بریکنگ نیوز
Home / بزنس / متعدد عالمی چینز نے پاکستان سے خریداری روک دی

متعدد عالمی چینز نے پاکستان سے خریداری روک دی

کراچی: ورلڈگورننس انڈیکس میں پاکستان کومطلوبہ پوائنٹس نہ ملنے کے باعث متعدد عالمی خریدارچینزنے پاکستانی مصنوعات کی درآمدات روک دی ہیں۔

پاکستان گزشتہ 6 سال سے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور آئی ایل او کے ’’بیٹرمنٹ ورک پروگرام‘‘ سے محروم ہے یہی وجہ ہے کہ ناموربین الاقوامی خریدار کمپنی میسرزوالٹ ڈزنی کارپوریشن نے گزشتہ پانچ سے پاکستانی مصنوعات کی خریداری ودرآمدات بند کردی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ورلڈگورننس انڈیکس (ڈبلیوجی آئی)دنیا بھر کے ممالک کا مجموعی انڈیکس جاری کرتا ہے، ایسے ممالک جہاں ورلڈگورننس انڈیکس مطلوبہ پوائنٹس کا حامل نہ ہو وہاں آئی ایف سی انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن کے توسط سے’’بیٹرمنٹ ورک پروگرام‘‘ متعارف کراتا ہے لیکن اس پروگرام کوشروع کرنے کے لیے متعلقہ ملک کی حکومت کوآئی ایل او کے توسط سے رابطہ کرنا پڑتا ہے جس کے بعد آئی ایف سی ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے کر اس ملک میں بھجواتی ہے جو وہاں جاکرتمام صنعتی شعبوں کے ورکروں کی ضروریات سے مطابقت رکھنے والے 8 بنیادی حقوق کی دستیابی کے علاوہ متعلقہ سرکاری اداروں ومحکموں کی اس ضمن میں سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان سال2010 سے بیٹرمنٹ ورک پروگرام میںشمولیت کے لیے جدوجہد کررہا ہے، اس دوران بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ہیٹی، انڈونیشیا، جورڈن، نکاراگوا اور ویتنام کوالیفائی کرچکے ہیں لیکن امکان ہے کہ رواں سال پاکستان کو بھی اس پروگرام میں شامل کرلیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن(آئی ایل او) نے پاکستان سمیت دیگر درخواست گزار ممالک میں2017 کے دوران پروگرام برائے بہتر کام (بیٹرورک پروگرام) کی فزیبلیٹی کاجائزہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سال 2014 میں دنیا بھر کے گورننس انڈیکس (ورلڈگورننس انڈیکس) کے مطلوبہ پوائنٹس نہ ہونے اور نہ ہی آئی ایل او کے پروگرام برائے بہتر کام(بیٹرورک پروگرام) نافذالعمل ہونے کے باعث والٹ ڈزنی کارپوریشن نے پاکستان سے اپنا کاروبار ختم کردیا تھا۔ والٹ ڈزنی کے اس فیصلے کے نتیجے میں ایکسپورٹ ریونیو کو بھاری نقصان کے ساتھ بے روزگاری میں اضافے کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے آئی ایل او کے پروگرام برائے بہتر کام (بیٹرورک پروگرام)  میں شمولیت کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری کی وزارت نے اس مسئلے کو مختلف سطحوں پر اٹھایا جس کے نتیجے میں اب پاکستان کو مطلع کیا گیا ہے کہ آئی ایل او نے پاکستان میں بی ڈبلیو پی کی فزیبلیٹی کے مطالعے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ فزیبلیٹی کی جانچ پڑتال کا ٹائم ٹیبل آئی ایل او کی ٹیم اسلام آباد اور جنیوا میں تیار کرے گی۔

دوسری جانب پاکستانی وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری نے اس مسئلے کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے ملک بھرکی ٹیکسٹائل، گارمینٹس، ہوزری، نٹ ویئر،ٹاولز، بیڈویئرسمیت دیگرتمام ایسوسی ایشنز کو باقاعدہ خطوط ارسال کیے ہیں جس میں ان سے آئی ایل او کے متوقع مشن کے پیش نظر بی ڈبلیو پی کی قبل از وقت تیاری اور بی ڈبلیو پی کی شروعات یقینی بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔