بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / 8 دوست دریائے سندھ میں ڈوب گئے

8 دوست دریائے سندھ میں ڈوب گئے


اکوڑہ خٹک ۔اکوڑہ عید کے دوسرے روز دریائے سندھ میں کشتی الٹنے سے 8 دوست دریائے سندھ میں گر گئے 4 کوزندہ بچا لیا گیا جبکہ 4 دریائے سند ھ کی موجوں کی نذر ہو گئے۔ اکوڑہ کے موضع شیدو کے رہائشی8 دوست عید کے دوسرے دن سیروتفریح کے لئے حضرت جی جی بابا گئے جہاں پر انہوں نے دریائے سندھ کے کنارے کھڑی ملاح کی غیر موجودگی میں کشتی کی رسی کھول دی دریائے سندھ کے درمیان واقع خوشکی پر گئی اور صبح سے دوپہر تک کرکٹ کھیلنے کے بعد واپس حضرت جی جی بابا کی طرف آتے ہوئے دریائے سندھ کی وسعت میں کشتی کا توازن بگڑ جانے سے کشتی دریائے سندھ میں الٹنے سے کشتی میں سوار دوست دریائے سندھ میں گر گئے دریائے سندھ کے قریب کشتی بانوں غوطہ خوروں نے کشتی الٹتے دیکھ کر موقع پر پہنچ کر 4 افراد کو زندہ بچا لیا۔

جبکہ4 دریائے سندھ میں ڈوب گئے بعد رات گئے غوطہ خوروں نے چاروں کی لاشیں دریائے سندھ سے برآمد کر لی لاشوں کو ان کے ابائی گاؤں شیدو لایا گیا جہاں چاروں دوستوں کا جنازہ اٹھنے پر علاقے میں کہرام مچ گیا ہر انکھ نم تھی تفصیلات کے مطابق اکوڑہ خٹک کے موضع شیدو کے محلہ لہ لہ زار اور محلہ نورخان گڑھی کے رہائشی 8 دوست عید الفطر کے دوسرے دن سیر و تفریح کی عرض سے اپنے گاؤں شید و سے رکشہ میں سوار حضرت جی بابا گئے جہاں انہوں نے دریائے سندھ کے کنارے رسی سے باندھی کشتی جس کا ملاح کشتی کے پاس موجود نہیں تھا کشتی کو کھول کر 8 دوست کشتی میں سوار ہو کر دریائے سندھ کے درمیان واقع خشکی پر گئی اور کرکٹ کھیلتے رہے کرکٹ کھیلنے کے بعد تمام دوست دوبارہ حضرت جی بابا واپس آنے کے لئے کشتی میں سوار ہوئے جب کشتی دریائے سندھ کے وسعت میں پہنچی تو اسی دوران تربیلا ڈیم سے چھوڑا گیا پانی بھی دریائے سندھ میں شامل ہو رہا تھا جس کے باعث دریائے سندھ میں تیز موجوں کی لہر تھی کہ اس دوران اناڑی دوستوں سے کشتی کا توازن بگڑ گیا اور کشتی دریائے سندھ میں الٹ گئی جس سے کشتی میں سوار تمام دوست دریائے سندھ میں گر گئے دریائے سندھ کے کنارے کھڑے غوطہ خوروں اور کشتی بانوں نے جب کشتی التی دیکھی تو ڈوبے والوں کو بچانے کے لئے موقع پر پہنچ گئے اور 4 دوستوں کو زندہ بچا لیا گیا۔

جبکہ 4 دوست آیاز ولد میر بہادر منصور ولد حکیم خان عماد خان ولد انار گل مشعود خان ولد حاجی خان زادہ محلہ لہ لہ زار اور نور خان گڑھی دریائے سندھ کی موجوں کی نذر ہو گئے۔کشتی الٹنے کی اطلاع ملتے ہی گاوں میں کہرام مچ گیا اور گاوں سے ٹولیوں کی شکل میں لوگ حضرت جی بابا جانے لگے بعداز رات گئے چاروں دوستو ں کی لاشیں غوطہ خوروں نے دریائے سندھ سے برامد کر لی عید کے تیسرے دن چاروں دوستوں کے جنازے گھروں سے اٹھے گئے جبکہ اس موقع پر ہر انکھ نم تھی۔