بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں کا آغاز

مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں کا آغاز

واشنگٹن۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم ممالک کے باشندوں پر سفری پابندیوں کے متنازع فیصلے کی حمایت کے بعد امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ریاست میں داخلی راستوں کے تمام پورٹس پر پابندی کے اطلاق کا حکم جاری کردیا،اس پابندی پر عمل درآمد کا آغاز فیصلہ جاری ہونے کے 72 گھنٹے کے بعد سے ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی کے قانون کی جزوی بحالی کے بعد ان افراد پر امریکی ویزوں کے حصول کے لیے نئی شرائط نافذ العمل ہو گئی ہیں۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کا صدارتی عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے ذریعے ایران، سوڈان، شام، لیبیا، صومالیہ اور یمن کے شہریوں پر امریکا میں داخل ہونے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 27 جنوری کے اس فیصلے میں عراق بھی شامل تھا تاہم بعد ازاں امریکی فوج کی یہاں موجودگی کے باعث عراق کو مذکورہ پابندی کی فہرست سے نکال دیا گیا، اس حکم کے ذریعے شام کے مہاجرین کو بھی ملک میں آنے سے روک دیا گیا ہے۔واشنگٹن سے جاری بیان میں گہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے، ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد کا آغاز کررہا ہے، جس کا مقصد قوم کو غیر ملکی دہشت گردوں کے امریکا میں داخلے سے محفوظ کرنا ہے۔

یاد رہے کہ پیر کے روز سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفری پابندی کے حکم کی اجازت دی تھی۔امریکی صدر نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو قومی سلامتی کی کامیابی قرار دیا۔ایک جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بحیثیت صدر، میں ایسے لوگوں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت نہیں دوں گا جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہوں، میں ایسے لوگوں کو چاہتا ہوں جو امریکا اور اس کے تمام شہریوں سے محبت کرتے ہیں، اور جو محنت کرنے والے اور پیداواری ہوں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا مزید کہنا تھا کہ وہ ڈپارٹمنٹ آف جسٹس اینڈ ہوم لینڈ سیکیورٹی سے مشاورت کے بعد مزید تفصیلات جاری کریں گے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے امریکا میں قانونی طور پر مقیم افراد کے عزیزوں کو اس پابندی سے مستثنی قرار دیا ہے جن میں طلبا بھی شامل ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس فیصلے سے کون اور کتنے افراد متاثر ہوں گے۔انسانی حقوق کے رضاکاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ نقصادہ ہے اور یہ مہاجرین کے عمل کو متاثر کرسکتا ہے۔

امریکا کی کمیٹی برائے مہاجرین اور پناہ گزین کی چیف ایگزیکٹو اور صدر لاوینا لیمون نے ایک جاری بیان میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس فیصلے نے لوگوں کو مجروح کیا ہے اور اس حوالے سے بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ وہ دو سال کے انتظار کے بعد اگلے ہفتے امریکا سفر کرنے والے تھے اور انھوں نے اپنے تمام اثاثے فروخت کر دیئے تھے۔اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے والی امریکن سول لبرٹیز یونین کا کہنا تھا کہ مشترکہ تعلقات کی شق ان 6 ممالک کے منظور کردہ ویزا درخواستوں پر بھی لاگو ہوگی۔