بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / اختیارات کا سرچشمہ

اختیارات کا سرچشمہ

اگر اکیسویں صدی اور میڈیاکی ترقی کے اس دور میں بھی کہ جب دنیا بھر میں حکمرانوں کے اختیارات کوبھی محدود دائرے میں رکھنے کی سوچ مستحکم ہوتی جارہی ہے بے محابہ اختیارات کاعملی نمونہ ہمارے ہاں آج بھی نہ صرف موجودہے بلکہ اس سے پوری طرح سے مستفیدبھی ہوا جارہاہے اورآج جب پہلی مرتبہ ان اختیارات پر قدغن لگنے والی تھی تو کچھ لوگوں کی انابیچ میں آگئی جس کے بعداب اگلے کئی برسوں تک ان اختیارات کے خاتمہ کی امید نظر نہیں آتی اس وقت فاٹا ایک ایسابدنصیب علاقہ ہے جہاں کے لوگ اور منتخب نمائندے انتہائی بے بس اور بیوروکریسی بے پناہ طاقتور ہے خاص طور پر اگر پولیٹیکل ایجنٹ پر نظر دوڑائی جائے تو حیر ت ہوتی ہے سامراجی دور کایہ نظام ہم نے آج بھی گلے لگایاہواہے اوراس سے زیادہ حیر ت کی بات یہ ہے کہ کئی حلقے آج بھی اس استحصالی نظام کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں کس قدر ستم ظریفی کاامرہے کہ انگریز کے زمانے سے پولیٹیکل ایجنٹ کو حاصل اختیارات آج بھی جوں کے توں ہیں بہت سے لوگوں کے لئے یہ بات ناقابل یقین ہوگی کہ قبائلی علاقوں میں تعینات پولیٹیکل ایجنٹ اس قدر بااختیار ہوتا ہے کہ اسے بیک وقت ڈپٹی کمشنر ‘ ایس پی اور سیشن جج کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں وہ جج بھی ہوتا ہے انتظامی اختیارات بھی رکھتا ہے حتیٰ کہ وہ بعض مقدمات میں خود مدعی بھی بن سکتا ہے انگریز جب اس علاقہ میں آئے تو اپنے مخصوص ماحول اور روایات کی بدولت قبائلی عوام نے انکی سب سے زیادہ اور موثر مزاحمت کی جس کے بعد انگریزوں نے قبائلی علاقوں کو کنٹرول کرنے کے لئے وہاں پر پولیٹیکل ایجنٹ تعینات کئے تھے ۔

جن کا مقصد قبائلی علاقوں کی براہ راست نگرانی بذریعہ پولیٹیکل ایجنٹ کرنا تھا کیونکہ ہزاروں میل دور بیٹھے انگریز حکمران کے لئے ممکن نہیں تھا کہ وہ خود وہاں جاکر انتظامی معاملات دیکھے پھران کو ایف سی آر کے ظالمانہ قانون کے ذریعے شاہانہ اختیارات کامالک بھی بنادیا جنہوں نے پھر انگریز سرکار کو مضبوط کرنے کیلئے ان اختیارا ت کا استعمال کرتے ہوئے ان علاقوں کو بدترین مظالم کانشانہ بنایا ان ختیارات کے تحت پی اے کسی ایک شخض کے جرم کی سزا پورے قبیلہ کو دے سکتاتھا اور اس اجتماعی ذمہ دار ی کے قانون نے پھر تباہی و برباد ی اور ظلم وستم کی نت نئی داستانیں رقم کیں کس قد ر ستم ظریفی کاامر ہے کہ انگریز تو چلا گیا مگر پولیٹیکل ایجنٹ کا نظام ابھی تک قائم ہے پولیٹیکل ایجنٹ کو فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز کے تحت بے پناہ اختیارات حاصل ہیں حتیٰ کہ وہ کسی بھی شہری کا گھر ‘کھیت‘ جائیدادمسمار کرنے‘ جلا دینے ‘ قبضہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے جس کی مثال اس مہذب دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی اسی طرح قبائلی علاقوں میں ملک صاحبان اور عمائدین کے جرگوں میں ہونیوالے فیصلوں پر عملدرآمد کا اختیاربھی پولیٹیکل ایجنٹ کے پاس ہے اگرچہ پولیٹیکل ایجنٹ کے فیصلے کیخلاف کمشنر ‘ چیف سیکرٹری اور گورنر سے رجوع کیا جاسکتا ہے تاہم عملاً ایسا نہیں ہوتا۔

‘پولیٹیکل ایجنٹ کے فیصلے کو ہی حتمی سمجھا جاتا ہے اگر کوئی غلطی سے ان کے فیصلو ں کو چیلنج کربھی لیتا ہے تو پھر ان میں سے اکثر کو انتقامی کاروائیوں کانشانہ بننا پڑتاہے ،انتظامی‘عدالتی اور پولیس کے اختیارات کے حامل پولیٹیکل ایجنٹ کی تقرری گورنر خیبرپختونخوا کی سفارش پر صدر مملکت کرتے ہیں پولیٹیکل ایجنٹ قبائلی علاقے جہاں صوبائی حکومت کا عمل دخل نہیں ہوتا وہاں پر وہ وفاق کا نمائندہ تصور کیا جاتا ہے پولیٹیکل ایجنٹ کے اختیارات میں کمی کا کئی بار سوچا گیا لیکن نائن الیون کے بعد یہ عملاً ناممکن ہو کر رہ گیا قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن ‘ ڈیڑھ عشرہ سے شورش کی وجہ سے پولیٹیکل ایجنٹ کا کردار اہم ہو گیاہے خداخدا کرکے پہلی مرتبہ فاٹا کے انضما م پر سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کااتفاق ہوا اور فاٹا اصلاحات کی منظور ی کابینہ نے بھی دے دی مگر دوسیاسی جماعتوں نے بیچ میں آکر تمام عمل کو یرغمال بنا لیااور یوں پی اے کے اختیارا ت کے خاتمہ کی کوشش فی الحال تھم سی گئی ہے گویا ڈیڑھ سوسال بعداس استحصالی نظام اور ظالمانہ اختیارات کو دفن کرنے کاجو سنہرا موقع ملاہوا ہے اسے ضائع کیاجارہاہے اگر ایسا ہوا تو یہ قبائلی باشندو ں کے ساتھ بدترین زیادتی ہوگی اور اس کے بعدانکو اپنے دوست اور دشمن کی پہچان کرلینی چاہئے۔