بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ریلوے ٹریک کی ان مینڈلیول کراسنگ زندگی کیلئے خطرہ

ریلوے ٹریک کی ان مینڈلیول کراسنگ زندگی کیلئے خطرہ


پشاور۔ریلوے ٹریک کی مین لائنوں پر بغیر گیٹ کے پھاٹکوں نے نہ صرف ٹرین کے سفر کو غیرمحفوظ کردیا ہے بلکہ ان سے گزرنے والے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات ہیں۔ پشاور سمیت صو بے کے دیگر اضلاع میں بھی ریلوے لائن کے ارد گرد تجاوزات کی بھر مار ہے اور ہشتنگری پھاٹک کو تجا وزات نے گھیر رکھا ہے یہاں نہ صرف کپڑے کی مارکیٹیں قائم کی گئی ہیں بلکہ فروٹ اور سبزی منڈی بھی ہے ۔

با اثر افراد کی طر ف سے قبضہ میں لی گئی اربو ں روپے مالیت کی قیمتی سر کاری اراضی کا کوئی پرسان حال نہیں ٗ جس کی وجہ سے ہر سال درجنو ں افراد ٹرین کے حادثات کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پھاٹکوں کے چاروں اطراف سے بغیر کسی آگاہی کے 24گھنٹے جاری رہنے والی آمدورفت سے مزید حادثات رونما ہونے کا خدشہ ہے۔ زیادہ تر حادثات موسم سرما میں دھند کی وجہ سے پیش آتے ہیں اور اب تک سینکڑوں معصوم شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔

محکمہ ریلوے اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مکمل تعاون نہ ہونے اور فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر پھاٹک نہیں لگائے جاتے۔ ریلوے ٹریک پر بنائے گئے زیادہ تر بغیر پھاٹک کے کراسنگ صرف اور صرف جاگیرداروں، وڈیروں اور زمینداروں کی زمین کو راستہ دیکر ان کی قیمتوں میں اضافہ کیلئے بنائے گئے ہیں ریلوے ٹریک پر کل 4072 کراسنگ ہیں جن میں سے 1341 مینڈ لیول کراسنگ جبکہ 2731 ان مینڈ لیول کراسنگ ہیں جن میں سے 400 ان مینڈ لیول کراسنگ انتہائی خطرناک ہیں جہاں حادثات کی تعداد سب سے زیادہ ہے تمام ان مینڈ لیول کراسنگ کو مینڈ لیول کراسنگ میں تبدیل کرنے کیلئے 11 ارب روپے کے اخراجات درکار ہیں جبکہ یہاں تعیناتی کیلئے 9423 گیٹ کیپر بھی درکار ہوں گے۔