٹر راتھر اور ماسٹر محمد حسین بھی کمال کے لوگ تھے۔ ان کا تذکرہ بھی پھر کبھی سہی۔ لیکن جب چھٹی ہوتی تو میری شامت آجاتی۔ ظاہر ہے میری کلاس میں جتنے بھی لڑکے تھے۔ گاؤں کے تھے۔ میری نسبت قدرے کم حیثیت تھی۔ ان کے پیراہن معمولی تھے بلکہ پیوندوں سے بھرے ہوتے تھے۔ کچھ ننگے پاؤں ہوا کرتے تھے اور کم از کم ایک بچہ تقریباً گھٹنوں تک آتے کھدر کا بوسیدہ کرتا پہنتا تھا اور اس کے نیچے کچھ نہ پہنتا تھا۔ وہ سب بچے میرے پیچھے لگ جاتے اور مجھ پر آوازے کستے۔ ’’سونے کی چڑیا۔ سونے کی چڑیا‘‘ اور وہ عجیب سی بولیاں بولتے جو مجھے بہت ناگوار لگتیں۔ میں شرم سے سرخ ہوجاتا اور روتا ہوا گھر آتا اور میری نانی جان گاؤں کی نمبردارنی جلال میں آکر فارمل سکول کے ماسٹر کے گھر پہنچ کر ان کی گوشمالی کرتیں کہ میرا لاڈلا۔

خاندان کا پہلا بیٹا۔ تم لوگ کیوں اس کا خیال نہیں رکھتے۔ اسے تنگ کرنے والے بچوں کو کل صبح پہلی فرصت میں مرغا بنا دو۔ ان کو سرزنش دو اور میں ان بچوں کو موردالزام نہ ٹھہرا سکتا تھا۔ وہ ایک غربت زدہ‘ ناآسودہ اور مشکل زندگی گزارتے تھے اور میں بال بنائے اچکن پہنے۔ بوٹ لشکائے ان کے درمیان ایک اجنبی پرندہ تھا۔ وہ مجھے ٹھونگیں نہ مارتے تو اور کیا کرتے۔لاہور کے رنگ محل مشن سکول میں۔ میں ایک ’’پُت پینڈو‘‘ ہونے کا مجرم تھا اور یہاں گکھڑمنڈی کے فارمل سکول میں مجھ پر ایک ’’سونے کی چڑیا‘‘ ہونے کا دشنام تھا۔میری پوری حیات یونہی ان الزامات کے درمیان میں بسر ہوگئی۔ لیکن ان دونوں میں سے ’’پُت پینڈو‘‘ ہونے کا جو جرم تھا میں اس کی سزا بھگتتا رہا۔ منہ پھٹ اور اجڈ رہا۔ زہرہلاہل کو کبھی قند نہ کہہ سکا اگرچہ کیا حرج تھی اگر کہہ دیتا۔ کیسے کیسے انعام و اکرام میری جھولی میں آگرتے۔ کم از کم ایک بار تو میں ایک معمولی وزارت کا حصول کرلیتا۔ کسی نہ کسی سفارت کا حقدار تو ہوجاتا۔ عشق رسولؐ کے جرم میں سزا وار تو نہ ہوتا۔ بہر طور اب جبکہ حیات کی موم بتی کا شعلہ بجھنے سے پیشتر پھڑپھڑاتا ہے۔ مجھے کچھ قلق نہیں ہے۔ اس نے مجھے میری اوقات سے بڑھ کر سرفراز کیا۔ ذلت نہ دی‘ عزت سے نوازا۔ ایک گدا کو شاہ کردیا۔ صرف اس لئے کہ میں سونے کی چڑیا نہ تھا۔ ایک پُت پینڈو تھا۔ وہی پینڈو جس نے قصویٰ کی شان میں قصیدے لکھے۔ وہ اونٹنی میرے دل کی گلیوں میں سے چھن چھن کرتی گزری اور اس کی جھانجھروں کی چھنک غار حرا کی اس رات میں بھی میرے کانوں میں چھنکی جو میں نے وہاں بسر کی۔ مجھے اور کیا چاہئے۔