بریکنگ نیوز
Home / کالم / عید الفطر

عید الفطر


تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ہر قوم میں او رہر مذہب میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو لوگ خوشی کے طور پر مناتے ہیں۔میلے ٹھیلے انسانی فطرت کا حصہ ہیں سال بھر کام میں جُتے لوگوں کو کچھ آرام چاہئے ہوتا ہے او رکچھ انٹر ٹینمنٹ جو وہ اجتماعی طور پر منائیں اس سے محبتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے جو اجتماعی زندگی کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے اسلام سے پہلے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی طور پر کسی قوم نے اگر عید منائی ہے تو وہ عیسائی مذہب کے لوگ تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے اُن سے فرمائش کی کہ اللہ کریم اُن کیلئے آسمان سے دسترخوان اتارے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ کریم سے دعا کی کہ وہ اُن کی قوم کے لئے آسمان سے دستر خوان اتارے اور اُس دن کو وہ عید کے طور پر منائیں اللہ تعالیٰ نے اُن کیلئے آسمان سے دستر خوان اتارا اور آج بھی عیسائی اس دن ( ایسٹر) کو عید کے طور پر مناتے ہیں۔ اسی طرح اور قوموں میں بھی سال میں ایسے دن رکھے گئے ہیں کہ جن کو وہ خوشی کے طور پر مناتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے باسی سال میں دو تہوار منایا کرتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے مسلمانوں کے لئے دو تہوار مقرر فرمائے جو مدینہ والوں کے تہواروں سے بہتر قرار دےئے گئے ان میں ایک تہوار عید الفطر کا تھا او ردوسرا عید الاضحیٰ کا ۔ مسلمانوں کے تہواروں میں اور دیگر قوموں کے تہواروں میں ایک بنیادی فرق ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی خوشی کی نوید دی گئی ہے تو اس کے منانے کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے۔جیسے سورۃ نصر میں بتا یا گیا کہ جب اللہ کی مدد سے فتح حاصل ہوئی اور جوق در جوق لوگ اسلام قبول کرنے لگے تو حکم ہو ا کہ اللہ کی حمد و ثنا کرو اور اُس کی طرف رجوع کرو۔

جسکامطلب یہ ہے کہ جب بھی مسلمان کوئی بھی تہوار منائیں تو اس میں اللہ کی حمدوثناء اولین شرط ہے عیدالفطر رمضان کے روزے رکھنے کے بعد یکم شوال کو رمضان کو الوداع کرنے کی خوشی میں عید کے طور پر منایا جاتاہے۔مسلمانوں کے مختلف ملکوں میں اس دن کو منانے میں کچھ تھوڑا تھوڑا اختلاف ہے یعنی وہ اس دن کو ایک دوسرے سے مختلف طور پر مناتے ہیں بر صغیر میں اس دن کی شروعات صبح کی نماز کے بعد ہوتی ہیں۔سب سے پہلے لوگ نہا دھو کر اور نماز فجر ادا کرنے کے بعد قبرستان جاتے ہیں اور اپنے بزرگوں کی قبروں پر قران خوانی اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔وہاں سے واپس آ کر شیرینی سے روزہ توڑتے ہیں یعنی سویوںیاکچھ دیگر شیریں چیز وں سے منہ میٹھا کیا جاتا ہے اور اس کے بعد نئے کپڑے پہن کرمسجد یا گاؤں اور شہر کے باہر ایک مخصوص جگہ پر جسے عید گاہ کا نام دیا جاتا ہے دو رکعت نماز کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں مگر نماز سے قبل فطرانہ ادا کیا جاتا ہے جو گھر کے ہر فرد پر فرض ہے یہاں تک کہ ایک دن کے بچے پر بھی فرض ہے۔فطرانہ ایک مقرر رقم ہے جو کونماز عید سے قبل اپنے اڑوس پڑوس کے غریبوں کو دی جاتی ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔ اس ادئیگی کے بعد گھر کے سارے مرد اور بہت سی جگہوں پر عورتیں بھی کھلی جگہ پر اور اگر کھلی جگہ میسر نہ ہو تو ایسی مسجد میں کہ جہاں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہو اکٹھے ہو کر عید کی دو رکعت واجب نماز بمعہ چھ تکبیروں کے با جماعت ادا کرتے ہیں ۔ اس نماز کے لئے کوئی آذان نہیں دی جاتی۔

نماز کے بعد خطیب حضرات عید کا خطبہ دیتے ہیں اور یوں اللہ کے حضورسر بسجود ہونے کے بعد مسلمان گھروں کو لوٹتے ہیں اور رشتہ داروں کے گھروں میں عید ملنے کو جاتے ہیں۔ اس دن اپنے دوستوں رشتہ داروں سے سال بھر میں کی گئی زیادتیوں سے معافی مانگی جاتی ہے ا ور گلے شکوے دور کئے جاتے ہیں۔ عید کے دن سب سے بڑی خوشی چھوٹے بچوں کو ہوتی ہے اُن کو اپنے بڑوں سے عیدی ملتی ہے۔ عیدی وہ رقم ہوتی ہے جو بڑے اپنے چھوٹوں کو دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے جس طرح چاہیں وہ رقم خرچ کریں۔ بچوں کے لئے یہ دن بہت ہی خوشی کا ہوتا ہے اسلئے کہ اس دن وہ اپنی مرضی سے خود کو ملی ہوئی رقم کو خرچ کر سکتے ہیں یہ دن ہمارے لئے معافی تلافی بھی کا دن ہوتا ہے۔ سال بھر میں اگر کسی سے کوئی ایسی بات ہو گئی ہو کہ جس سے اُس کو دکھ پہنچا ہو تو اس کی معافی مانگ لی جاتی ہے اور جس سے معافی مانگی جاتی ہے وہ خوشی سے معاف بھی کر دیتا ہے۔یوں اس دن ایسی بہت سی غلطیاں جن سے کسی کا دل دکھا ہو معافی مل جاتی ہے اور ہمارے اعمال سے اسکے بدلے کا غم دور ہو جاتا ہے۔

بہت سے دوست رشتہ دار جو آپ سے کسی وجہ سے خفا ہوتے ہیں اُن کو بھی راضی کرنے کا دن ہوتا ہے۔ اس دن بہت سے روٹھے ہوئے منا لئے جاتے ہیں اور اس دن کے طفیل وہ با آسانی راضی بھی ہو جاتے ہیں اور بہت سی خوشیوں کے ہمراہ ایک بڑی خوشی دوستوں رشتہ داروں کے مان جانے کی خوشی بھی اس دن کی خوشیوں میں شامل ہو جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ یہ ایک ایسا تہوار ہے کہ جو ہر طرح کی خوشیوں سے بھر پور ہوتا ہے اور جس کی ابتدا اپنے بچھڑوں کیلئے دعا سے شروع ہوتی ہے اور دعوتوں کی شام پرا ختتام ہوتا ہے۔عموماًاس تہوار کو تین دن تک منایا جاتاہے اور ہاں گھروں سے دور ملازمتوں کے لئے جانے والوں کو بھی اپنوں سے ملنے کا موقع فراہم ہوتا ہے اس لئے کہ حکومت بھی تین چار دن اپنے ملازمین کو چھٹیاں دے دیتی ہے۔