بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / انور سیف اللہ کا قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا فصلہ

انور سیف اللہ کا قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا فصلہ


کرک ۔ پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی صدر انور سیف اللہ خان نے کرک سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی پیشکش قبول کر لی ، صوبائی حکومت جنوبی اضلاع سمیت صوبے میں بجلی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے گیس فراہمی یقینی بنائے کوہاٹ اور کرک میں پانچ ایک ہزار میگا واٹ کے دو پاور جنریشن پلانٹ لگانے کیلئے سرمایہ کاری کرونگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرک کے علاقے میٹھا خیل میں پارٹی عہد یداروں ، کارکنوں ومشران علاقے سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کیا ہے اس موقع پر پیپلز پارٹی کے صدر حاجی سردار ، جنرل سیکرٹری جہانزیب خٹک ،سابق ضلعی صدر خورشید عالم دیگر عہد یدار احمد جان ایڈووکیٹ ، طارق بازید خیل ، احمد جان ایڈووکیٹ ، محمد امیر ایڈووکیٹ و دیگر موجود تھے انور سیف اللہ خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ کرک اور خٹک برادری سے دلی لگاؤ اور ’’ ماما‘‘ کا مضبوط رشتہ ہے اور میری رگوں میں دوڑنے والے خٹک ماں کے خون پر مجھے فخر ہے ۔

کارکنوں کے پیشکش قبول کرتا ہوں اگر پارٹی کے بڑو ں نے اجازت دی اور خٹک برادری نے اپنے بھانجے کو سپورٹ کرنے کے عزم کا اظہار کیا تو کرک سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑونگا انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے سیف اللہ برادران پر ابھی تک ایک پائی کی کرپشن کا الزام نہیں لگا سابق صدر پرویز مشرف نے ڈیڑھ سال تک جیل میں رکھا لیکن کچھ بھی ثابت نہ کرسکا پیپلز پارٹی کی حکومت میں بے نظیر بھٹو شہید کی حکم پر 30ہزار سے زائد پارٹی کارکنوں کو نوکریاں دیں پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے صوبے میں پارٹی کو مضبوط کیا 2013کے الیکشن میں اے این پی سے زیادہ سیٹیں حاصل کیں ، خود فیصلے کرتا تھا اور کہا کہ موجودہ صوبائی صدر ھمایون خان میں فیصلے کی قوت نہیں اسے بار بار کہتا ہوں کہ اہم ذمہ داری نبھانے کیلئے اپنے آپ میں فیصلہ کرنے کی جرت پیدا کروانہوں نے مزید کہا کہ جنوبی اضلاع کی سی پیک منصوبے سے محرومی کے ذمہ دار تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان ہیں سی پیک کے حوالے سے ہونے والے اہم فیصلوں کے وقت عمران خان دھرنے دیتا رہا اور وہاں نواز شریف اپنا کام نکالتا رہا اور بعد میں دونوں لیڈروں نے اپنے اپنے علاقوں کو سی پیک میں شامل کرکے خاموشی اختیار کر لی۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں مزید کہا کہ میں نے حکومت کو کرک سے نکلنے والے تیل و گیس سے بھرپور استفادہ کیلئے کوہاٹ اور کرک میں الگ الگ ریفائنریز لگانے اور پاور جنریشن پلانٹ لگانے میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی لیکن کوئی جواب نہ مل سکا دوبارہ اعلان کرتا ہوں کہ اگرصوبائی حکومت نے گیس فراہمی یقینی بنائی اور این او سی جاری کیا تو کرک اور کوہاٹ میں پانچ سو، پانچ سو میگا واٹ کے دو پاور جنریشن پلانٹ لگانے میں سرمایہ کاری کرونگا جس سے جنوبی اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے زیادہ تر اضلاع میں بجلی کی فراہمی ہو گی اور صوبے کو اس کا منافع بھی ملے گا ۔