بریکنگ نیوز
Home / کالم / غلط لوگوں کو نہ اپنائیں

غلط لوگوں کو نہ اپنائیں

جنگ آزادی میں یوں تو کئی لوگوں نے انفرادی اور اجتماعی قربانیاں دیں پر سیاسی طور پر مسلم لیگ اور کانگریس نے بہت جدوجہد کی تھی تقسیم ہند کے بعد کانگریس بھارت میں تو مسلم لیگ پاکستان میں اقتدار میں آئی یوں تو کانگریس سے بھی کئی لیڈر ٹوٹ کر دوسری سیاسی پارٹیوں میں جاگھسے یا انہوں نے اپنی ایک علیحدہ پارٹی یا گروپ بنالیا پر جتنا شکست وریخت کا عمل مسلم لیگ میں دیکھنے میں آیا وہ شاید ہی پاکستان اور بھارت کے اندر کسی اور سیاسی تحریک میں دیکھنے میں آیا ہو لہٰذا یہ خبر پڑھ کر ہمیں چنداں حیرت نہ ہوئی کہ پاکستان کی خالق جماعت کے 26کے قریب حصے بخرے ہوچکے ہیں اگر آپ ایک طائرانہ نظر مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں پر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ کن کن ناموں سے سرگرم عمل ہیں مثلاً (ن) لیگ ‘پاکستان مسلم لیگ‘ مسلم لیگ ضیاء‘ مسلم لیگ فنکشنل‘عوامی مسلم لیگ‘مسلم لیگ ہم خیال‘ مسلم لیگ جونیجو‘مسلم لیگ شیر بنگال‘ پاکستان نیشنل مسلم لیگ ‘پاکستان مسلم لیگ حقیقی‘ متحدہ مسلم لیگ ‘پاکستان مسلم لیگ کونسل‘مسلم لیگ جناح‘ پاکستان فاطمہ جناح مسلم لیگ‘قیوم مسلم لیگ ‘متحدہ لیگ سرفراز‘پاکستان مسلم حسینی‘مسلم لیگ زہری‘ مسلم لیگ نظریاتی اور پاکستان وومن مسلم لیگ اب آپ خود ہی اندازہ کرلیجئے گا مسلم لیگیں اتنی زیادہ ہوگئی ہیں کہ اب وہ انگلیوں پر گنی نہیں جاسکتیں جس وقت ایوب خان نے ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹی تو کئی سرکردہ مسلم لیگی لیڈروں نے ان کے سامنے زانوائے تلمذ تہہ کیا اس طرح جب ضیاء الحق تشریف لائے تو پھر بھی مسلم لیگیوں نے انہیں بیساکھیاں مہیا کیں البتہ ان کیساتھ دیگر سیاسی پارٹیوں کے بعض رہنما بھی شامل تھے جب جنرل مشرف ایوان اقتدار میں داخل ہوئے تو ان کے اقتدار کو دوام دینے والے بھی تو یہی لوگ تھے مسلم لیگ کو پہلی شدید ضرب اس وقت لگی کہ جب چند مسلم لیگیوں نے فاطمہ جناح کے مقابلے میں کنونشن مسلم لیگ بناکر ایوب خان کی کھلم کھلا حمایت کی جو دھڑا فاطمہ جناح کی حمایت کررہا تھا وہ کونسل مسلم لیگ کے نام سے پہچانا جاتا تھا پی پی پی کی جب بھٹو نے بنیاد رکھی تو اس میں بھی کئی مسلم لیگی شامل ہوگئے ۔

یہ جن دھڑوں کے نام ہم نے اوپر کی سطور میں رقم کئے ان میں سے ہر ایک پارٹی ایک فرد یا ایک خاندان کے ارد گرد گھومتی ہے جب تک وہ زندہ ہیں یا برسراقتدار ہیں پارٹی بھی موجود رہے گی جب ان کواوپر سے بلاوا آگیا تو ان کا کھیل ختم ہی سمجھ لیجئے اور حیرت اس بات کی ہے کہ ان میں ہر ایک پارٹی لیڈر اپنے آپ کو قائداعظم کا حقیقی وارث تصور کرتا ہے حالانکہ اپنے کردار‘فلسفے اور سوچ کے لحاظ سے اس کا بانی پاکستان کے افکار کے ساتھ دور دور تک کا بھی کوئی واسطہ نہیں کئی دیگر سیاسی پارٹیوں میں بھی ہماری نظروں کے سامنے دراڑیں پڑیں مثلاً جے یو آئی دو دھڑوں کا شکار ہوئی جے یو پی کے بھی ٹکڑے ہوئے اے این پی میں بھی خلیج پڑی‘ پی پی پی سے بھی بعض سیاسی رہنماؤں نے اپنی راہیں جدا کیں اور علیحدہ سیاسی پارٹی بنائی ایم کیو ایم بھی اب کئی دھڑوں میں تقسیم ہے یہ وہ بدقسمت ملک ہے کہ جس میں ایک سیاسی پارٹی کو چھوڑ کر دوسری سیاسی پارٹی کو جائن کرنا کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا برطانیہ میں ایک مرتبہ سرونسٹن چرچل اپنی سیاسی پارٹی کو جو کنزرویٹو پارٹی یا ٹوری پارٹی کہلاتی ہے کو چھوڑ کر کچھ عرصے کے لئے لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی میں شامل ہوگئے تھے اور اس پر آج تک مورخین نے انکو معاف نہیں کیا۔