بریکنگ نیوز
Home / کالم / میر ی طرح تم بھی مٹی ہو جاؤ گے

میر ی طرح تم بھی مٹی ہو جاؤ گے


وقت کیساتھ ساتھ انسان کی معلومات میں اضافہ تو ضرور ہوتا ہے جہاں تک دانشی کا تعلق ہے وہ بھی زیادہ تو ہوتی ہے پر صدیوں کے سفر کے بعد بھی اس میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہوتا مشہور مورخ ول ڈیورانٹ نے کیاخوب کہا ہے کہ وہ حضرت سلمان کی تربیت تو نہیں کرسکتا۔ بچوں اور بے وقوفوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ سچ بولتے ہیں اور کسی نہ کسی طریقے سے اپنے اخلاص میں ان کو خوشی مل جاتی ہے۔ جوانی اعتماد کا نام ہے ‘ جوانوں کو کھانے پینے سے زیادہ ایڈوینچر میں مزہ ملتا ہے وہ اپنی بے پناہ انرجی کو استعمال میں لانا چاہتے ہیں انہیں نئی اور خطرناک چیزوں سے خوف نہیں آتا‘ زندگی کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیں دانشی تو مہیا کردیتی ہے پر اس کے بدلے وہ ہم سے جوانی چرالیتی ہے جب انسان شادی کرتے ہیں تو جوانی کا خاتمہ شروع ہوجاتا ہے ایک شادی شدہ انسان شادی کے دوسرے ہی دن پانچ سال بوڑھا ہوجاتا ہے‘ طبعی طور پر شادی کے بعد انسان کی درمیانی عمر کا آغاز ہوجاتا ہے ہونا تو یہ چاہئے کہ انسان اس وقت مرے جبکہ وہ اپنی عمر کے عروج تک پہنچ گیا ہو پر ایسا ہوتا کم ہے اسی لئے روزانہ جوانی اور موت کی ملاقات ہوتی رہتی ہے مشہور مورخ ول ڈیورانٹ اپنی کتاب Fallen Leaves میں ایک جگہ لکھتے ہیں کئی سال گذرے کولمبیا یونیورسٹی کی ایک لائبریری میں ایک جواں سال طالب علم کتابوں کے شیلف میں کتاب ڈھونڈ رہاتھا کہ اسکا ایک 85 برس بوڑھے انسان سے سامنا ہوگیا انہوں نے ایک دوسرے کو خاموش نظروں سے دیکھا جواں سال طالب علم نے دل ہی دل میں کہا ’’میں وقت کی کمی کی وجہ سے جارہا ہوں‘‘ بوڑھے شخص نے اپنے دل میں اسے کہا کسی زمانے میں تمہاری طرح میں بھی جوان تھا علم حاصل کرنے کی بھوک مجھ میں بدرجہ اتم تھی۔

میں تبدیلی کا خواہاں تھا آج کل میں اپنی راتیں جاگ جاگ کر گزارتا ہوں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو یاد کرتا ہوں‘‘ بوڑھا پن کیا ہے؟ بنیادی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کادنیا میں قیام کا وقت اختتام پذیر ہونیوالا ہے‘ جس طرح ایک بچہ جلدی جلدی بڑا ہو کر جوان ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح ایک بوڑھا انسان جلدی جلدی پیرانہ سالی کا سفر اختیار کرتا ہے مذہبی کتابوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے آفرینش سے دنیا میں لاکھوں پیغمبر آئے انسانوں کو سیدھی راہ دکھانے پر اافسوس کہ انسان نے ان کا کہنا نہ مانا آج بھی اس دھرتی پر وہ گناہ لوگوں سے سرزد ہورہے ہیں کہ جن کی مناہی ہے ‘کئی قومیں تباہ محض اس لئے ہوئیں کہ اللہ پاک نے ان کو مختلف پیغمبروں کے ذریعے جن جن کا موں سے پرہیز کرنے کو کہا وہ انہوں نے کھل کر کئے اگر انسان نے اللہ پاک کا کہا مانا ہوتا تو آج دنیا کی تمام دولت اور وسائل سمٹ کر صرف معدودے چند افراد کے ہاتھوں میں جمع نہ ہوجاتے۔

مذہب اور مسلک کے نام پر لوگ ایک دوسرے کا قتل عام نہ کرتے۔ سرمایہ دار عوام الناس کا معاشی استحصال کرکے ان کا خون کبھی بھی نہ چوستے یہ جو کھربوں روپے ہم ایٹمی ہتھیاروں کے انبار لگانے پر صرف کررہے ہیں یہ رقم اگر ہم نے دنیا سے غربت مٹانے نت نئی ادویات دریافت کرنے کیلئے ریسرچ کرنے پر لگائے ہوتے تو دنیا سے آج بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہمارے کئی مسائل خود بخود حل ہوجائیں اگر دنیا کے حکمران صدق دل سے یہ فیصلہ کرلیں کہ جس طرح پولیو‘ تب دق اور ملیریا کا دنیا سے قلع قمع کرنے کیلئے انہوں نے ہر ملک میں ایک مہم چلائی ہے بالکل اسی طرح دنیا میں پیدا ہونے والے ہر بچے اور بچی کو وہ مفت تعلیم بہم پہنچائیں گے یقین کریں تعلیم عام کرکے ہی دنیا کے ہر مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے یہ جو دنیا مختلف قسم کے تعصبات کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ جہالت نے کروڑوں انسانوں کے گھروں میں ڈیرہ بسارکھا ہے۔