بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / صوبے کے حقوق اور اداروں کا انتظام

صوبے کے حقوق اور اداروں کا انتظام

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے وفاق کو خیبر پختونخوا کے حقوق دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز بجلی‘ گیس اور تیل کا انتظام وانصرام صوبے کے حوالے کردے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ ہم کسی کو صوبے کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ واپڈا‘گیس اور نادرا کے محکمے وفاق کے پاس ہیں مگر لوڈشیڈنگ کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں اپنے صوبے سے متعلق پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہر سطح پر ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اور سب کو میرٹ پر وسائل فراہم کئے گئے ہیں۔جہاں تک خیبر پختونخوا کے حقوق اور واجبات کا تعلق ہے تو صوبے کے مخصوص حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس ضمن میں تاخیر کسی صورت نہیں ہونی چاہئے۔ امن وامان کی صورتحال نے مخصوص جغرافیے کے حامل اس صوبے کی پہلے سے کمزور معیشت کو مزید متاثر کرکے رکھ دیا ہے۔ وفاق کے ساتھ بعض معاملات طے پاجانے کے باوجود مختلف ادائیگیوں میں تاخیر نے ساری سعی کو بے ثمر کرکے رکھ دیا۔ این ایف سی اور دوسرے فورمز پر بہت سارے معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے جن میں تاخیر سے صوبے میں تعمیر وترقی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔

وزیراعلیٰ کی جانب سے وفا ق کے محکموں کی کارکردگی پر تشویش بالکل بجا ہے تاہم ضرورت خود صوبے کے اندر بھی محکموں کی کارکردگی نکھارنے کی موجودہے۔اسی طرح حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً ہونیوالے اعلانات پر عملدرآمد کی رفتار سے متعلق شکایات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی سوالیہ نشان ہے دستور میں ترمیم کے بعد وفاق سے مختلف محکموں کی صوبوں کو منتقلی کا معاملہ تکمیل کا منتظر ہے تاہم اس ضمن میں محکموں کا انتظام سنبھالنے کیلئے ہوم ورک کی ضرورت ہنوز موجود ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وفاق اور صوبوں میں انتظامی اصلاحات کیلئے ایک بڑی گنجائش موجود ہے جس سے مسلسل چشم پوشی کی جارہی ہے۔

سرکاری کالجوں میں داخلہ؟

صوبے کے تعلیمی بورڈز کی جانب سے میٹرک کے نتائج آنیکا سلسلہ جاری ہے ایک جانب یہ نتائج اس بات کے متقاضی ہیں کہ سرکاری سکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو دوسری طرف کامیاب ہونے والے طلباء و طالبات کی تعداد کے حساب سے سرکاری کالجوں میں نشستوں کو دیکھنا بھی ناگزیر ہے ضروری یہ بھی ہے کہ پرائیویٹ کالجوں کے معیار اور فیسوں کو بھی مانیٹرنگ کے دائرے میں لایا جائے تاکہ سرکاری اداروں میں داخلوں سے رہ جانے والوں کو آسانی کیساتھ نجی کالجوں میں داخلہ مل سکے اس سب کے ساتھ ضرورت ہائی سکولوں میں شروع کئے جانے والے ہائیر سیکنڈری کلاسوں کے انتظام پر نظر ثانی کرنے اور انکا دائرہ وسیع کرنے کی بھی ہے تعلیم کے فروغ کو ترجیحات میں سرفہرست رکھنے والی حکومت کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری اداروں میں داخلوں کیلئے دستاویزات کم سے کم رکھی جائیں داخلہ ملنے کے بعد اگر کسی دستاویز کی ضرورت ہو تو طلب کی جائے ہمارے ہاں خواتین داخلہ کیلئے حلف ناموں کی تیاری کیلئے کچہریوں میں جانے پر مجبور ہوتی ہیں انہیں یہ سروس کالجوں کے دفاتر ہی میں مہیا کی جائے تو بہتر ہوگا۔