بریکنگ نیوز
Home / بزنس / چینی منصوبے کی عالمی سطح پر پذیرائی

چینی منصوبے کی عالمی سطح پر پذیرائی

بیجنگ۔ وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی واصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکا ہے،سی پیک اس منصوبے کا علم بردار حصہ ہے جس میں دو سال کی قلیل مدت میں 50بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے چین کے شہر دالیان میں نئے چمپیئنز کے اجلاس جسے سمر ڈیوس بھی کہا جاتا ہے میں شرکت کی، انھوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکا ہے، چین کااوبور منصوبہ صرف اور صرف خطے اور علاقے کو آپس میں ملاتے ہوئے دنیا بھر میں انسانی ترقی کی معراج کا منصوبہ ہے۔

،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) اس منصوبہ کا علم بردار حصہ ہے جس میں دو سال کی قلیل مدت میں 50بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، وفاقی وزیر نے 27سے28جون تک منعقدہ نئے چمپیئنز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ جنوبی ایشیا ،چین اور وسطی ایشیا دونوں کی ترقیاتی شرح نمو میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ اس منصوبہ کی بدولت خطے کی 3بلین آبادی نے جزوی طور پر ابھی سے معاشی فوائد حاصل کرنا شروع کردیئے ہیں۔ انھوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ سی پیک منصوبہ میں توانائی اور بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ جات مزید سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اس سرمایہ کاری کی بدولت ترقی کے مراحل کو تیزی سے طے کیا جاسکے گا۔ یہ مستحکم اضافہ کے لیے اور ترقی پذیر شعبہ جات میں مزید استحکام لانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے وفاقی وزیر نے ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ سال اس بات کا گواہ ہیں کہ پاکستان کی معیشت نے بہتری کے اشارے دئیے ہیں۔

بجٹ خسارہ 9فیصد سے کم ہوکر 4.5فیصد اور غیر ملکی کرنسی کے ذخائر گزشتہ سالوں کی نسبت دوگنا ہوچکے ہیں۔ گز شتہ 10برسوں کے مقابلے میں ڈی جی پی کی شرح نموبلندی کی انتہائی سطح کو چھورہی ہے۔اس حقیقت کو انٹرنیشنل فنانشل انسیٹیوشنز نے سرہا ہے اور ان کا ثبوت حالیہ برسوں میں پاکستان کے اندر بیرونی سرمایہ کاری کا اضافہ ہے وفاقی وزیر نے مزید کہا ہے کہ جب پاکستان تعاون کے سلسلہ میں کچھ مشکلات کا شکار تھا اسے کامیابی کے ساتھ ختم کردیا گیا۔ اور یہ پاکستان کی سیاسی لیڈر شپ کے ساتھ ساتھ پاکستانی معاشرہ کے تمام سٹیک ہولڈرز کی بدولت ممکن ہوا۔ سی پیک نے شروعات میں ہی جروی طور پر فائدہ پہنچاناشروع کردیا ہے جس میں توانائی کے شعبہ میں بہتری اورخطے کے پسماندہ علاقہ جات کو ترقی یافتہ علاقے سے منسلک کردیا ہے۔